لبنان میں سیاسی بحران نازک دوراہے پر

0

لڑکھڑاتیقدموںکے ساتھ لبنان کے صدر جنرل(سبکدوش) مائیکل نعیم عون نے صدارتی محل چھوڑدیا ہے ۔ اگرچہ وہ اپنی مدت کار جوکہ چھ سالوں پر مشتمل تھی پوری کرچکے ہیں مگرجن حالات میں وہ عہدہ سے سبکدوش ہوئے ہیں وہ انتہائی سخت اور لبنان کی سیاسی خلفشار کا ایک نازک دور ہے۔ جنرل عون کا شمار لبنان کے ان چند فوجی سربراہوںمیں ہوتا ہے جو کہ صرف 49سال کی عمر میں فوج کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچے۔ یہ دور وہ تھا جب لبنان میں بدترین قسم کی خانہ جنگی مچی ہوئی تھی اور مختلف خیموں اور گروپوںمیں بنٹے ہوئے لبنانی ایک دوسرے کا خون پی رہے تھے۔ لبنان کی سڑکیں لہولہان تھیں۔ بیروت جیسا ترقی یافتہ مغربی طرز کا شہر دنیا کے سب سے خوش حال شہروںمیں شامل تھا مگر اس خانہ جنگی نے لبنان کی سڑکوں پر خون کی نہریں بہا دیں۔
جنرل عون لبنان کی سیاسی جماعت فری پیٹریٹک موومنٹ (Free Patriotic Movement)کے لیڈر ہیں اور لبنان کے عیسائی فرقے کے اہم ترین لیڈروں میں شامل ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے جب وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوکر صدارتی محل کے باہر جارہے تھے تو اس وقت ان کا کوئی وارث منتخب نہیں ہوا تھا۔ جنرل عون چاہتے ہیں کہ ان کے داماد جبران باسل کو ان کا وارث مقرر کردیا جائے مگر اقتصادی اور سیاسی بحران کے شکار اس ملک میں ابھی تک ان کے وارث کے نام پر کوئی اتفاق نہیں ہوپایا ہے اور وہ کسی دوسرے کارگزار صدرمیتاکی کو ذمہ داریاں سپر د کرکے گھر واپس لوٹ گئے۔ ان کا داماد باسل 2015میں ان کی سیاسی جماعت فری پیٹریٹک موومنٹ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ ایک زمانہ وہ تھا جب جنرل عون کے حریفوںمیں ان کے نام سے دہشت پھیل جاتی تھی۔ جنرل عون کا عہدہ سے سبکدوش ہونا کئی معنوںمیں اہمیت کا حامل ہے۔ اولاً یہ کہ جنرل عون اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے چند دنوں بعد سبکدوش ہوئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ لبنان اور انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ کے درمیان جس اقتصادی پیکیج پر گفتگو ہورہی تھی۔ وہ ان کی عہدہ سے استعفیٰ کے بعد ادھوری رہ گئی ہے اور انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ جوکہ طویل عرصہ سے خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں اقتصادی اور سیاسی استحکام چاہتا ہے۔ جنرل عون کی قیادت والے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔ لبنان میں اس وقت نہ صرف سیاسی اوراقتصادی بحران ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لبنان غذائی بحران سے بھی گزر رہا ہے۔ یہ صورت حال ہر طبقہ اور ہر فرد کو متاثرکر رہی ہے۔ یوکرین میں روس کے حملے کے بعد پوری دنیا میں جو توانائی اور غذائی بحران پیدا ہوا ہے اس کا سب سے زیادہ اثر بحرروم کے ساحل پرواقع اس ملک پر پڑا ہے۔ لبنان میں ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ سیاسی خلفشار نے اقتصادی بحران کو اور سنگین بنا دیا ہے۔ پچھلے دنوں ترکی کی مصالحت اور مداخلت سے روس اور یوکرین کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس کی رو سے لبنان کو ایک اچھی خاصی غذائی اجناس کی کھیپ پہنچ گئی ہے اور وہاں پر حالات پہلے کے مقابلے میں بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔ مگر بحران ابھی ٹلا نہیں ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ نے لبنان کو حال ہی میں تین بلین امریکی ڈالر کی مدد کرنے پر ابتدائی اتفاق رائے ظاہر کیا ہے۔ مگر مائیکل عون کے استعفیٰ سے مذاکرات ادھورے پڑ گئے ہیں۔ خیال رہے کہ صدر کے عہدے پر تقرری وہاں کی پارلیمنٹ کے ذریعہ کی جاتی ہے مگر سیاسی بحران کی وجہ سے شیعہ ملیشیا، عیسائیوں اور دروز طبقات میں کسی نام پر اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے جیسا کہ اوپر کی سطروںمیں بتایا گیا ہے کہ مائیکل عون اپنے داماد کو صدر کے عہدے پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں مگر جنرل عون کی حمایت کرنے والے سیاسی فریقوں کو ان کے داماد کے نام پر اتفاق نہیں ہے لہٰذا وہ بغیر کسی وارث کے انتخابات کے صدارتی محل سے باہر آگئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لبنانی پارلیمنٹ سیاسی بحران کو کس حد تک اور کتنی جلدی دورکرتی ہے۔
صدر مائیکل عون نے لبنان سیاست کے خراب اور خوشحال دور میں سرگرم رہے ہیں۔ آج عہدے سے سبکدوش ہوتے ہوتے بھی لبنان تقریباً اس صورت حال سے گزر رہا ہے جس سے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے گزر رہا تھا۔ 2006 میں مائیکل عون نے پرانے حریف حزب اللہ کے ساتھ سمجھوتہ کرکے ملک کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ اس وقت ونوں سیاسی حریف کرپشن کے خلاف جدوجہد کے نام پر ساتھ آئے تھے۔ صدر عون کے ایک زمانے میں شام کے ساتھ تعلقات بہت خراب تھے اور شام کافی حد تک لبنان میں اثرورسوخ رکھتا تھا۔ مگر 2005 کے اوائل میں مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے بعدشام کے خلاف زوردار عوامی مظاہروں کی وجہ سے شام کی افواج کا لبنان سے انخلا ممکن ہوسکا۔
خیال رہے کہ رفیق حریری ملک میں خانہ جنگی کے خلاف تھے اور تمام سیاسی امور پر باہمی تبادلہ خیال کے ساتھ حل کرنے کی خواہش مند تھے۔ شام اور رفیق حریری کے بیٹے سعید حریری کے درمیان سمجھوتے کے بعد لبنان سے شام کی فوج کا نخلا ہوا۔ مائیکل عون نے شام کے ساتھ پرانی تلخیوں کو بھلانے اور نئے دور کا آغاز کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح غذائی اور توانائی بحران کے دوران پڑوسی دشمن ملک اسرائیل کے ساتھ ایک سمجھوتے کے ذریعہ بحر روم میں قدرتی گیس نکالنے کی کوششوں کو ممکن بنایا۔ اس سمجھوتہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے۔
حزب اللہ سے سیاسی شراکت داری، شام سے رشتوں کی استواری اوراسرائیل کے ساتھ بحرروم میں قدرتی گیس کی تلاش ساجھیداری (کامعاہدہ) نے عون اور ان کی شاندار شخصیت کو امربنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مائیکل عون اپنے داماد جبران باسل اوراپنے چہیتے بھتیجے ممبرپارلیمنٹ العین عون کے درمیان اختلافات کو حل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوںنے باسل کو اپنی سیاسی جماعت کا سربراہ مقرر کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اصل سیاسی وارث باسل ہی ہے۔ مگر غیریقینی سیاسی صورت حال میں جب وزیراعظم کا عہدہ بھی خالی صدر کے عہدے پر عارضی انتظام لبنان کے لئے نیک فال نہیں۔
٭٭٭