مغربی ایشیا:۔۔۔زلفوں کا پیچ و خم نہیں

0

شاہنواز احمد صدیقی

مغربی ایشیا ہمیشہ کی طرح آج پھر اخبارات کی سرخیوں میں ہے۔ برادرکشی کے افہام وتفہیم کا راستہ کرنے والے اس خطے کے عظیم ممالک نے گزشتہ دس بارہ برسوں میں اتنا کچھ سیکھ لیاہے کہ عالمی اور نام نہاد روشن خیال مغربی ممالک کے طعن وتشنیع کونظرانداز کرکے ایک شاندار پرامن اور خوش حال مستقبل کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔ مگر یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ قدم قدم پر رکاوٹیں اور اڑچنیں ہیں۔ راستہ اس قدر پامال اور تاریخ اس قدر تلخ بلکہ خونیں ہے کہ منزل سرکرنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس خطے کے ممالک کو قدامت پرست، مذہبی، بنیاد پرست اور غیر جمہوری قرار دینے والے اس روشن خیال اور آزاد میڈیا نے حالات کو بدلتادیکھ کر اپنا اصل روپ دکھانا شروع کردیا ہے۔ ترکیہ میں مذہبی شعائر پرپابندی ہٹانے کو قدامت پرستی اور خواتین دشمن قرار دینے والے ممالک کو اب ترکیہ میں جمہوریت میں کیڑے دکھائی دینے لگے ہیں۔
پہلے مرحلے میں مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کرنے میں ناکام طیب اردگان کو تمام تر مقبولیت اور ہردلعزیزی کے باوجود منتخب ہونے کے لیے دوسرے مرحلے کے لیے انتظار کرناپڑا اور جو شاندار کامیابی ان کو ملی، وہ اظہر من الشمس ہے۔ اگرچہ طیب اردگان نے مغرب کی سرپرستی یافتہ صہیونی مملکت اسرائیل تک سے تعلقات استوار کرنے میں کوئی دریغ نہیں کیا اور خارجہ اور داخلہ پایسی میں جن تنوع اور جدیدیت پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ غیرمعمولی ہے۔ اس کے باوجود ترکیہ کے عوام میں فیصلہ پرجوش وخروش دکھائی نہیں دیتا ہے۔ برطانیہ سے نکلنے والے مشہور میگزین ’دی ایکنومسٹ‘ نے ترکی کے انتخابی نتائج پر سرخی لگائی Another Five Years،اس سرخی سے ہی کرب ظاہرہورہاہے۔
بہرکیف،عالم اسلام کی آج کی اہم خبریہ ہے کہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان ہفتہ کے روز یعنی آج (17جون 2023) کو ایشیا کی عظیم طاقت اور سابق حریف ایران جارہے ہیں۔ یہی خبر اغیار کے پیٹ میں مروڑ کا سبب ہے۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور قرب وجوار کے عرب مسلم ممالک کو تباہ وبرباد کرنے والے اور معمولی اختلافات کا ہوّا بنا کر زبان ونسل کے معمولی فرق کو اچھال کر برادرکشی کرانے والے ممالک کو یہ بات پسند نہیں کہ خطے کی دو اہم طاقتوں میں جذبہ خیرسگالی فروغ پائے،آپس میں امن امان ہو ، تعلقات استوار ہوں، ایک دوسرے کے غم اور تکالیف میں شامل ہوں اور ایک دوسرے کے معدنی، قدرتی اور انسانی وسائل سے بہرمند ہوں۔
ایران اور اسرائیل کے تعلقات کس نوعیت کے ہیں، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے تعلقات کسی بھی ملک سے اچھے ہوں یا خراب یا بہت خراب اس کا اسرائیل کی نسل پرست انسانی حقوق کو پامال کرنے کی لگاتار مجرم مملکت کی پالیسی اپنے مفاد اور حقیر مفادات کے حصول پر مبنی رہتی ہے۔ اس وقت چاہے مراقش اورالجیریا کے درمیان ناچاقی کا معاملہ ہوجہاں اسرائیل اس سے فائدہ اٹھارہاہے، یا سوڈان میں دومتحارب جرنیلوں کی سفاکی کا معاملہ ہو( وہ اس سے بھی فیض اٹھارہا ہے) ان سب سے قطع نظر وہ ارض فلسطین پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے اہم ترین مذہبی مقامات کی بے حرمتی کررہاہے۔ اس کی گولیوں کے شکار ہرعمر، ہر طبقہ اور ہرجنس کے لوگ ہورہے ہیں۔ ارض فلسطین میں اس نے خونریزی کے بدترین ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ چند روز قبل ایک شیرخوار بچے کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کرکے اس کے اپنی مملکت کے دفاع کے حق پر ایک بار پھر اصرار کیا ہے۔ یہ وہ حق ہے جس پر یہ مغربی ممالک متفق ہیں اوراس مقصد کے حصول کے لیے اس کو ہر سطح پر اور ہر اسٹیج پر حمایت، مدد اور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔بہرکیف، سعودی عرب کی راجدھانی میں پچھلے دنوں ایران کا سفارت خانہ دوبارہ کھلا تو تمام مثبت سوچ رکھنے والوں کی باچھیں کھل گئیں۔
عرب سربراہ کانفرنس جو چند روز قبل جدہ میں ہوئی، اس میں شام کے صدر بشار الاسد نے شرکت کی۔ یہ اپنے آپ میں غیرمعمولی واقعہ تھا۔ 2011کی بدنظمی اور مغربی ایشیا میں آگ اور خون کی بارش میں ہزاروں بے گناہ افراد کے قتل کے بعد یہاں کے حکمرانوں نے سمجھ لیا کہ چھلاؤں میں آکر اہل دانش اور اہل مغرب یا اہل مشرق کی حمایت کے دھوکہ میں آئے بغیر ہمیں ہمسایوں سے مراسم اور تعلقات بہتر کرنے ہیں، ان کے عوام کی بے حالی اور تباہی پر بغلیں نہیں بجانی ہے۔ برادرکشی اپنے گھر اور اپنے آپ کو ہی ختم کرنے اور کمزور کرنے کا وطیرہ ہے جس کو ب ہر کیف ختم کرنا ہوگا۔
اس وقت چاروں طرف سے محصور ایران کی معیشت کمزور ہے اور اس اقتصادی عدم استحکام کی وجہ سے ایران کو کئی محاذوں پرمورچہ لیناپڑ رہا ہے۔ یہ مناسب موقع ہے کہ ماحول کی سازگاری سے فائدہ اٹھانے کا، اپنے عوام کی خوش حالی اور اقتصادی بہتری کے لیے کام کرنے کا، تمام ممالک، اقوام اور عوام کو ایک دوسرے کے سہارے اور تعاون کی ضرورت ہے، ماضی کے قفس میں پھنس کررہ جانا کسی کے لیے دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہوسکتا ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے یہاں سرمایہ کاری یا انسانی وسائل کا استعمال کرکے بہت ترقی کرسکتے ہیں۔ ایران نے باور کرایاہے کہ اس کی سفارت کاری اور کئی دیگر امور میں مہارت نے اغیار کے چھکے چھڑادیے ہیں۔ یہ دورجنگیں لڑنے کا نہیں ہے، دل جیتنے کا ہے۔ اپنے عوام کو خوش حالی اور ترقی سے ہمکنار کرنے کا ہے۔
تصادم کے دور کے خاتمہ کے بعدایران اور شام کافی حد تک مین اسٹریم میں آتے جارہے ہیں اور پورے خطے میں بہت تیزی کے ساتھ حالات بدل رہے ہیں۔ یہ دورکوزے میں بند رہنے کا نہیں ہے بلکہ اپنے کو پھیلانے اور سمندروں کو کوزے میں بند کرنے کا ہے۔ مغربی ایشیا کے یہ ممالک اتنی بڑی طاقت ہیں کہ وہ دنیا کو درپیش کئی مسائل سے نکال سکتے ہیں، کئی بحرانوں کو سرکرنے میں مدد کرسکے ہیں،مگروہ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ان کے خود کے ملکوں میں امن ہوگا اور ہرطبقہ بلاتفریق رنگ ونسل اور مکتب فکرخوش حال ہوگا۔n
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS