ملک کو بدنام کرا رہی ہے انتہا پسند ی کی یہ خطرناک سیاست

0

عبیداللّٰہ ناصر

’دی کشمیر فائلز‘ جیسی گھٹیا و نفرت آمیز فلم بنانے والے وویک اگنی ہوتری کو کیمبرج یونیورسٹی میں بولنے نہیں دیا گیا۔ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر بھارتیہ جنتا پارٹی یوا مورچہ کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ بن جانے والے تیجسوی سوریہ کو آسٹریلیا سے نکال باہر کیا گیا۔ شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی خاتون ترجمان اور دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی کے میڈیا شعبہ کے سربراہ نوین کما ر جندل کے بیانوں سے نہ صرف اندرون ملک مسلمانوں اور سماج کے سبھی انصاف پسند سیکولر عناصر نے سخت ناراضگی ظاہر کی بلکہ قطر، کویت، ایران، سعودی عرب اور مصر میں شدید رد عمل ہوا اور ان ملکوں میں تعینات ہندوستانی سفیروں کو ان ملکوں کی وزارت خارجہ کے دفتر میں طلب کر کے سخت احتجاج درج کرایا گیا۔ ان ملکوں کے سپر اسٹوروں سے ہندوستانی مال کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔امریکی وزارت خارجہ نے کھلے الفاظ میں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر تشویش ظاہر کی اور ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورت حال اور حقوق انسانی کی پامالی کا سخت نوٹس لیا۔ یہ ہے اس ایک ہفتہ کا ریکارڈ اور بدنامی و طوق جو سنگھی لمپٹوں نے ہندوستان کے گلے میں ڈالا ہے ۔
کسی ملک کی وزارت خارجہ کے دفتر میں دوسرے ملک کے سفیر کو طلب کر کے وہاں کے واقعات پر رد عمل ظاہر کرنا سفارت کاری کا ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے، ایک ہی دن میں چار پانچ ملکوں کی وزارت خارجہ میں ہندوستانی سفرا کو طلب کیا جائے اور ایک ہی موضوع پر سخت رد عمل ظاہر کیا جائے یہ اپنے آپ میں ایک سنگین بات ہے لیکن اس سے بھی اہم ہے قطر کی حکومت کا ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ کے اعزاز میں دی جانے والی ضیافت کا احتجاج میں رد کر دینا۔اگر ان واقعات کے بعد بھی وزیر اعظم سمیت دیگر لیڈروں، حکومت اور پارٹی کے ذمہ داروں کی آنکھ نہیں کھلتی تو حالات پر ماتم کرنے کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے۔
ملک کے جو سماجی حالات ہیں اور جو انتشار پھیلا ہوا ہے اور بیرونی ملکوں میں اس کا جو رد عمل سامنے آ رہا ہے، اسی پر راہل گاندھی نے کیمبرج یونیورسٹی کے پروگرام میں کہا تھا کہ مودی حکومت نے ملک میں مٹی کا تیل چھڑک دیا ہے اور ایک ذرا سی چنگاری ملک کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔یہ ایک مثبت آگاہی بھی تھی اور حقیقت بیانی بھی حالانکہ حسب عادت حکومت، حکمراں پارٹی اور میڈیا سب میں راہل گاندھی کے بیان کی مذمت ہوئی لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہی ہوتی ہے، اس سے نظریں بھلے ہی چرا لیں، بدل نہیں سکتے۔
کسی پودے کے تناور درخت بننے میں ساٹھ ستر سال لگ جاتے ہیں لیکن اسے کاٹنے میں چند گھنٹے ہی لگتے ہیں۔ پرانا مقولہ ہے کہ تعمیر برسوں میں ہوتی ہے تخریب منٹوں میں، یہی کچھ وطن عزیز کے ساتھ ہو رہا ہے۔ 15؍اگست 1947 کو جواہر لعل نہرو نے جو پودہ لگایا تھا وہ 2013 تک زمانہ کے گرم و سرد جھیلتا ہوا ایک تناور درخت بن گیا تھا لیکن 2014 میں اس درخت میں دیمک لگنے لگی اور آج حالت یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے جنگ آزادی کے دوران ملک اور قوم کو جو آدرش اور اصول دیے تھے اور جواہر لعل نہرو نے اپنی دور اندیشی، فہم و فراست سے ایک نو آزاد معاشی اور فوجی طور سے کمزور ملک کو عالمی برادری میں جو عزت دلائی تھی اور ان کے بعد کے سبھی وزرائے اعظم نے جس کی حفاظت کی تھی، وہ تمام اصول و آدرش اور وہ تمام عزت و نیک نامی مٹی میں مل گئی ہے۔ملک معاشی طور سے کھوکھلا، سماجی طور سے بکھرا ہوا اور عالمی برادری میں اتنا بے عزت کبھی تصور میں بھی نہیں ہو سکتا تھا جتنا گزشتہ8-10 برسوں کی غیر ذمہ دار سیاست اور حکمرانی نے اسے بنا دیا ہے۔ اقتدار اور تعداد کے نشے میں بدمست نفرت کے تاجروں نے حکومت کی سرپرستی میں جو طوفان بدتمیزی کھڑا کیا تھا، اس کا منطقی انجام اب سامنے آنے لگا ہے۔مودی کے ہندوستان میں یہاں کے مسلمانوں کے لیے عرصۂ حیات جس طرح تنگ کیا جا رہا تھا، اس پر عرب اور مسلم ملکوں سے زیادہ یوروپی ملک اور امریکہ میں تشویش ظاہر کی جا رہی تھی لیکن حکومت ہند اسے ملک کا اندرونی معاملہ کہہ کر رفع دفع کر دیتی تھی حالانکہ اسے معلوم ہے کہ حقوق انسانی کی پامالی اب کسی ملک کا ا ندرونی معاملہ نہیں رہ گیا ہے۔اندرون ملک فرقہ پرست عناصر کے حوصلے حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے بڑھے ہوئے تو ہیں ہی، اسی دوران ایک ٹی وی مباحثہ میں بی جے پی کی ایک خاتون ترجمان نے شان رسالتؐ میں ایسی گستاخی کی کہ اس کا مسلم ملکوں میں بھی شدید رد عمل ہوا۔ قطر، کویت، سعودی عرب اور ایران نے ایک ہی دن میں ہندوستانی سفیروں کو طلب کر کے اس بیہودگی پر سخت احتجاج کیا اور ان ملکوں کے بڑے بڑے سپر اسٹوروں سے ہندوستانی اشیا ہٹائی جانے لگیں، یہ مار چونکہ کارپوریٹ کے مفاد پر پڑ رہی تھی، اس لیے حکومت ہند نے بعد از خرابی بسیار اور با دل نخواستہ اپنی خاتوں ترجمان کو پارٹی سے معطل کر دیا حالانکہ یہی حرکت اگر کسی مسلم یا دلت نے کی ہوتی تو اس پر سخت ترین دفعات پر مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہوتا اور اس کے گھر پر بلڈوزر چلا دیا گیا ہوتا۔شیو لنگ پر کوئی تبصرہ کر دینے سے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال کو فی الفور گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن اس بدزبان ترجمان کے خلاف متعدد تحریری شکایتوں کے باوجود تا دم تحریر کوئی مقدمہ نہیں درج کیا گیا ہے۔ بیرون ملک رد عمل کے بعد اسے پارٹی سے معطل کر دینا کوئی سزا تو نہیں ہے۔
اقتدار اور تعداد کے نشہ میں بد مست ہندو احیا پسند بلکہ حقیقی معنوں میں ہندو انتہا پسند عناصر نے گزشتہ ایک دہائی سے ملک میں فرقہ پرستی، نفرت، تشدد اور آئین ہند کی قدم قدم پر خلاف ورزی اور توہین کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا، وہ اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔تباہی کا جو راستہ ان عناصر نے اقتدار ملنے کے بعد منتخب کیا تھا، وہ منزل تک پہنچ رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ صاحبان اقتدار ہوش کے ناخن لیں، پٹری سے اتر گئے ملک کے نظام کو واپس پٹری پر لائیں، تاریخ کو مٹانے اور بدلنے کی احمقانہ کوششیں ترک کریں اور تاریخ سے سبق لیں۔ زیادہ دور نہ جائیں، نازی جرمنی اور اس کے سربراہ ہٹلر سے سبق لیں۔ہٹلر نے بھی دس برسوں میں جرمنی کو ہی مکمل طور پر تباہ نہیں کیا تھا بلکہ پوری انسانیت کو وہ زخم دے گیا جو قیامت تک اسے قابل نفرت بنائے رکھے گا۔ نازی جرمنی اور اس خود اس کا انجام عبرت ناک تھا، اسی طرح اس کے دیرینہ دوست مسولینی، اس کے ملک اٹلی، اس کی فاشسٹ پارٹی کا بھی عبرت ناک انجام تھا اور اس کے ایک دوسرے حلیف جاپانی وزیراعظم توجو نے بھی اپنے ملک جاپان کو ایٹمی بھٹی میں جلا دیا تھا۔ان لیڈروں نے بھی اپنے عوام کو جارحانہ قوم پرستی، نسلی برتری، اپنے ہی ہم وطنوں سے نسلی یا مذہبی بنیاد پر نفرت کی افیم پلا کر ان کے ذہنوں کو، ان کی سوچنے سمجھنے، اچھا برا سمجھنے، مستقبل کے خطرات کو سمجھنے کی صلاحیت صلب کر لی تھی۔ ان کے ذہن میں صرف یہ بیٹھا دیا گیا تھا کہ ان کا لیڈر ایک سپر نیچرل شخصیت ہے، عقل کل ہے، ان کا نجات دہندہ ہے اور صرف وہی ان کے ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ نازی جرمنی، فسطائی اٹلی اور جاپان سے بھی تازہ مثال سری لنکا کی ہے، وہاں بھی اکثریتی سنہالا بودھوں نے اقلیتی تمل ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے عرصۂ حیات تنگ کر کے ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا تھا اور دس برسوں بعد ہی ان کے سب سے مقابل سمجھے جانے والے صدر مملکت راج پکشے کی حالت یہ ہو گئی کہ عوام کے ڈر سے انہیں چھپ کر بھاگنا پڑا، یہ تو ابھی کل کا واقعہ ہے۔
سری لنکا کے واقعات کے بعد بھی ہندوستان کے حکمرانوں کی ہی نہیں، عدلیہ تک کی آنکھ نہیں کھلی اور سنگھی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے عدالتیں خلاف قانون داخل کی گئیں ان عرضیوں کی سماعت کر رہی ہیں جن میں ہر مسجد کے نیچے ایک شیو لنگ یا کوئی مندر کے باقیات ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا اور انصاف و قانون کی حکمرانی قائم رکھنے کا تقاضہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ ایسے کسی مقدمہ کے نا قابل سماعت ہونے کا حکم دے دیتا یا وزیر اعظم اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران ایسے متنازع معاملات کو اٹھانے اور گڑھے مردے اکھاڑنے کے خلاف کوئی واضح رخ اپناتے لیکن صا ف ظاہر ہے کہ ایسے سبھی معالات کو اٹھانے اور عدالتوں کے ذریعہ ان کو الجھانے کے پس پشت ان کی مرضی شامل ہے، ایسے میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کی قدر کی جانی چاہیے جو انہوں نے ایسے معاملات اٹھانے اور ہر مسجد کے نیچے ایک مندر کے باقیات تلاش کرنے کے خلاف دیا ہے حالانکہ گیان واپی اور متھرا کی مسجدوں کو لے کر ان کا بیان شک پیدا کرتا ہے لیکن دیگر معاملوں میں اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے بشرط یہ کہ وہ محض بیاں بازی نہ ہو، سنگھی لمپٹ اس پر عمل بھی کریں ۔
گزشتہ آٹھ برسوں کی سیاست نے ملک کو ہر محاذ پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے۔ ملک اور بیرون ملک ہندوستان کے مفاد کو ہی نہیں بلکہ اس کی عزت کو بھی مٹی میں ملا دیا گیا ہے۔ اگر اب بھی آنکھ نہ کھلی، حکومت نے اپنا رویہ اور عوام نے اپنی سوچ نہ بدلی تو ناقابل تصور بربادی ہمارا مقدر بن جائے گی۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]