موربی حادثہ: حکومت اور میڈیا کا رویہ

0

گجرات میں27سال سے بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت ہے اور گزشتہ 9برسوں سے تو ’ ڈبل انجن کی سرکار‘ میں ترقی کے دعوے پہلی دنیا کے ممالک کو بھی شرما رہے ہیں۔ پورے ملک میں ’گجرات ماڈل ‘ کا ڈھنڈورہ پیٹاجارہاہے۔ترقی کے ہر کام اور ہر اسکیم کو گجرات ماڈل کی بازگشت بتائی جارہی ہے۔لیکن کیا حقیقت بھی یہی ہے ؟ کیا گجرات ماڈل نام کی کوئی چیز اپنا وجود بھی رکھتی ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کا اپوزیشن وقتاً فوقتاً جواب دیتا رہا ہے لیکن موربی حادثہ کے بعد یہ سوالات اب ہر ہندوستانی کے ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ یہ پوچھا جا رہا ہے کہ یہ ترقی کا کون سا ماڈل ہے جس میںڈیڑھ سو افراد موت کی آغوش میں سماجاتے ہیں اور الزام بھی ان کے سر ہی ڈالاجاتاہے۔
اس دل فگار حادثہ نے پورے ملک میں غم و اندوہ کی لہر دوڑادی ہے۔سرمایہ کاروں، بدعنوان سرکاری اہلکاروں اور سیاست دانوں کی غلط کاریوںنے درجنوں مائوں کی گود اجاڑ دی ہے تو درجنوں عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کردیاہے۔ لیکن شرم ناک بات یہ ہے کہ مرنے والوںکو ہی ان کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایاجارہاہے۔حادثہ کیلئے طرح طرح کی تاویلات پیش کی جارہی ہیں، نت نئی توجیہات لاکر معاملہ کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔گجرات حکومت کی ان کوششوں کو نام نہاد قومی میڈیا کا سہارا بھی ہے۔کوئی چینل اس حادثہ کیلئے سیکورٹی گارڈ کو ذمہ دار ٹھہرارہاہے تو کوئی ٹکٹ بیچنے والے کو قصور وارٹھہراکر اس کے گلے میں پھانسی کے پھندے کا مطالبہ کررہاہے۔ سوشل میڈیا پر تو ایسے ویڈیو کاسیلاب سا آگیا ہے جس میں دکھایاجا رہا ہے کہ کچھ شرارتی عناصر اس کیبل پل کو ہلارہے ہیں اور ان کے ہلانے کی وجہ سے یہ پل گرا اور وہ خود بھی موت کی گود میں جاسمائے۔ کچھ بھکت چینل اور سوشل میڈیااکائونٹس تو ایسے بھی ہیںجو کہہ رہے ہیں کہ موربی پل پر لگائے گئے انتباہی پیغام پر کسی نے توجہ نہیں دی اور جھولے کا لطف اٹھانے کیلئے ٹکٹ خرید کرپل پر جاچڑھے۔ مرنے والوں نے خود ہی حادثہ کو دعوت دی تھی، وہ مزہ لینے کیلئے پل کو ہلارہے تھے، اس وجہ سے پل ٹوٹ کر گرگیا۔اس لیے حادثہ کی ذمہ داری ان سب کو اٹھانی ہوگی۔ جی ہاں مرنے والوں کو بھی اس حادثہ کاذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موربی حادثہ نے گجرات ماڈل کو بھرے چوراہے پر برہنہ کردیا ہے۔موربی کیبل پل کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری جس کمپنی کو دی گئی تھی، اس کمپنی کا بنیادی کام گھڑی بنانا، سی ایف ایل بلب بنانا اور مچھر بھگانے والے کوائل بنانا تھا۔ بغیر کوئی ٹنڈر جاری کیے15برسوں کیلئے موربی کیبل پل کی مرمت اور دیکھ ریکھ کا کام اس کو سونپ دیاگیااورائیواکمپنی کویہ کام اس لیے دیاگیاکہ اس کے تعلقات حکمراں جماعت کے اعلیٰ لیڈروں سے تھے۔پل کو مرمت کے نام پر 7-8 مہینے تک بند رکھا گیا اور پھراکتوبر کے آخری دنوںمیں پل کو اچانک کھول دیا گیا۔ اس پورے عمل میں اورائیوا کمپنی، مقامی بلدیہ، ضلعی انتظامیہ اور گجرات حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی وزارت سیاحت بھی شامل تھی۔ اتوار کو چھٹھ کے موقع پر زیادہ پیسہ کمانے کیلئے اس کمپنی نے100افراد کی گنجائش والے پل پر جانے کیلئے 675 افراد کوٹکٹ بیچ ڈالا۔لیکن گجرات حکومت کی جانب سے حادثہ کے بعد درج کی جانے والی ایف آئی آر میں اس ’اورائیوا کمپنی‘ کے مالک کا نام تک نہیں ہے، جس نے سیفٹی اورفٹنس سرٹیفکیٹ لیے بغیر ہی اس کیبل پل کا افتتاح کردیا۔ گرفتار کیا گیا ہے تو ان 9افراد کو جو اس کمپنی کے ملازم ہیں۔ مقامی حکام میں شامل ان افسران کے خلاف کوئی بھی مقدمہ نہیں بنایاگیا ہے جو اس پل کی نگرانی کے ذمہ دارتھے۔
حادثہ کی نوعیت خود بتا رہی ہے کہ اس کی اصل وجہ نظام میں بدعنوانی اور حکام و افسران کی ساز باز ہے، اس کی ذمہ داری سائٹ منیجر، ٹکٹ ڈسٹری بیوٹراور سیکورٹی گارڈ پر نہیں ڈالی جاسکتی ہے لیکن گجرات حکومت کا رویہ اور نام نہاد قومی میڈیا کا مکروہ کرداریہ بتارہاہے کہ اصل گنہگاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعظم کے دورہ سے قبل راتوں رات اسپتال کی مرمت، رنگ و روغن اور مریضوں کو نیا پلاسٹر چڑھاکر گجرات حکومت نے اپنی بے حسی پرخود ہی تصدیق کی مہر بھی لگادی ہے۔ایسے میں حادثہ کی جانچ کیلئے بنائی گئی ریاستی حکومت کی 5نفری کمیٹی سے بھی کوئی خاص توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔
موربی حادثہ جسے دوسرا گجرات قتل عام بھی کہاجاسکتا ہے، کی بے لاگ جانچ اور حقائق کو سامنے لاکرمجرموں کو سزایاب کرانے کیلئے اعلیٰ عدالتی تحقیقاتی کمیشن بٹھایا جانا ناگزیر ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں 14نومبر کو مفادعامہ کی عرضی پر سماعت ہونی ہے، دیکھنا ہے کہ عدالت تحقیقات کیلئے کوئی کمیشن مقرر کرتی ہے یا نہیں۔
[email protected]