یہ سال بھی بیت گیا، کیا کھویا تو نے کیا پایا؟

0

ازقلم: امام علی فلاحی۔

ایم۔اے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔

جنوری سے عیسوی کلینڈر کی شروعات ہوتی ہے اور محرم الحرام سے سے قمری سال کا آغاز ہوتا ہے، عموماً ماہ جنوری کے آنے سے پہلے ہی لوگوں کو نئے سال کی آمد کا انتظار رہتا ہے۔
دسمبر کی آخری تاریخ کو اور جنوری کی پہلی رات کو جشن و طرب کی محفلوں کو سجا کر خوب موج مستی کی جاتی ہے اور نیو ایئر کا استقبال طوفان بد تمیزی سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس موقع پر لوگ بھول جاتے ہیں کہ سال کی آمد خوشی و مسرت نہیں بلکہ فکر و احتساب کی دعوت دیتی ہے۔
سال کے آنے سے انسان کی عمر میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اس کی بہار عمر خزاں کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، قبر کی جانب جھکا جارہا ہے اور دنیا سے داغ مفارقت دینے کا وقت نزدیک آرہا ہے، اس لئے سال نو کی آمد ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ و محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے اور اس بات کی جانب توجہ دلاتی ہے کہ اے انسان یہ سال بھی بیت گیا، مگر ذرا سوچ اپنے بارے میں، کیا کھویا تو نے اور کیا پایا؟

قارئین! وقت کی شاخ سے لمحے اور پل، شب و روز پتے کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے چلے گئے اور یہ شجر ماہ و سال کی پت جھڑ سے کب آزاد ہوگیا ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔
وقت کے ساحل پر کھڑے کھڑے‌ لمحات کی یہ نرم ریت پیروں تلے کب سرک گئی ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔
صبح و شام، دوپہر اور رات، پل پل بدلتے موسموں کے سمندر میں کب طلاطم برپا ہوگیا؟ ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔
لمحات کی لہریں ساحل کو چھو کر اور ہماری دوپہر کو بھگو کر اور ہماری راتوں کو سرد کر کے کب چلی گئیں ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔
ارے ناداں! وقت کی گھڑی ٹک ٹک کر کے گذرتے وقت کا احساس ہمیں دلاتی رہی مگر ہم محسوس ہی نہ کر سکے اور یہ سال بھی بیت گیا، کچھ پتہ ہی نہ چلا۔
قارئین! پورے سال ہم اپنوں کے ساتھ لگے رہے، کبھی بھائی بہنوں کے خیال میں لگے رہے، کبھی ماں باپ کی خوشیوں کو تلاشتے رہے، کبھی دوستوں کو ہنساتے رہے، کبھی کبھی دشمنوں کو دھمکاتے رہے، کبھی بہن کی شادی کا خیال کرتے رہے، تو کبھی ماں کی دوائی کا خیال کرتے رہے، کبھی رشتے داروں کے خیال میں مصروف عمل رہے تو کبھی اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے رہے اور یہ لمحے آنکھیں چرا کر کس طرح دبے پاؤں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیے، ہمیں احساس تک نہ ہوا۔

پورے سال ہم اپنی زندگی کو بنانے میں، خوشیوں کی تلاش میں، پیسے کمانے اور کھانے میں، دوسروں کے لیے بھاگ دوڑ کرنے میں لگے رہے اور پورا سال بیت گیا،‌ ختم ہو گیا۔
لیکن کیا! کبھی ہم نے اپنا خیال کیا؟ اپنی آخرت کے بارے میں سوچا؟ راتوں کو قیام کیا؟ دن کو نوافل پڑھا؟ اپنے نفس کا محاسبہ کیا؟ نہیں، کچھ نہیں کیا۔
ارے جس مال کے پیچھے ہم نے نماز کو ضائع کیا وہ مال عارضی ہے، ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے، قبر میں ساتھ جانے والا نہیں ہے۔
جس محبت کے پیچھے پورے سال ہم لگے رہے وہ بھی عارضی ہے، کیونکہ محبت تو جذبات کا نام ہے اور جذبات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، کبھی خوشی تو کبھی غمی آتی ہی رہتی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو اس عارضی جذبے اور وقتی محبت کے پیچھے پورے سال لگے رہے اسکے باوجود اسے حاصل نہ کر سکے، نہ مال بھی کما سکے، نہ پیسے حاصل کر سکے۔ پھر کیا حاصل کیے۔

خسارہ حاصل کیے، صرف خسارہ۔ جی ہاں! قارئین صرف گھاٹا اور نقصان، کیوں کہ حقیقی خوشی، اور اصل چین و محبت کے حصول کیلئے تو ہم نے وہ عبادت سال بھر میں شاید اک شب بھی نہیں کی جو مرنے کے بعد اور اصل زندگی میں ساتھ دینے والی ہے۔
اپنی عارضی زندگی کا ہر ایک قیمتی لمحہ، قیمتی دن، ہم جن کاموں اور جن لوگوں کے نام کرتے رہے کیا وہ ہمیں ہمارے مرنے کے بعد نیک اعمال اور دعاکی صورت میں نفع دے سکتے ہیں؟ اگر دے سکتے ہیں تو بہتر ورنہ اپنی اس مختصر زندگی کا محاسبہ کریں۔
کہ جب ہماری اولاد، ہمارے دوست و احباب اور متعلقین ہمیں دفن کرکے قبرستان کے اندھیروں میں چھوڑ کر چلے جائیں گے، تو کس طرح ہم قبر میں منکر نکیر کے سوالات کا جواب دیں گے؟ کس طرح ہم پل صراط سے گزریں گے؟ قیامت کے دن ہمارا نامۂ اعمال کس ہاتھ میں ملے گا؟ کہیں بائیں ہاتھ میں تو نہیں ملے گا؟ اگر بائیں ہاتھ میں مل گیا تو کیا ہوگا؟ حوض کوثر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے کوثر کا پانی پینے کو ملے گا؟ جہنم کے عذاب سے بچ کر کس طرح بغیر حساب کتاب ہمیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام ملے گا؟ کیا پیسے سے جنت مل جائے گی ؟ کیا نماز کو چھوڑنے سے آخرت بن جائے گی ؟ ہر گز نہیں ۔
اس لئے اب ہمیں سال نو کی آمد پر یہ عزم مصمم کرنا ہے کہ زندگی کے جتنے ایام باقی بچے ہیں، اس میں اپنے مالکِ حقیقی کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
کیونکہ ابھی ہم حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری روح نکالنے کے لیے کب آجائے، ہمیں معلوم نہیں۔
اسی لئے محمد صلعم نے ارشاد فرمایا کہ پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھالیا جائے۔
بڑھاپا آنے سے قبل جوانی سے۔ مرنے سے قبل زندگی سے۔
کام آنے سے قبل خالی وقت سے۔ غربت آنے سے قبل مال سے۔ بیماری سے قبل صحت سے۔

اسی طرح ایک دوسرے حدیث میں محمد صلعم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے اس وقت تک ہٹ نہیں سکتا جب تک کہ وہ مذکورہ سوالات کا جواب نہ دے دے:
زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ مال کہاں خرچ کیا؟
علم پر کتنا عمل کیا؟
غرض یہ کہ ہمیں اپنی زندگی کا حساب اپنے خالق و مالک و رازق کو دینا ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔