ہندوستانی ٹیکہ پر فضول سوال

پہلے جس ٹیکہ کو یوروپی ممالک نے استعمال کی اجازت دی اور اس کی وسیع پیمانہ پر تشہیر کی، اب اس سے ملنے والے تحفظ پر شبہ کیوں؟

0

جگل کشور

اینٹی کورونا ویکسین کے خلاف جب افواہوں کا بازار گرم ہو، تب اس کی تاثیر (Effectiveness)پر بار بار اٹھتے سوال لوگوں کی الجھن مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کو مستعدی کے ساتھ سلجھایا جارہا ہے اور جلد ہی خوشگوارنتائج ملنے کی امید ہے۔ کووی شیلڈ فی الحال اسی خطرناک جال میں الجھ گئی ہے۔
یوروپی یونین کے ملک اس بنیاد پر کووی شیلڈ سے ملنے والے تحفظ کو مشتبہ بتارہے ہیں کہ کچھ لوگوں میں اس کے برے نتائج، یعنی سائیڈافیکٹ نظر آئے ہیں۔ جب کہ اسے بنیادی طور پر برٹش انسٹی ٹیوٹ آکسفورڈ/ایسٹراجینیکا نے ہی تیار کیا ہے، جس کا پروڈکشن ہندوستانی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کررہی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پہلے جس ٹیکے کو یوروپی ممالک نے اپنے یہاں استعمال کی اجازت دی اور اس کی وسیع پیمانہ تشہیر بھی کی، اب اس سے ملنے والے تحفظ پر وہ کیوں سوال کھڑے کررہے ہیں؟
اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی ٹیکہ کو مناسب تجربہ (adequate testing) کے بعد ہی بازار میں لایا جاتا ہے۔ یہ تجربات پہلے جانوروں پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسانوں پر کیے جاتے ہیں۔ انسانوں میں بھی پہلے چنندہ لوگوں کو ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور اس کے نتائج کی بنیاد پر کمیونٹی کے لیے اسے محفوظ اعلان کیا جاتا ہے۔ چوں کہ کووڈ-19سے ہونے والی ہلاکتیں زیادہ تھیں اور اس بیماری سے پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں کی جان جارہی تھی، اس لیے اینٹی کورونا تمام ٹیکوں کے کم و بیش ایمرجنسی استعمال کی اجازت دی گئی، جس کا مطلب تھا کہ ان کی پوری جانچ تو نہیں ہوسکی ہے، لیکن منیمم سیفٹی اسٹینڈرس کو دھیان میں رکھا گیا ہے اور ان سے ٹیکے محفوظ پائے گئے ہیں۔ اب چوں کہ وسیع پیمانہ پر ٹیکوں کا استعمال ہورہا ہے اور کروڑوں لوگوں کو ٹیکے لگائے جاچکے ہیں تو اس میں برے نتائج کے کچھ معاملات کووی شیلڈ کے خلاف جارہے ہیں اور سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

کووی شیلڈ کو لے کر چل رہا تنازع ابھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کو لے کر زیادہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومتوں کو بھی عام لوگوں میں پنپ رہی تشویش کو ختم کرنے کیلئے اضافی کوششیں کرنی چاہیے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ٹیکے کی تاثیر کو اہمیت دیں۔ حقیقت یہی ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد محض ایک فیصد لوگوں میں موت کا خطرہ ہوتا ہے، جب کہ ٹیکہ کاری کے بعد موت کا یہ خطرہ کم ہوکر 0.0001 فیصد ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ٹیکوں سے ملنے والے تحفظ کی بنیاد پر ہی لوگوں کو اپنا ذہن بنانا چاہیے۔

لیکن کیا ان سوالات کو اتنی اہمیت دینی چاہیے؟ جسم کے اندر باہر سے ڈالی جانے والی کوئی بھی چیز کا اپنا سائیڈافیکٹ ہوتا ہے۔ ٹیکہ کا بھی یہی حساب ہے۔ حالاں کہ اس میں بھی کچھ برے نتائج ٹیکہ کی وجہ سے نظر آتے ہیں تو کچھ نفسیاتی وجوہات سے۔ مثلاً ٹیکہ لگتے ہی کپکپی آنا یا بیہوش ہونے کے واقعات عام طور پر ذہنی طور پر خوفزدہ ہونے کے سبب ہوتے ہیں، جب کہ بخار آنا، متلی آنا یا پھر چکر وغیرہ مسائل ٹیکے کے سبب ہوسکتے ہیں۔ شروع شروع میں اینٹی کورونا ٹیکوں کے سلسلہ میں یہ خدشات کچھ زیادہ تھے، کیوں کہ وسیع پیمانہ پر ان کی جانچ نہیں ہوسکی تھی۔
ان ٹیکوں کے تناظر میں یہ ریسرچ بھی نہیں ہوسکی تھی کہ وائرس کے خلاف یہ کس حد تک کارگر ہیں؟ جن لوگوں کو ٹیکے لگے، کیا انہیں بھی وائرس نے اپنا شکار بنایا؟ اور اگر وہ بیمار پڑے تو بیماری کی سنگینی کتنی رہی؟ یہ کچھ ایسے سوالات تھے جن کے جواب بعد میں تلاش کیے گئے۔ کچھ سوالات کے جواب تو اب بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔ ابھی تک کی تمام ریسرچ یہی بتارہی ہیں کہ جن ٹیکوں کو اجازت ملی ہے، وہ سبھی وائرس کے خلاف کام کررہے ہیں اور کورونا سے ہمیں بچا رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، جن لوگوں کو ٹیکے لگے اور وہ اگر بیمار بھی ہوئے تو انہیں زیادہ دقت نہیں ہوئی اور جلد ہی ٹھیک ہوگئے۔ شرح اموات بھی ٹیکے لگے اشخاص میں بہت کم نظر آئی۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ کووی شیلڈ ٹیکہ لگنے کے بعد کچھ لوگوں میں خون کے تھکّے جمنے کی شکایتیں آئی ہیں۔ یوروپی ممالک میں اس کے سبب کچھ اموات بھی ہوئی ہیں۔ نتیجتاً اس کے خلاف ماحول بنتا چلا گیا۔ اصل میں ٹیکہ کاری کے بعد موت کو معمولی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا۔ اپنے یہاں بھی بچہ دانی کے کینسر(uterine cancer)کی ایک ویکسین پر اس لیے پابندی عائد کردی گئی تھی کیوں کہ ٹیکہ لگنے کے بعد جنوب میں ایک خاتون نے دم توڑ دیا تھا، جب کہ اس ٹیکہ کو آج بھی کئی خواتین کے امراض کے ماہر یا ڈاکٹر کافی کامیاب بتاتے ہیں اور بچوں کو لگوانے کی سفارش کرتے ہیں۔
دیکھا جائے تو کوئی بھی ٹیکہ صدفیصد محفوظ نہیں ہوتا۔ مگر اینٹی کورونا ویکسین کے ساتھ اچھی بات یہ ہے کہ وائرس کے خلاف یہ کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ اپنے یہاں استعمال ہورہے کو ویکسین اور کووی شیلڈ، دونوں ٹیکوں کے اچھے فائدے نظر آئے ہیں۔ لہٰذا ٹیکہ متاثرکن ہو اور بڑے پیمانہ پر اس کے فائدے نظر آرہے ہوں تو برے نتائج کے ایک آدھ واقعات کو ہمیں ابھی نظرانداز کردینا چاہیے۔ ہندوستان بہت کم وسائل میں اپنے شہروں کو کورونا سے بچانے کی مہم چلا رہاہے۔ اسے پٹری سے اترنے نہیں دینا چاہیے۔ پبلک ہیلتھ کا یہی تقاضا ہے۔ حقوق انسانی کی کارکن بیشک ایک آدھ معاملات کو بھی توجہ دیں(جسے میں غلط نہیں مانتا، کیوں کہ ہر ایک شہری کو اس کا حق ملنا ہی چاہیے)، لیکن وسیع مفاد میں پبلک ہیلتھ ورکر ہر شہری کے لیے ٹیکہ کی وکالت کرتے ہیں۔بات جب جان سے منسلک ہو تو حق کا سوال فطری طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔
صاف ہے، کووی شیلڈ کو لے کر چل رہا تنازع ابھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کو لے کر زیادہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومتوں کو بھی عام لوگوں میں پنپ رہی تشویش کو ختم کرنے کے لیے اضافی کوششیں کرنی چاہیے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ٹیکے کی تاثیر کو اہمیت دیں۔ حقیقت یہی ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد محض ایک فیصد لوگوں میں موت کا خطرہ ہوتا ہے، جب کہ ٹیکہ کاری کے بعد موت کا یہ خطرہ کم ہوکر 0.0001فیصد ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ٹیکوں سے ملنے والے تحفظ کی بنیاد پر ہی لوگوں کو اپنا ذہن بنانا چاہیے۔ جوکھم اور خطرات زندگی کے ہر موڑ پر آتے رہتے ہیں، لیکن جن طریقوں سے یہ خطرے کم ہوسکیں، انہیں ضرور اپنانا چاہیے۔ اینٹی کورونا ویکسین بھی ہمیں ایسے ہی جوکھم سے بچاتی ہیں۔
(مضمون نگار سینئر پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ہیں)
(بشکریہ: ہندوستان)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS