سماجی و معاشرتی منظر نامہ میں بنگال کی اردو تحریک

0

محمد فاروق اعظمی

ہندوستان کی تاریخ جتنی قدیم ہے،بنگال کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ 8ویں صدی کے پال خاندان کے پال اول کے بعد 13ویں صدی کے سین خاندان تک متحدہ بنگال پر بنگالیوں کی حکمرانی رہی ہے۔ 14ویں صدی میں بنگال سلطنت کے قیام اور پھر اس کے بعد الیاس، بایزید، حابس اور حسین خاندان کے مختلف سلاطین سے ہوتے ہوئے 18ویں صدی میں نواب سراج الدولہ تک بنگال پر کم و بیش500سال تک کسی نہ کسی طرح مسلمان ہی حکمران رہے۔ شمالی ہند کے سوری خاندان سے لے کر غیاث الدین بہادر شاہ دوم اور دائود خان کررانی نے بھی بنگال پر طویل حکمرانی کی۔ سراج الدولہ کی معزولی کے ساتھ ہی بنگال دھیرے دھیرے مسلمانوں کے ہاتھ سے پھسلتا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ کثیر مسلم آبادی والایہ خطۂ ارض کئی ٹکڑوںمیں منقسم ہوگیا۔ بہار اور اڑیسہ تو ہندوستان کی ریاستیں بن گئیں لیکن میانمار اور بنگلہ دیش آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر طلوع ہوئے۔ اس دوران کتنے انقلابات آئے، بغاوتیں ہوئیں، سیاسی تحریک چلی وہ ایک الگ قصہ ہے۔ مگر طویل حکمرانی کے باوجوداس خطہ ارض پر مسلمانوں نے معاشرتی اور سماجی تبدیلی کا کوئی ایساقابل ذکر کارنامہ نہیں انجام دیا جوتاریخ کے صفحات پر درج ہو۔ بنگال میں آزادی سے قبل کے 100برس اوراس کے بعد کی سماجی اور معاشرتی بہبود کے حوالے سے تومسلمانوں کا دامن بالکل ہی کورا ہے۔
تاریخ کے مطابق انیسویں صدی عیسوی کا بنگال مذہبی و سماجی مصلحین، دانشور، ادبا، صحافی، محب وطن مقررین اور سائنس دانوں کی کہکشاں بنا ہوا تھااور ان تمام کا مقصد بنگال کو نئی سمت عطا کرتے ہوئے عہد وسطیٰ سے نکال کر جدید دور سے متعارف کرانا تھا لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کہکشاں میں دور دور تک مسلمانوں سے وابستہ کوئی ستارہ نہیں تھا۔بنگال میںسماجی اصلاحات کی تحریک، چاہے وہ ینگ بنگال موومنٹ ہو یا راجہ رام موہن رائے کی برہمو سماج کی شکل میں ہو یا پھردیانند سرسوتی کی آریہ سماج یاپھر چیتنیا دیوکی بھکتی تحریک ہو، اس کے مقابل میں مسلمانوں نے کوئی قدم اٹھاناگویا خود پر حرام کر لیا تھا۔ آزادی کے بعد بنگلہ بولنے والے اشرافیہ مسلمانوں کی اکثریت تو مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) کو سدھار گئی جو باقی مسلمان بچے انہوں نے بنگالی اشرافیہ کو اپنا مربی بنالیااور ان کی ہی طرز معاشرت کوگلے لگایا۔
رہ گیا نام نہاد اردو داں طبقہ تو اس نے بنگلہ مسلمانوں کے ساتھ سماجی اور معاشرتی اختلاط کی نہ کوئی کوشش کی اورنہ ہی عام بنگلہ بولنے والوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرپایا۔ ایک ہی جغرافیائی خطہ اورایک ہی جیسے سماجی و معاشرتی پس منظر کے باوجود اردوبولنے والے مسلمان اپنی الگ ہی دنیا میں سمٹے رہے۔ ان کی یہ دنیا ان کے ’ پاڑہ‘ تک محدودرہی ہے اورآج بھی یہی صورتحال ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بنگلہ مسلمانوںکے دینی رجحان پر جہاں ہندو بنگلہ تہذیب حاوی ہوتی گئی وہیں پس ماندگی اور درماندگی اردو بولنے والے مسلمانوں کا مقدر بنی اور یہ سیاسی جماعتوں کا ’ ووٹ بینک‘ بن کر رہ گئے۔اقلیت میں بھی لسانی اقلیت کی حیثیت رکھنے والا یہ طبقہ لگاتار سیاسی استحصال کا شکار رہا۔سرکار کے دربار میں ان کی نمائندگی کم ہوتے ہوتے بالکل ہی خاتمہ کے قریب پہنچ گئی تو سیاسی و سماجی بے وزنی نے انہیں ذلت و رسوائی کی دہلیز پر لاکھڑاکیا۔رہن سہن، معیشت و معاشرت، تعلیم و تعلّم، روزگار و کاروبارتو الگ رہے ان کی زبان’ اردو‘ بھی ستم کا شکار ہوئی۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ سچر کمیشن نے بنگال کے مسلمانوں کو ہندوستان کا ارزل ترین طبقہ قرار دیتے ہوئے ان کے حق میں کچھ سفارشات کیں۔ لیکن فقط ووٹ بینک کی حیثیت رکھنے والے سیاسی بے وزنی کے شکار مسلمانوں کوان کا حق نہیں ملا، سیاسی جماعتیں انہیں طرح طرح کے بہلاوے دیتی رہیں لیکن پس ماندگی سے نکالنے کیلئے کسی نے ان کا ہاتھ نہیں تھاما۔ سید امیرعلی، حاجی محمدمحسن، ملا جان محمد، بیگم رقیہ سخاوت، عبدالرئوف انصاری اور ڈاکٹر مقبول احمدجیسی چند ایک شخصیات نے مسلمانوں کے درد کا درماں ضرور تلاش کیا اپنی انفرادی کوششوں سے مسلمانوں کیلئے بہت کچھ کیا لیکن سیاسی طالع آزمائوں سے پنجہ آزمائی میں ان کاکسی نے ساتھ نہیں دیا۔
بنگال میں34برسوں تک کی طویل حکمرانی میں بایاںمحاذ نے مسلمانوںکو صرف ایک چیز دی ’بیف‘ کھانے کی آزادی۔ اس آزادی کی قیمت کے طور پر عزت نفس تک کو پامال کیا۔مسلمانو ں کے تہذیبی ورثہ کومٹانے کیلئے مادری زبان اردوکو ختم کرنے کی سازش کی گئی۔اس ماحول میں ابھرنے والے سیاسی طالع آزمائوں نے لوٹ کھسوٹ ضرور مچائی۔ مسلمان اور اردو کے نام پر اسمبلی کی سیٹ اوروزارت کا قلم دان بھی حاصل کیا لیکن مسلمانوں اور اردو کا کوئی بھلا نہیںکرپائے۔ان حالات میں ایسے شخص نے کمر کسی اور مسلمانوں کے تہذیبی ورثہ کی حفاظت کیلئے اردو کی حفاظت کا نعرہ لگایا۔ سیاسی بے وزنی کے شکار مسلمانوں کو ’ اردو نہیں تو ووٹ نہیں ‘ کا نعرہ دیا، اپنی مسلسل جدوجہد اور ان تھک محنت سے مغربی بنگال میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ اردو سے اپنے عشق کی لازوال داستان رقم کرنے والا یہ شخص نہ تو کوئی ادیب ہے نہ شاعر،نہ صحافی اور نہ پروفیسر بلکہ یہ اردو کا عاشق شمیم احمد ہے جو آج مغربی بنگال میں ’قائد اردو‘ کے نام سے معروف ہے۔ مغربی بنگال میں جہاں اردو کا نام لیا جاتا ہے، وہاں شمیم احمد کا نام آنا لازمی ہے۔ یوں تو مغربی بنگال میں انجمن ترقی اردو ہند نے بھی اردو کی تحریک چلائی، انفرادی سطح پر پروفیسر حیدرحسن کاظمی نے بھی اردو کا جوا اپنے کاندھے پر اٹھایا مگرعقل اور سیاست کے گرد طواف کرنے والی انجمن اور پروفیسر کاظمی کی تحریک کے مقابلے اردو سے عشق کی بنیاد پر کھڑی شمیم احمد کی تحریک ان سب پر بازی لے گئی۔
سماج واد اور سوشلزم قائد اردوشمیم احمدکاخاندانی وظیفہ ہے، ان کے والد اور بڑے بھائی اپنے علاقہ میں بڑے مزدور رہنما تھے۔ پورے خطہ چمپارن میںاپنی ممتاز شناخت رکھنے والے ان کے بڑے بھائی علی ’ودروہی‘ سماج کے پس ماندہ محروم طبقات، مزدوروں محنت کشوں کے حق میں توانا آواز تھے۔ان کی آغوش تربیت میںآنکھ کھولنے والے شمیم احمد نے اپنی عملی زندگی کا آغازباغیانہ تیور سے ہی کیا۔مغربی بنگال میں منتقل ہونے کے بعد حقوق انسانی کی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے نام سے ادارہ کی تشکیل کی اور پورے ملک میں اس کی شاخیں قائم کرکے نبی نوع انسان کی خدمت کو اپنا وظیفہ حیات بنالیا۔کسی مذہبی،سماجی اور سیاسی تفریق و امتیاز کے بغیر مجبوروں اور لاچار وں کی آواز بن کر ابھرے،انسانوں پر ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کرسامنے آئے۔بنگال کے مواضعات میں آتش زدگی متاثرین کی بازآبادکاری ہو یا پھر مجاہد آزادی بٹوکشور دت کے بردوان میں واقع بوسیدہ مکان کو قومی ورثہ قرار دینے کا معاملہ ہویا پھر ناگالینڈ کے سرحدی علاقوں میں پولیس فائرنگ کے شکار لوگوں کیلئے انصاف کا مطالبہ ہویا پھر آسام کے نوگائوں میں مظلوم و مقہور لوگوں کی داد رسی ہو ہر محاذ پرانہوں نے تحریک و جدوجہد کانقش چھوڑا ہے۔ پاکستان میں موت کی سزاپانے والے سربجیت سنگھ کے حق میںجنتر منتر سے راشٹر پتی بھون تک پیدل مارچ ہو یا پھر فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف بھوک ہڑتال کی کانٹوں بھری راہ، انہیں آسودہ لہو کرنے میں شمیم احمد نے ہی اپنے پائوں زخمی کیے ہیں۔(جاری)
[email protected]