امریکہ اورمغربی ممالک کیلئے شامیوں سے زیادہ اہم اویغور

0

طاقتور ممالک جب کسی ایشو کو اہمیت دیتے ہیں تو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کیا اس ایشو سے زیادہ دنیا کا کوئی اور ایشو اہم نہیں ہے۔ اس موازنے سے دراصل یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کسی ایشو سے ان کی دلچسپی کیوں ہے۔ یہ سچ ہے کہ اویغوروںکے خلاف چین میں مظالم ڈھایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں متعددرپورٹیں آچکی ہیں۔ ان رپورٹوں سے چینی حکومت کی سفاکی اور اس کے جبر کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو چینی حکومت کے جبرکو روک سکے، اسے یہ احساس دلا سکے کہ اویغور بھی انسان ہی ہیں اور ان سے اسے وہی سلوک کرنا چاہیے جو انسانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ چین طاقتورملک ہے،اویغوروں کو انصاف دلانے کے لیے اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنا مشکل ہے، کارروائی کرنا اس لیے بھی مشکل ہے، کیونکہ اس سے کئی ملکوں کے تجارتی مفاد وابستہ ہیں لیکن میانمارتواتنا طاقتور نہیں کہ امریکہ اس کے خلاف کارروائی نہ کر سکیں، اس کے خلاف وہ فیصلہ کن کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ تجارتی اعتبار سے میانمار اتنا اہم ملک نہیں کہ یہ بات سوچی جا سکے کہ مغربی ممالک اپنے تجارتی مفاد کے لیے اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کر رہے ہیں، البتہ یہ بات ضرور سوچی جا سکتی ہے کہ وہ کارروائی اس لیے نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ میانمار، چین نہیں ہے، امریکہ کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور جب کوئی ملک امریکہ کے لیے بڑا مسئلہ نہ ہو، پھر اس کے خلاف مغربی یوروپ کے ملکوں کے بھی جانے کیامید نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ اویغور ایشو پریوروپی ملکوں کے دلچسپی لینے کی وجہ انسانی ہمدردی ہی ہے، اس ایشوکے سہارے وہ چین میں انسانی حقوق کی صورت حال کو منکشف نہیں کرنا چاہتے مگر اس لیے بھی اگر وہ اویغوروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ بھی کم اہمیت کی حامل بات نہیں ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ اس سے یہ سوال ختم نہیں ہو جاتا کہ شام میں لاکھوں انسانوں کی جانوں کا اتلاف ہو چکا ہے، لاکھوں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ پچاس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنا گھربارچھوڑکر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کب امن کی زندگی بسر کریں گے تو پھر امریکہ اوریوروپی ممالک شام کے حالات بہتربنانے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ ولادیمیر پوتن بشار الاسد کی پشت پر ہیں، اس لیے شام میں امن بحال کرنا مشکل ہے مگراب تو پوتن یوکرین جنگ میں الجھے ہوئے ہیں، اب شام میں امن بحال کرنے میں کیا دشواری ہے؟ اگر انسانی حقوق اور انسانوں سے ہمدردی کے نام پر وہ سنکیانگ کے اویغور مسلمانو ںکی مدد کے لیے تیار ہیں تو پھران کی اسی مدد سے شام کے لوگ محروم کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ کمزور ترین شام اسرائیل کے حق میں بہتر ہوگا یا وجہ کچھ اورہے؟n