ہندوستان میں مذہبی آزادی پر حملہ

0

محمد فاروق اعظمی

جیسا کہ روایت رہی ہے اس بار بھی ہندوستان نے مذہبی آزادی کے تعلق سے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اوراسے متعصبانہ خیالات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ یک طرفہ اور بدنیتی پر مبنی تبصرہ ہے۔ امریکی رپورٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے جہاں ہندوستان کے تکثیری معاشرہ کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں، وہیں جواب آں غزل کے طور پر امریکہ میں نسلی حملے، نفرت انگیز جرائم اور تشدد پر اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔اتنا ہی نہیں ہماری وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔ اب یہ تو وہی بہتر بتاپائیں گے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں سے امریکہ کی سیاست میں کس پارٹی کا ووٹ بینک مضبوط ہوپائے گا۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ ہندوستا ن میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کی جان و مال اور عزت وآبرو پر حملوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اوریہ اضافہ بھارتیہ جنتاپارٹی اور اس کے ہم نوائوں کے ووٹ بینک میں بھاری بھرکم اضافہ کا بھی سبب ہے۔گزشتہ ایک دہائی سے ملک کے ماحول میں اتنازہر انڈیلا جارہاہے کہ آج روزانہ ملک کے کسی نہ کسی حصہ میں فرقہ وارانہ تشدداورمسلم دشمنی کا واقعہ ہورہاہے۔ مسلمانوں کے روزگار کے وسائل، عزت و آبرو سے جینے کے حق پر ڈاکہ زنی کو ان کہی سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ مسلمانوں کو عملاً دوسرے درجہ کا شہری بنادیاگیا ہے، مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور دینی شعار پرحملے ہندوستان کی سیاست کا پسندیدہ عمل بن چکے ہیں۔ حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی کے چھوٹے بڑے تمام لیڈران مسلم دشمنی میں پیش پیش ہیں۔فرقہ واریت اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر حاصل ہونے والے ووٹ کو بھارتیہ جنتاپارٹی ہندوستا ن کو ہندوراشٹر بنانے کا مینڈیٹ بھی سمجھ رہی ہے اور کچھ عجب نہیں کہ آنے والے برسوں میں اس مذموم خواب کو تعبیر بھی دے دی جائے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے ان ہی زمینی حقائق کی تفصیل بیان کی ہے۔یہ رپورٹ امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دو روز قبل جاری کی ہے جس میں دنیا میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا منظر نامہ پیش کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں ہر ملک کیلئے اس کا الگ باب ہے۔ ہر ملک میں مذہبی آزادی کی حالت بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ میں حکومتی پالیسیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جو مذہبی عقائد اور گروہوں، مذہبی فرقوں اور افراد کے طریقوں اور دنیا بھر میں مذہبی آزادی کو فروغ دینے کیلئے امریکی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ہندوستان کی بابت امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں 2021 کے دوران اقلیتی برادریوں کے افراد پر حملے سال بھر جاری رہے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں قتل، مار پیٹ اور ظلم و ستم بھی شامل ہیں۔ہر چند کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی صورتحال پر رائے زنی سے رپورٹ میں گریز کیاگیا ہے لیکن رپورٹ میں آزادانہ طور پر مختلف رضاکار تنظیموں اور اقلیتی اداروں کی جانب سے ان پر حملوں کے الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ اقلیتوں پر مظالم کے معاملے میں حکومت کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔اس رپورٹ میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے اور انہیں مذہب کی بنیاد پر الگ نہیں کیا جانا چاہیے۔امریکی رپورٹ میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ’کارستانیوں‘ کابھی ذکر کیا گیا ہے۔
دیکھا جائے تو امریکی رپورٹ کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر سال جاری ہونے والی اس رپورٹ میںہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے احوال پر تفصیل کے ساتھ ذکر ہوتا رہتا ہے اور ہر سال ہماری حکومت اس رپورٹ کو مسترد کرتی آئی ہے۔ سال 2022 کی رپورٹ کو حکومت نے مسترد کرکے روایت کی پابندی کی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ہندوستان کے لوگ ناواقف ہوں۔ ہر ہندوستانی کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے اور یہ احساس بھی ہے کہ ملک میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے خلاف منظم طریقے سے دشمنی کی جارہی ہے۔مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد 2014 سے یہ سلسلہ تیز تر ہوگیا ہے۔ملک کی اقلیتوں اور مسلمانوں میں خوف و ہراس اور تنائو کا ماحول ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد اور فسادات کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 2016سے 2020 کے چار برسوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے کل 3399 واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ہر سال مسلمانوں کے خلاف فسادات اور تشدد کے واقعات کی تعدادمیں اضافہ ہورہا ہے۔ 2016میں 698مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے جو2020میں بڑھ کر723ہوگئے۔آج 2022میں صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی سے وابستہ لیڈران سر عام توہین رسالتؐ کا ارتکاب کرتے ہیں اور داروگیر کاکوئی عمل حرکت میں نہیں آتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جو کچھ ہو رہاہے، اسے حکومت کی مکمل تائید حاصل ہے۔اس شبہ کو تقویت اس سے بھی ملتی ہے کہ حکومت اب تک2021میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشددکاڈیٹاجاری کرنے سے بچتی آرہی ہے۔
حکومت مذہبی اقلیتوں پر حملوں کو روکنے میں پوری طرح ناکام ہے، یہ ناکامی حکومت کی ’پالیسی‘ بن چکی ہے۔ مذہبی آزادی ختم کرناحکومت کے ایجنڈا میں شامل ہوچکا ہے۔ تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قانون بنا کر اس آزادی کو ختم کیا جارہا ہے۔ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ،گجرات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، راجستھان، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سمیت ملک کی 28 میں سے 10 ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی پر پابندی کے قوانین موجود ہیںاور ان ریاستوں میں مذہب تبدیل کرنا جرم ہے۔ یہ قانون مسلمانوں اور مسیحیوں پر پوری طاقت کے ساتھ نافذ کیاجارہاہے۔ گائے کی حفاظت کے نام پر انسانوں کے قتل و خون کی کھلی آزادی دے دی گئی ہے۔ ملک کی25ریاستوں میں گائے ذبیحہ پر مکمل پابندی ہے۔ مدھیہ پردیش میں تو گائے کی حفاظت کا باقاعدہ قانون بنادیاگیا ہے۔ اس قانون کے تحت بھاری جرمانہ اور تین سال کی قید کی سزا بھی ہے۔یہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد قانون ہے جو مویشیوں کی حفاظت کیلئے انسانوں پر نافذ کیا جاتاہے۔’گئو رکشک‘ کے نام سے دہشت گردوں کا ٹولہ جگہ جگہ اپنے شکار کی تلاش میں گھات لگائے بیٹھا رہتا ہے اورموقع ملتے ہی تشدد کا نشانہ بناکر ہلاک کرڈالتا ہے۔حکومت سے وابستہ لیڈران ان دہشت گردوں کی گل پوشی کرکے ان کی ستائش اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف منافرت کی مہم اتنی زور پکڑ چکی ہے کہ اب شبہ میں جین مذہب کے لوگ بھی مارے جارہے ہیں۔
یہ بجا ہے کہ ہندوستان تکثیری معاشرہ ہے، اس ملک کے آئین نے مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ اب حکومت کی ’سرپرستی ‘ میں اس تکثیری معاشرہ کو یک رنگا کرنے اور مذہبی آزادی ختم کرنے کی سر توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہم امریکی رپورٹ کو بھلے ہی رد کردیں لیکن مذہبی آزادی پر ہونے والے حملے کی حقیقت اور مسلم دشمنی سے انکار نہیں کرسکتے ہیں۔
[email protected]