اللہ کی راہ میں کیا اور کتنا خرچ کریں ؟

0

ابو نصر فاروق

اللہ کی راہ میں کیا اور کتنا خرچ کیا جائے؟ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں موجود ہے۔’’اے نبی لوگ پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟ کہـہ دیجئے جو تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے خرچ کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں واضح کرتا ہے شاید کہ تم لوگ غور و فکر کرو۔ خرچ کرنے کا معیار یہ بتایا گیا کہ تمہاری جوبنیادی ضرورتیں ہیں اُن کی خاطر مال رکھ لو اور اُس کے بعد جو کچھ بھی بچ رہا ہے اُسے اللہ کی راہ میں اللہ کے محتاج اور مجبور بندوں پر خرچ کر دو۔ یہاں پر ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کسی آدمی کی کتنی آمدنی ہونی چاہئے جس پر اُسے اپنا مال خرچ کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ تو اس سوال کا جواب قرآن کے شروع میں ہی دے دیا گیا ہے۔ ہدایت پانے کے لئے تقویٰ کی پانچ صفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے تمہیں جو روزی بھی دی ہے اُس میں سے خرچ کرو۔‘‘
مطلب یہ ہوا کہ روزی ضرورت سے کم ہو یا زیادہ ، خرچ کرنے کا تعلق زیادہ اور کم سے نہیں ہے۔ یہ ایک نیک عمل اور عبادت ہے اس لئے اس کو کرنا لازم ہے۔کم آمدنی ہے تو خرچ بھی کم ہوگا، لیکن ہو گا ضرور۔ مثلاً ایک آدمی دن بھر کی محنت کے بعد پانچ سو روپے کماتا ہے اوراُسے ہر روز کام بھی نہیں ملتا ہے۔ یعنی ایک دن کی کمائی پر کئی دن گزارا کرنا ہوتا ہے۔ایسا آدمی تو اپنی ایک دن کی آمدنی کو اُس وقت تک بچا کر رکھے گاجب تک کہ اُسے پھر دوبارہ کام نہ مل جائے؟ یہاں کہاجارہا ہے کہ کل کی روزی کے لئے اللہ کے رازق ہونے پر ایمان رکھتے ہوئے آج کی آمدنی میں سے کچھ نہ کچھ ضرور خرچ کر دو۔ خرچ کرنے میں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہاں خرچ کریں ؟ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں پہلے ہی دے دیا گیا ہے۔
اے نبیؐ ! یہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ؟ کہـہ دیجئے کہ تم بھلائی کے ارادے سے جو کچھ بھی خرچ کرو اپنے والدین پر ،قرابت داروں پر ، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور تم جو بھلائی بھی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ (البقرہ)
یعنی خرچ کے حقدار کی ترتیب یہ بتائی گئی کہ سب سے پہلے حقدار ماں باپ ہیں۔ ماں باپ نے اپنی پوری زندگی اور زندگی بھر کی ساری کمائی بال بچوں کی پرورش، تعلیم تربیت اور اُن کا نکاح کر کے گھر بسانے میں خرچ کر دی اور اب باپ چونکہ روزی کمانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اس لئے محتاج اور مجبور ہو چکا ہے۔بیٹیاں تو سسرال میں ہیں اُن کی تو کوئی آمدنی ہے نہیں۔ اس لئے ماں باپ پر خرچ کرنا اُن کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ خوش حال ہیں اور مال خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیںاور شوہر اجازت دیتا ہے کہ اپنے ماں باپ کا خیال رکھو تو وہ اپنے مال سے ماں باپ کی مدد کرنے کی مجاز بن جاتی ہیں۔ لیکن بیٹوں کا یہ فرض ہے کہ ماں باپ کے سارے اخراجات وہ پورے کرے۔اس کے بعد دوسرا نمبر قرابت داروں یعنی رشتہ داروں کا آتا ہے۔خاندان میں نزدیک اور دور کے جتنے رشتہ دار محتاج اور مجبور ہیں، ہر صاحب مال کے خرچ کے پہلے حقدارماں باپ کے بعد وہ بن جاتے ہیں۔ یعنی ماں باپ پر مال خرچ کرنے کے بعد بھی مال بچ گیاتو وہ ضرورت مند رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے گا۔ ان پر خرچ کرنے کے بعد بھی مال بچ گیا تو پھر یتیم، مسکین اور مسافر اس مال کے حقدار ہو جاتے ہیں کہ اُن کی مدد کی جائے۔
اصل میں مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیںکہ اپنے ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہرے سے ان کا اندرونی حال پہچان سکتے ہو۔ لیکن وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو لوگوںکے پیچھے پڑ کرکچھ مانگیں۔ ان کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔ (البقرہ)
اس آیت میں خرچ کے حقدار وہ لوگ بھی بتائے جارہے ہیںجو لوگوں کو دین کی تعلیم دینے اور دعوت کا کام کرنے کی وجہ سے اسی کام میں اپنا سارا وقت خرچ کر دیتے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ ایسے اللہ والوں کی کفالت صاحب حیثیت مسلمانوں کا فرض ہے۔ اُن کی ذمہ داری ہے کہ مکمل احتیاط کے ساتھ یعنی ایسے محتاج لوگوں کی عزت نفس اور اُن کی خود داری کو ذرا بھی ٹھیس نہ پہنچے، اُن کی تمام جائز ضروریات کے لئے اُن کو اتنی رقم مہیا کریں کہ وہ اپنی ضرورتوں سے بے نیاز ہو جائیں۔
اے ایمان لانے والو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر۔ اُس کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔اُس پر جب زور کی برسا ت ہوئی تو ساری مٹی بہہ گئی اورصاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اُس سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔
اس کے خلاف جو لوگ اپنے مال اللہ کی رضا کے لئے دل کی پوری طاقت کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، اُ ن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی برابر زمین پر ایک باغ ہو۔اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے۔ اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اُس کے لئے کافی ہو جائے۔تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے۔(البقرہ)
ان آیات میں خرچ کرنے کے آداب بتائے جا رہے ہیں کہ جن کی مدد کی جا رہی ہے اُن پر کبھی احسان نہ جتایا جائے اور اُن کے ساتھ کبھی کوئی ایسا سلوک نہ کیا جائے جس سے اُن کی غیرت کو ٹھیس پہنچے اور اُن کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر ایسا ہوا تو مال خرچ کرنے کی ساری نیکی برباد ہو جائے گی۔ عمل برباد ہونے کی کیفیت نیچے کی آیت میں بتائی جارہی ہے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اُس کے پاس ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر طرح کے پھلوں سے لدا ہوا، وہ عین اُس وقت آگ کی زدمیں آ کر جھلس جائے جب کہ وہ خود بوڑھا ہو اور اُس کے بچے کم سن،ابھی کسی لائق نہ ہوں۔اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو۔(البقرہ)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو،جو مال تم نے کمائے ہیں اورجو کچھ ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے اُس میں سے بہتر حصہ خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اُس کی راہ میںدینے کے لئے بری سے بری چیز چھانٹنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے توتم ہرگز اُسے لینا گوارا نہیں کرو گے، مگر یہ کہ اس کو قبول کرنے میںتم دھیان نہ دو۔ تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔ (البقرہ)