روس کے 5,710فوجی ہلاک،یوکرین کا دعویٰ

0
Metro

200 فوجی گرفتار،روس نے فوجیوں کی تعداد 40فیصد سے بڑھا کر 75فیصد کی
کیف (یو این آئی) : فوجی ماہرین کے مطابق روس نے 6 دنوں میں یوکرین کے اندر اپنے فوجیوں کی تعداد 40 فیصد سے بڑھا کر 75 فیصد کر دی ہے ۔ ولادیمیر پوتن کی فوج کے 5710 فوجی اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اطلاع یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے منگل کو ایک سرکاری بیان دی ہے ۔اس لڑائی میں مجموعی طور سے اب تک 5710 فوجی ہلاک اور 200 فوجی گرفتار ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ”تباہ شدہ اور خراب ہوائی جہاز 29 یونٹ، ہیلی کاپٹر 29 یونٹ، ٹینک 198، بی بی ایم؍ اے پی وی 846، آرٹلری سسٹم 77، اینٹی ایئر کرافٹ وارفیئر سسٹم 7، ایم ایل آر ایس 24، ایندھن کے ٹینک 60، یو اے وی آپریشنل اور ٹیکٹیکل لیول 3، کشتیاں 2 یونٹ، موٹر گاڑیاں؍ گاڑیاں 305 کا دشمنوں کو نقصان اٹھانا پڑاہے ۔ ’’انہوں نے یہ بھی بتایاکہ “ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے ۔ جنگ کی زیادہ شدت کی وجہ سے اعدادوشمار حاصل کرنا مشکل ہے ۔‘‘
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں زمینی جنگ اور ملٹری سائنسز کے ریسرچ فیلو جیک واٹلنگ نے بی بی سی کو بتایاکہ75 فیصد اعداد و شمار ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے دیا ہے ۔ ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ روسی فوجیوں کا ایک بڑا دستہ بیلاروس سے جنوب کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے اور کیف پر حملہ کرنے کے قابل ہونے کے لیے حالات قائم کرنا شروع کر رہا ہے ۔اس تجویز کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ روس نے خارکیف میں رہائشی علاقوں پر گرڈ میزائلوں کا استعمال کیا ہے ، انہوں نے بتایاکہ وہ متعدد لانچ راکٹ سسٹم سے ان علاقے میں بڑی تعداد میں ان گائڈیڈ میزائل فائر کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایاکہ ’’یہ حقیقت ہے کہ ان گائڈیڈ میزائلیں گنجان آبادی والے شہری علاقے میں زبردست دھماکے کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ یوکرین کی فوج اب فوجی فارمیشنز میں کام نہیں کر رہی ہے لیکن اب وہ کافی حد تک دفاعی پوزیشنوں میں ہے اور علاقائی دفاع اور رضاکار فورس کا زیادہ سے زیادہ حصہ بن رہی ہے جس کے ساتھ وہ کام کر رہی ہے ۔یوکرینی فوج نے چھٹے دن حملے کی پیش رفت کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ‘‘منگل کو دشمن نے فوج کو دوبارہ منظم کیا اور فضا سے میزائل اور بم برسائے ۔ روس نے ٹیکٹیکل لینڈنگ کی کوشش کی۔ شہری اور فوجی انفراسٹرکچر پر حملہ کرنے کے لیے تخریب کاری اور جاسوسی ٹیموں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔‘‘
دشمن کو شمال مشرقی سمت سے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی سے روکنے کے لیے سیورسکی کے علاقے میں دفاعی لڑائیاں جاری ہیں۔چرنیف کے مضافات میں علیحدگی پسند دشمن ڈی آر جی کی موجودگی کو نوٹ کیا گیا جس نے بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن یوکرینی محافظوں نے اسے تباہ کر دیا.رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر علاقوں میں یوکرین کی مسلح افواج کے ٹینک اور مشینی یونٹ، طیاروں اور توپ خانے کی مدد سے مقبوضہ سرحدوں پر دفاعی لڑائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جنرل اسٹاف نے بتایاکہ ’سلوبوزنشنا میں یوکرین کی مسلح افواج کے ائیر بورن اسالٹ ٹروپس کے مشینی بریگیڈز اور بی ٹی جی روسی قابضین کی افرادی قوت اور فوجی سازوسامان کو تباہ کر رہے ہیں جو دفاع کی فرنٹ لائن میں داخل ہونے اور پوزیشن کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘انہوں نے بتایا کہ ’کیف کی دفاعی افواج نے شہر کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں، دفاعی اور اہم ریاستی انفراسٹرکچر کی بیرونی سرحدوں کو برقرار رکھتے ہوئے قابض یونٹوں کو دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں تک پہنچنے سے روک رکھا ہے۔‘انہوں نے مزید بتایاکہ’دشمن کے ڈی آر جی کی شناخت اور اسے تباہ کرنے کے لیے فعال اقدامات کیے جا رہے ہیں جو بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلح افواج، نیشنل گارڈ اور یوکرین کی نیشنل پولیس کی ملٹری یونیفارم میں بھیس بدل کر لڑائی کے ذریعے کیف میں گھس جاتے ہیں۔ ‘