موربی کا پل حادثہ

0

گجرات کے موربی میں پل گرنے کا جوحادثہ پیش آیا، اس سے پورا ملک غمزدہ،فکرمندہے اور متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے۔یقینا وہ لوگ واپس نہیں آسکتے جن کی موت ہوچکی ہے، لیکن غم کو بانٹنے سے وہ کچھ ہلکا ضرور ہوجاتا ہے۔ اس حادثہ سے سبق ضرور سیکھنا چاہیے اورجو غلطیاں ارادتاًیا غیرارادتاً ہوگئی ہیں،ان کی اصلاح کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں پھر ایسے حادثات رونمانہ ہوںاورکسی کی موت نہ ہو۔ہرحادثہ اچانک ہی پیش آتا ہے، صرف یہ کہہ کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں سکتے، وہ بھی اس وقت جب حادثہ کے اسباب ومحرکات موجود ہوں اورہم انہیں نظرانداز کرتے رہیں، بعد میں حادثہ کے بعد حقائق سامنے آئیں۔ جیساکہ موربی کے حادثہ کے بعد سامنے سب دیکھ رہے ہیں۔انتظامیہ کی بہت بڑی غفلت و لاپروائی کا پتہ چل رہاہے۔بتایاجاتا ہے کہ موربی کا جھولتا پل143سال قدیم برطانوی دور حکومت کاتھا، وہ اب تک چل رہاتھا، سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے اس سے سرکارکوکافی آمدنی بھی ہوتی تھی۔یہ بات سرکار بھی جانتی تھی کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ ٹکٹ خرید کر عام لوگوں کو اس پر گھومنے کیلئے جانے دیا جائے۔اسی لیے 6-7ماہ پہلے اسے مرمت کے نام پر بند کردیا گیا، 2کروڑ کی لاگت سے مرمت کا کام بھی ہوا،گرنے سے صرف 5دن پہلے اسے عام لوگوں کیلئے کھولا گیا۔سوال یہ ہے کہ کس طرح کی مرمت کی گئی تھی کہ پل 5دن بھی نہیں چل سکا۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن سے فٹنس سرٹیفکیٹ ملنے سے قبل ہی کھول دیا گیا، ایک خبر یہ بھی ہے کہ پل پر صرف 100لوگوں کی گنجائش تھی اورگرنے کے وقت اس پر 400-500لوگ تھے،اتنے لوگوں کو وہاں جانے کیلئے ٹکٹ کس نے فروخت کیے؟اورکس نے انہیں پل پر جانے دیا؟یہ تو اوربھی عجیب وغریب بات ہے کہ پل کی دیکھ بھال اورچلانے کاٹھیکہ ایک ایسی پرائیوٹ کمپنی کو دیا گیا تھا،جس کا یہ فیلڈ ہی نہیں ہے۔
جن حالات میں پل گرا، یقیناسوالات اٹھیں گے؟اورانتظامیہ کو جواب دیناہوگا، حیرت ہے کہ جب پل کی مرمت ہوئی تھی تو گراکیوں ؟موربی میونسپل کمیٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایس وی جالا کی یہ تاویل شاید ہی کسی کے حلق سے نیچے اترسکے کہ یہ پل کافی عرصے سے لوگوںکیلئے بند تھا۔ 7 ماہ قبل اس کی تزئین و آرائش کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ اس نے 26 اکتوبر (گجراتی نئے سال) کو نجی پل کو دوبارہ کھول دیا۔ کارپوریشن نے پل کیلئے فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا تھا۔توکیا اب کارپوریشن کی کوئی جوابدہی نہیں، جبکہ پل اس کے ماتحت آتا ہے۔ کیا پل کا ٹھیکہ دیتے وقت انتظامیہ نے نجی کمپنی کی صلاحیت اوراہلیت کی جانچ کروائی تھی کہ وہ چلاسکتی ہے کہ نہیں ؟اب تو سبھی کو پتہ چل گیاکہ کمپنی پل کا انتظام سنبھالنے کی اہل نہیں تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر پل کھولاگیاتو کارپوریشن نے کیوں نہیںبند کرایا؟یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اسے پل کے کھولنے کاعلم نہیں تھا کیونکہ 5دنوں سے ٹکٹ لے کر لوگ پل پرگھوم رہے تھے۔آخر کارپوریشن کی یہ کیسی نگرانی تھی کہ گنجائش اور صلاحیت سے زیادہ لوگ پل پر گھومنے کیلئے جارہے تھے اورانہیں کوئی روکنے یا ٹوکنے والا نہیں تھا۔ اگرنجی کمپنی نے پل کو کمانے کا ذریعہ بنایا، اس لیے وہ زیادہ ٹکٹ فروخت کررہی تھی تو کارپوریشن اس پر بندش لگاسکتاتھا۔ کارپوریشن بے خبر کیوں رہا؟ اس نے یہ خطرہ کیوں مول لیا؟صرف نجی کمپنی پر الزام لگاکر انتظامیہ کے لوگ اپنا دامن نہیں جھاڑسکتے۔پہلی اور بنیادی ذمہ داری ان ہی کی تھی،جو انہوں نے ادا نہیں کی۔ اب تویہ بھی خبر آرہی ہے کہ جس تاریا کیبل کے سہارے پل تھا، وہ بہت پرانا اورکمزور تھا۔تبھی ٹوٹ گیا۔پھرمرمت کے وقت کیبل کو کیوں نہیں تبدیل کیا گیا؟ ہندوستان میں پل گرنے اور اس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل 2003میں ممبئی کے قریب ندی پر 2011میں دارجلنگ کے قریب اور2016 میں کولکاتامیں پل گرنے کے حادثات ہوچکے ہیں۔کئی پل دوران تعمیر گرگئے ۔ ہرحادثہ کے بعد انکوائری کرائی گئی، کچھ لوگوں پر مقدمات چلائے گئے۔ موربی پل حادثہ میں یہی کیا جارہا ہے۔لیکن نہ تو ان واقعات سے کوئی سبق حاصل کیاگیا اورنہ تحقیقاتی کمیٹی یا کمیشن کی سفارشات پر عمل کرکے مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کیلئے انتظامات کیے گئے، جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔حادثہ کے بعد ہر حکومت ضروری قانونی کارروائی توکرتی ہے لیکن حادثہ سے پہلے کچھ نہیں کرتی۔بوسیدہ اورکمزورپلوں کا استعمال ہوتا رہتا ہے۔ استعمال بندکرنے کیلئے حادثہ کا انتظارکیا جاتاہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے۔
[email protected]