کہاں معدوم ہو رہے ہیں قبائلی

0

پنکج چترویدی

جھارکھنڈ ریاست کی70فیصد آبادی کا تعلق33قبائلی برادریوں سے ہے۔ حال ہی میں ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ یہاں10ایسے قبائل آباد ہیں جن کی آبادی نہیں بڑھ رہی ہے۔ وہ نہ صرف معاشی، سیاسی اور تعلیمی لحاظ سے کمزور ہیں بلکہ ان کی آبادی میں مسلسل کمی کی وجہ سے ان کے ناپید ہونے کا خطرہ بھی ہے۔بالکل اسی طرح کا بحران بستر کے علاقے میں بھی دیکھا گیا، جہاں چھتیس گڑھ ریاست کی آبادی کی شرح میں سالانہ اضافہ 4.32 فیصد ہے، وہیں بیجاپور جیسے اضلاع میں آبادی میں اضافہ کے اعداد و شمار19.30سے کم ہوکر8.76رہ گئے۔ خیال رہے کہ ملک کے دو تہائی قبائلی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، گجرات اور راجستھان میں رہتے ہیں اور یہاں ان کی آبادی مسلسل کم ہونے کے اعداد و شمار ہیں۔ ہمیں یاد کرنا ہوگا کہ انڈمان نکوبار اور کچھ شمال مشرقی ریاستوں میں گزشتہ چار دہائیوں میں بہت سی قبائلی برادریاں غائب ہوگئیں۔ ایک قبیلے کے ساتھ اس کی زبان، بولی، عقائد، رسومات، کھان پان، قدیم علم سب کچھ غائب ہو جاتا ہے۔
جھارکھنڈ میں قدیم قبائل کی تعداد میں کمی کے اعداد و شمار بہت حیران کن ہیں جوکہ 2001میں 3 لاکھ87ہزار سے کم ہو کر2011میں2 لاکھ 92ہزار رہ گئے ہیں۔ یہ قبائل ہیں-کنور، بنجارہ، بتھوڈی، بیجھیا، کول، گوریت، کوڈ، کسان، گونڈ اور کورا۔ اس کے علاوہ مالتو-پہاڑیا، برہور، اسور، بیگا بھی ایسے قبائل ہیں جن کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ انہیں ریاستی حکومت نے PVGT زمرہ میں رکھا ہے۔ ایک بات حیران کن ہے کہ منڈا، اورانو، سنتال جیسی قبائلی برادریاں جو کہ سماجی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی سطح پر آگے بڑھ گئیں، جن کا اپنا متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا، ان کی مردم شماری میںاعداد و شمار ملک کی مردم شماری کی توسیع کے مطابق ہی ہیں۔ بسترمیں گونڈ، دورلے، دھربے آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ پیچھے ہیں۔ کوریا، سرگوجا، کانکیر، جگدل پور، نارائن پور، دنتے واڑہ، سبھی اضلاع میں قبائلی آبادی تیزی سے کم ہوئی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ نکسل سے متاثرہ علاقوں میں پہلے سے ہی کم تعداد والی قبائلی برادریوں کی تعداد مزید کم ہوئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عام قبائلی امن پسند ہیں۔ ان کی جتنی بھی پرانی کتھائیں ہیں، ان میں ان کے دوردراز علاقوں سے نقل مکانی کرنے اور تنہائی کی اصل وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے کہ وہ کسی سے جنگ نہیں چاہتے تھے۔ نکسلی تشدد اور جوابی تشدد سے وہ بہت متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں نقل مکانی کرتے رہے۔ بستر کے باساگڑ کو ہی لے لیں، ایک شاندار بستی تھی، جس کی آبادی تین ہزار تھی۔ یہاں سلوا جوڈم نے زور مارا اور دوسری طرف نکسلیوں نے تشدد کیا تو آدھی سے زیادہ آبادی بھاگ کر آندھرا پردیش کے چرلا کے جنگلوں میں چلی گئی۔ صرف سکما ضلع سے پرانے تشدد کے دور میں نقل مکانی کرنے والے 15,000 خاندانوں میں سے نصف بھی واپس نہیں آئے۔ ایک اور خوفزدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ فیملی ویلفیئر کے اعداد و شمار کو پورا کرنے کے لیے کئی بار ان مجبور، لاعلم لوگوں کو کچھ پیسوں کا لالچ دے کر نسبندی کردی ہے۔
مدھیہ پردیش میں43قبائلی گروہ ہیں جن کی آبادی تقریباً1.5کروڑ ہے۔ یہاں بھی بڑے گروہ تو ترقی کر رہے ہیں لیکن بہت سے قبائلی گروہ معدوم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ ان میں بھیل بھلالہ قبائلی گروپ کی آبادی سب سے زیادہ (59.939لاکھ) ہے۔ اس کے بعد گونڈ برادری کی آبادی 50.931 لاکھ، کول قبائلیوں کی آبادی11.676 لاکھ، کورکو قبائل کی آبادی7.308لاکھ اور سہریا قبائل کی آبادی 6.149 لاکھ ہے۔ ان کی آبادی میں اضافے کی شرح، بچوں کی شرح اموات وغیرہ میں کافی بہتری آئی ہے لیکن دوسری طرف برہل یا برہور قبائلی برادریوں کی آبادی صرف52ہے۔ کونڈ گروپ (بنیادی طور پر اڈیشہ میں رہنے والے)کی آبادی109، پرجا کی آبادی137، سونتا گروپ کی آبادی190ہے۔ اب ان کے بچے کم ہونا یا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دراصل ان کی برادری بہت چھوٹی ہے اور ان کی شادیاں بہت چھوٹے گروپوں میں ہی ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے جینیاتی وجوہات کی وجہ سے بھی نسل میں اضافہ نہ ہونے کا امکان ہے۔
ہندوستان میں قبائلیوں کی جغرافیائی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ حقیقت ایک سرکاری رپورٹ میں سامنے آئی ہے کہ ملک کی تقریباً55فیصد قبائلی آبادی اپنے روایتی مسکن سے باہر نکل کر سکونت پذیر ہورہی ہے۔ زراعت یا جنگلاتی مصنوعات پر اپنا گزارہ کرنے والے قبائل کے قدرتی وسائل کم ہو گئے اور اس معاشی بحران کے سبب بھی ان کی نقل مکانی ہوئی۔ یہ بات صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی رپورٹ ’’ٹرائبل ہیلتھ آف انڈیا‘‘ میں ظاہر ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں قبائلیوں کی کل 10کروڑ 40لاکھ آبادی میں سے نصف سے زیادہ 809قبائلی اکثریتی علاقوں سے باہر رہتی ہے۔ رپورٹ میں اس حقیقت کی تائید میں2011کی مردم شماری کا حوالہ دیا گیا ہے۔ 2001کی مردم شماری میں جن گاؤں میں 100فیصد قبائلی تھے،2011کی مردم شماری میں ان قبائلیوں کی تعداد 32فیصد کم ہوگئی۔
سائنسی تحقیقی جریدے لین سیٹ میں شائع ہونے والی 2016کی ایک رپورٹ کے مطابق قبائلی برادریوں کے لوگوں کی اوسط عمر63.9سال ہوتی ہے جو کہ غیر قبائلی افراد سے تین سال کم ہوتی ہے۔ ایک قبائلی قبیلے کی اوسط عمر 67سال ہوتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ قبائلیوں میں صحت کی بہتر خدمات کا فقدان بھی ہے۔ ملک میں ملیریا سے ہونے والی اموات میں50فیصد قبائلی ہوتے ہیں کیونکہ انہیں صحت اور حفظان صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں بیدار نہیں کیا جاتا۔ قبائلی صحت کے مسائل میں سے دس سب سے بڑے مسائل ملیریا، بچوں کی اموات شرح، غذائیت کی کمی، ماں کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی، منشیات کی لت، سکل سیل انیمیا وغیرہ ہیں، اس کا اہم سبب ناخواندگی کو سمجھا جاتا ہے۔ ٹرائبل ہیلتھ ان انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں42فیصد قبائلی بچوں کا وزن عمر کے مناسبت سے کم(انڈرویٹ) ہے جو کہ غیر قبائلی بچوں سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔
ہر قبائلی برادری کا اپنا نالج-چین ہے۔ ایک کمیونٹی کے معدوم ہونے کے ساتھ ہی ان کا زراعت، آیوروید، جانوروں کی صحت، موسم، کاشتکاری وغیرہ کے بارے میں ان کا ہزاروں سال پرانا علم ختم ہوجاتا ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہماری سرکاری اسکیمیں ان قبائلیوں کی روایات اور ان کو ان کی اصل شکل میں محفوظ کرنے کے بجائے جدید بنانے پر زیادہ زور دیتی ہیں۔ ہم اپنا علم تو انہیں دینا چاہتے ہیں لیکن ان کے علم کو محفوظ نہیں رکھنا چاہتے۔ یہ ہمیں جاننا ہوگا کہ جب کسی قبائلی سے ملیں تو پہلے اس کے علم کو سنیں اور پھر اسے اپنا نیا علم دینے کی کوشش کریں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائلیوں کو ان کی اصل شکل میں بچایا جائے۔
[email protected]