ویتنام جیسی ہے امریکہ کی یہ شکست

0

ہرش وی پنت

طالبان نے بندوق کی نوک پر افغانستان پر قبضہ کیا ہے۔ یہ امید غلط ہوگی کہ کابل پہنچ کر وہ بدل جائیں گے۔ اب اگر افغانستان کو خانہ جنگی سے بچنا ہے تو وہاں سیاسی سمجھوتہ چاہیے ہوگا، مگر اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ ابھی طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ افغانستان کے سارے فریقوں کو ساتھ لینے کے لیے تیار ہیں، لیکن ماضی کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے ان پر کتنا اعتماد کرنا چاہیے؟ شارٹ ٹرم میں یہ طالبان کی بڑی فتح ہے اور وہ اپنی فتح کا مکمل طور پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ وہاں جو بھی سیاسی انفرااسٹرکچر بنائیں گے، اسی پر ہے کہ نیا افغانستان کیسا ہوگا۔
کابل کے پاس سرینڈر کے علاوہ کوئی متبادل ہی نہیں تھا۔ پہلے تو آپ دیکھئے کہ یہ پوری دنیا کا کتنا بڑا انٹلیجنس فیلیئر ہے۔ ایک دو دن پہلے تک امریکی انٹلیجنس کہہ رہی تھی کہ کابل پر قبضہ میں طالبان کو 30دن لگیں گے۔ 30دن تو کیا، اس میں 30گھنٹے بھی نہیں لگے۔ طالبان کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ کوئی گروپ ایسا نہیں تھا، جو اس کی مخالفت میں کھڑا ہوجاتا۔ طالبان کے خلاف جو لوگ کھڑے ہوسکتے تھے، انہیں دنیا میں کہیں سے مدد نہیں ملی۔ طالبان کے مخالف اکیلے کھڑے تھے۔ اشرف غنی صاحب کے ساتھ کون کھڑا ہوا اس دوران؟ امریکہ نے کہا کہ ہم تین ہزار فوجی اور بھیجیں گے جو ان کے اپنے لوگوں کو نکالیں گے۔ ایسے میں ان کے سامنے سرینڈر کے علاوہ متبادل کیا تھا؟ طالبان کو جو موقع ملا، وہ امریکہ کی غلط پالیسیوں اور بائیڈن حکومت کی فوج واپس بلانے کی وجہ سے ملا۔ اس کا انہوں نے جنگ کے میدان میں فائدہ اٹھایا اور کابل منٹوں میں ڈھے گیا۔ دو دہائیوں سے بنائے ڈھانچہ کو ختم ہونے میں کچھ گھنٹے بھی نہیں لگے۔ویسے ان دو دہائیوں کی بات پر مجھے لگتا ہے کہ امریکہ میں بڑا سیاسی ہنگامہ ہونے والا ہے۔ فوج واپسی کی کوششیں تو اوباما کے وقت سے ہی چل رہی تھیں۔ سب علم تھا کہ امریکہ کے سیاسی مباحثوں میں افغانستان کا ایشو آہستہ آہستہ نیچے آرہا تھا۔ یہ صاف تھاکہ امریکہ آہستہ آہستہ وہاں اپنے فٹ پرنٹس کم کرے گا۔ اوباما اور ٹرمپ، دونوں نے فوجیں تو کم کیں، لیکن افغانستان میں ڈھانچہ کو ختم کرنے کی جانب نہیں بڑھے۔

ہندوستان نے ہمیشہ سے کہا ہے کہ جب تک افغانستان میں ایک ری پریزنٹیٹو حکومت نہیں ہوگی، سیاسی اسٹرکچر نہیں ہوگا، تب تک افغانستان کا مسئلہ قائم رہے گا، وہاں امن کا قیام یا استحکام نہیں آسکتا۔ حالاں کہ طالبان کہہ رہے ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر آئیں گے۔ اگر وہ ایسا کرلیتے ہیں، تب ہندوستان کے لیے معاملہ آسان ہوجائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ہندوستان کے لیے بڑی دقت ہوجائے گی کیوں کہ اس کے لیے کسی ایسے گروپ کو قبول کرنا بہت مشکل ہوگا، جس نے تشدد کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا ہو۔

جب بائیڈن حکومت آئی تو سکریٹری آف اسٹیٹ لنکن نے اشرف غنی کو خط لکھا کہ امریکہ اب سیاسی عمل آگے بڑھائے گا اور جیسے جیسے عمل آگے بڑھے گا، وہ فوجی واپس بلائے گا۔ لیکن ایک ماہ میں ہی بائیڈن بولے کہ وہ اس سال کے 11ستمبر تک سارے فوجی واپس بلالیں گے۔ نتیجتاً امریکہ کے وہاں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق جو غیریقینی صورت حال تھی، وہ ختم ہوگئی۔ اس سے وہاں ایک خلا پیدا ہوا۔ طالبان نے اسی کا فائدہ اٹھایا۔ مجھے لگتا ہے کہ بائیڈن حکومت کے لیے یہ بہت بڑی سیاسی شکست ہوگی۔ جیسی ہار ویتنام میں ہوئی تھی، ویسی ہی۔ ویتنام شکست کا ہی دوسرا نمونہ ہم یہاں پر دیکھ رہے ہیں۔
امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل پورا ہونے سے قبل ہی معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ امریکہ طالبان سے کہہ رہا ہے کہ وہ کابل پر بھلے حملہ کرے، لیکن وہاں موجود امریکیوں پر نہ کرے۔ اسے ان کا حریف چین پروجیکٹ کرے گا کہ یہ امریکہ کی کتنی بڑی شکست ہے اور اسے پرسیپشن بنانے میں اس سے فائدہ ملے گا۔ دوسرے، چین کے پاکستان کے ساتھ جس طرح کے قریبی تعلقات ہیں، وہ چاہے گا کہ افغانستان میں جس انارکی کے امکانات نظر آرہے ہیں، اس کا اثر اس کے یہاں شن چیانگ میں نہ پڑے۔ چین نے طالبان کو بلایا بھی تھا اور طالبان کے لیڈرس وہاں گئے بھی تھے۔ وہاں طالبانیوں نے کہا تھا کہ وہ چین اور اس کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں، دہشت گردی کے مسئلہ پر چین کو کوئی پریشانی نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن دوررس نتائج چین کے لیے بھی وہی ہوں گے، جو باقی دنیا کے لیے ہوں گے۔ اگر کوئی انتہاپسند نظریہ افغانستان میں پنپ رہا ہے اور اسے بڑی فتح حاصل ہوئی ہے تو اس کا اثر اس کے پڑوسی ممالک سمیت باقیوں پر بھی پڑے گا۔ نظریہ کو تو سرحد میں نہیں باندھ سکتے۔
ایسے میں یہ مان لینا کہ افغانستان میں جو ہورہا ہے، وہ صرف وہیں تک رہے، دوسرے ملکوں تک نہ پہنچے، یہ بڑی غیرفطری بات ہے۔ اس کا نتیجہ چین، پاکستان اور روس سمیت وسطی ایشیا کو جھیلنا ہی پڑے گا۔ چین اور روس کی ترجیحات بڑی محدود ہیں۔ چین چاہتا ہے کہ شن چیانگ محفوظ رہے، روس چاہتا ہے سینٹرل ایشیا پر اس کا اثر نہ پڑے۔ ابھی تو طالبان ان کی مرضی کے مطابق وعدہ کرکے ان سے حمایت حاصل کرلیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ چین اور روس جلدی ہی طالبان کی حکومت کو قبول بھی کرلیں گے۔ لیکن دوررس نتائج وہی ہوں گے، جن کا خوف ہے کیوں کہ شدت پسند نظریہ کو آپ روک نہیں سکتے۔
ہندوستان نے ہمیشہ سے کہا ہے کہ جب تک افغانستان میں ایک ری پریزنٹیٹو حکومت نہیں ہوگی، سیاسی اسٹرکچر نہیں ہوگا، تب تک افغانستان کا مسئلہ قائم رہے گا، وہاں امن کا قیام یا استحکام نہیں آسکتا۔ حالاں کہ طالبان کہہ رہے ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر آئیں گے۔ اگر وہ ایسا کرلیتے ہیں، تب ہندوستان کے لیے معاملہ آسان ہوجائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ہندوستان کے لیے بڑی دقت ہوجائے گی کیوں کہ اس کے لیے کسی ایسے گروپ کو قبول کرنا بہت مشکل ہوگا، جس نے تشدد کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا ہو اور جس کی قانونی حیثیت پر بڑے سوال ہوں۔ ہندوستان لمبے وقت سے کہہ رہا ہے کہ تعلقات تو طالبان کے رویہ پر منحصر ہیں۔ اگر طالبان شدت پسند، حقوق انسانی اور خاتون مخالف سوچ اپناتا ہے تو ہندوستان کے لیے ایسی حکومت کو قبول کرنا بڑا مشکل ہوگا۔ اگر طالبان ایک منتخب حکومت بنانا چاہتے ہیں، کابل اور دوحہ میں کچھ بات آگے بڑھتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اس صورت حال میں ہندوستان امید کرسکتا ہے۔
(بشکریہ: نوبھارت ٹائمس)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS