اویغور مسلمانوں کے خلاف مسلم ممالک بھی چین کے ساتھ

0

ڈاکٹر سید احمد قادری

یوں تو اس وقت دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم اور منصوبہ بند سازشیں ر چی جا رہی ہیں ۔ اس دوڑ میں چین بھی سب سے آگے رہنا چاہتا ہے۔ چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ میں موجود اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و بربریت کی خبریں مسلسل سرخیوں میں رہتی ہیں۔ ا یسی غیر انسانی اور حیوانیت سے بھری خبروں کو اقوام متحدہ نے مسلم اقلیتوں کے خلاف غیر انسانی اور ممکنہ جرائم سے تعبیر کرتے ہوئے ہوئے 2018 سے چاربرسوں تک تفتیش کرنے کے بعد اویغور مسلمانوں پر چین کے ظلم وستم پر ایک رپورٹ تیار کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باشیلے نے اپنی سبکدوشی کے آخری دن جاری کیا تھا اور انہیں پوری امید تھی کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی میٹنگ میں اس رپورٹ پر مباحثے کی قرارداد منظور ہو گی۔ دیگر ممالک اسے ایجنڈے میں شامل کریں گے، خاص طور پر مغربی ممالک اس پر مباحثہ کے لیے زیادہ پر امید تھے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ کافی محنت ،جستجو اور تفتیش کے بعد جو رپورٹ تیار ہوئی، اس پر مباحثے کی قراردادکو چین نے اپنی طاقت اور آمریت کے زور پر مسترد کرا دیا ۔ چند روز قبل جنیوا میں قائم 47 ممبران کی کونسل میں شامل ممالک نے اویغور مسلمانوںکے خلاف چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بحث کرانے کے خلاف17 کے مقابلے19 ووٹ دیے گئے۔ ان میں بولیوبا، کیمرون، چین، کیوبا، اریٹریا، گبون ، انڈونیشیا ، آئیوری کوسٹ، قزاقستان، موریطانیہ، نمیبیا ، نیپال، پاکستان، قطر، سینیگال، سوڈان، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور وینزویلا جیسے ممالک شامل ہیں۔ ووٹنگ میں ارجنٹائنا، آرمینیا، بنین، برازیل ، گیمبیا، بھارت، لیبیا، ملاوی، ملیشیا، میکسیکو اور یوکرین جیسے11 ممالک نے حصہ نہیں لیا۔ سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ چین کو مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم ، بربریت ، حیوانیت، تشدد، نفرت، اسلامی تشخص ختم کرنے کے مبینہ جرائم پر گھیرنے اور اس کے غیر انسانی سلوک پر قدغن لگانے کایہ ایک اچھا موقع تھا۔ لیکن صد حیف کہ چین کے اویغور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی رپورٹ کے تحت چین کی مذمت اور تدارک اور تدابیر کی بجائے مسلم ممالک نے چین کے ظلم اور سفاکی کا ساتھ دیا۔ سب سے زیادہ تو بے شرمی متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا نے دکھائی جو بات تو اسلامی تشخص، انسانیت اور رواداری کی کرتے ہیں اور جب وقت اسلام،مسلمان، انسانیت اور رواداری کے دشمنوں کو آئینہ دکھانے کا آتا ہے تو یہ (نام نہاد) مسلم ممالک ایسے دشمنوں کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔ جس طرح اویغور مسلمانوں پر چین مظالم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے، نسل کشی کر رہا ہے، توقع تھی کہ ہمارے یہ مسلم ممالک ضرور چین کے خلاف قرار داد کی حمایت کریں گے اور اسے سختی کے ساتھ تنبیہ کریں گے۔ لیکن اس اہم موقع کو ان مسلم ممالک نے اپنی آمریت، عنانیت، مفادات اور خود غرضی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اگر یہ قرار داد منظور ہو جاتی تو اگلے سال مارچ ماہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں پر چین کے ظلم وتشدد پر مباحثہ ہوتا اور چین کو اپنے ایسے غیر انسانی عمل و کردار پر نہ صرف شرمندہ ہونا پڑتا بلکہ دنیا کے سامنے ندامت سے بچنے کے لیے وہ غیر انسانی سلوک پر قدغن بھی لگانے کی کوشش کرتا ۔ لیکن اب تو چین اپنی کامیابی کا جشن منا رہا ہے اور ادھر انسانی حقوق کے ان لوگوں نے جنہوں نے محنت سے رپور ٹ تیار کی تھی، انہیں اپنی تمام محنت اور وقت کی بربادی کا ملال ہے۔
سنکیانگ جو آج پوری دنیا کے سامنے اپنی مظلومیت کا نوحہ سنا رہا ہے، یہاں عرصہ دراز تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے ۔یہ خطہ روس، قزاقستان، تاجکستان، پاکستان اور ہندوستان کی سرحد سے ملتا ہے۔ اس علاقے پر چین نے ناجائز طور پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے اور 1949 میں کمیونسٹ پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے سنکیانگ میں، جہاں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد اویغور مسلمان آباد ہیں،انہیں ظلم وبربریت کے ساتھ کچلا جا رہا ہے۔ یہاں کی مساجد کو اصطبل یا فوجی رہائش گاہ بنا دیا گیا ہے ۔ مسلم آبادی کے قبرستانوں کو مسمار کر دیا گیا ہے ۔ جرمن وزارت خارجہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مسلمانوں میں سے دس لاکھ سے زیادہ مسلمان نظربند ہیں یا چینی حکام کے حراستی مراکز اور دیگر کیمپوں میں قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان مسلمانوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ لوگ اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنا چاہتے ہیںجس کی پاداش میں انہیں ایسی ایسی ناقابل بیان اذیت ناک سزائیں دی جا رہی ہیں کہ سن کر اور پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں اویغور مسلمانوں کی جسمانی اور جنسی تشدد میں موت ہو چکی ہے۔ یہاں فوجیوں کے ذریعے لڑکیوں کی اجتمائی عصمت دری کرنا، ان کے اسقاط حمل یا بانجھ بنانے کی بات بھی عام ہے۔ یہاں نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، عبادت کرنا، اپنے بچوں کا اسلامی طرز کے نام رکھنا غرض اسلام کی بات ماننا اور مسلمان ہونا سخت جرم ہے۔ کیمپوں میں جمعہ کے روز کھانے میں خنزیر کا گوشت کھانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، رمضان میں اگر کسی نے خاموشی سے روزہ رکھ لیا تو اس شخص کی داڑھی نوچی جاتی ہے۔ ایسے نہ جانے کتنے ہولناک اور اذیت ناک اور سفاک سانحات ہیں جو حکومت چین کی پوشیدہ رکھنے کی کوششوں کے باوجود مختلف انسانی حقوق کی حمایت کرنے والی شخصیات اور تنظیموں کے توسط سے باہر آ تی رہتی ہیں۔ حالانکہ چین اپنے ایسے حیوانیت اور ظالمانہ کردار و عمل کی نفی کرتا ہے اور دنیا سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باشیلے نے بڑے افسوس کے ساتھ گزشتہ سال یہ اعتراف کیا تھا کہ ’ مجھے افسوس ہے کہ سنکیانگ کے اویغور خود مختار علاقے تک بامعنی رسائی حاصل کرنے کی ہماری کوششوں میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ان کا دفتر انسانی حقوق کے الزامات کے بارے میں دستیاب معلومات کا جائزہ لینے اور اسے عام کرنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دے رہا ہے ۔‘ میونخ میں قائم ورلڈ اویغور کانگریس کے پروگرام اور ایڈو کیسی منیجر زمریتے آرکن کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ بڑی اہم ہے، اس لیے کہ یہ اپڈیٹ انسانی حقوق کی ہائی کمشنر کی جانب سے اس علاقے تک رسائی کے لیے تین سال تک سرکاری سطح پر درخواستوں کے بعد جاری کیا گیا ہے ۔ سنکیانگ میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی عقائد چھوڑنے پر مجبور کیا جا تا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کی ترجمان مارٹنا ہر ٹا ڈو کے بموجب اقوام متحدہ کے متعدد حکام نے سنکیانگ میں2018 سے انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے جن میں نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے منسلک ماہرین شامل ہیں۔ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم اور تشدد پر ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹر نیشنل نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ چین سنکیانگ میں دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں اور دیگر مسلم نسلی اقلیتوں کو حراستی کیمپوں میں رکھ کر انہیں جبراً مشقت پر مجبور کرکے انسانیت کے خلاف جرائم کر رہا ہے ۔ساتھ ہی ساتھ اویغور کے باقی ماندہ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ چین ان تمام الزامات کی ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ بار بار چین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام افراد کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے، نیز یہ بھی کہا ہے کہ چین کے کچھ اقدامات بین الاقوامی جرائم بشمول انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے مختلف گروپوں کا ایک اندازہ ہے کہ شمال مغربی چین سے دس لاکھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس ضمن بہت ہی خاص بات یہ بھی ہے کہ چین نے اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں رپورٹ جاری نہ کیے جانے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ یہ سب مغربی ممالک کی جانب سے رچا گیا تماشہ ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی چین کے وفد نے اس رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے صفائی دینے کو کوشش کی تھی کہ یہ رپورٹ اسے بدنام کرنے کی سازش اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔لیکن دوسری جانب تفتیش کرنے والوں نے کہا تھا کہ انہوں نے تشدد کے معتبر ثبوت کا انکشاف کیا ہے جو ممکنہ طور پر ’انسانیت کے خلاف جرائم ‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ افسوس ہے کہ حقوق انسانی کے اہم ایک گروپ کی محنت سے تیار یہ رپور ٹ اب اگلے سال اقوام متحدہ کے منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش نہیں ہو سکے گی جس کے ذمہ دار بہرحال وہی مسلم ممالک ہیں جو انسانیت، حق و انصاف کی صرف باتیں کرتے ہیں ۔ یاد کیجئے، ابھی زیادہ عرصہ نہیںہوا، گزشتہ سال نومبر میں ہی جب فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر مبنی رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کی گئی تھی تو اسے اسرائیل کے مندوب گیلاداردن نے تمام مندوبین کی نظروں کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیا تھا اور مسلم ممالک اورفلسطین کے نام نہاد ہمدرد تماشہ دیکھتے رہے تھے۔ اویغور مسلمانوں پر ظلم و ستم پر تیار کی گئی رپورٹ کا بھی یہی حشر ہوا۔ اس پر جس قدر افسوس کیا جائے، کم ہے ۔ n
(مضمون نگارتجزیہ کار ہیں)
[email protected]