نوبت یہاں تک کیوں آئی؟

0

ہندوستان اپنی رواداری کے لیے مشہور رہا ہے۔ ’سرو دھرم سم بھاو‘ایک ایسا اصول رہا ہے جس نے دیگر مذاہب کے لوگوں کے لیے اس ملک کو جنت نشاں بناکر رکھا۔ اس اصول پر چلتے ہوئے رام کرشن پرم ہنس اور سوامی وویکانند جیسی اہم ہستیوں نے اپنے مذہب کی خدمت بھی کی، اپنے ملک کی خدمت بھی کی اور اپنے علم و اخلاق سے عالمی سطح پر لوگوں کو متاثر کیا مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما اور بی جے پی کی ہی دہلی یونٹ کے میڈیا چیف نوین کمار جندل کس وچار دھارا کو مانتے ہیں۔ وہ اگر ’سرو دھرم سم بھاو‘میں یقین رکھتے،ان کی راہ اگر مذہبی رواداری اور دیگر مذاہب کے احترام کی راہ ہوتی تو وہ حضرت محمدمصطفیؐ پر مذموم ریمارکس ہرگز نہیں دیتے، ان کے بیانات کی وجہ سے لوگوں کے جذبات مجروح نہیں ہوتے، وہ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہیں نکلتے اور جو کانپور میں ہوا، وہ نہیں ہوتا۔ کسی بھی وجہ سے بدامنی پھیلائی جائے، اسے صحیح ٹھہرانا مناسب نہیں۔ کوئی بھی بدامنی پھیلانے کی وجہ بنے، اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی، اس لیے بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی کہ کانپور میں بدامنی پھیلی اور لوگ گرفتار کیے گئے، سوال یہ ہے کہ احتجاج کی نوبت ہی کیوں آئی؟ کیا پتھر چلانے والوں پر ہی یواے پی اے لگایا جائے گا، انہیں ہی جیل کی سزا دی جائے گی، احتجاج کی وجہ بننے والے لوگوں کی سزا صرف پارٹی سے معطل اور مسترد کر دینا ہی ہوگی جبکہ نوپور شرما اور نوین کمار جندل وہ لوگ ہیںجن کی وجہ سے پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہورہی ہے اور بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ کو یہ کہنا پڑا ہے کہ ’پارٹی کسی بھی ایسے نظریے کے خلاف ہے جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی توہین کرتا ہے۔‘
نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے مذموم بیانات کی دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے، کیونکہ حضرت محمدمصطفیؐ کو مسلمان رحمت اللعالمین مانتے ہیں تو انہیں آئیڈیل ماننے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ امریکی رائٹر مائیکل ایچ-ہارٹ نے اپنی کتاب The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History میں دنیا بھر کی 100 بڑی شخصیتوں کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔ اس فہرست میں ہارٹ نے پہلا مضمون آپؐ پر لکھا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے۔ مائیکل ایچ-ہارٹ نے لکھا ہے کہ ’ممکن ہے کہ انتہائی متاثرکن شخصیات کی فہرست میں(حضرت) محمدؐ کا شمار سب سے پہلے کرنے پرچند احباب کو حیرت ہو اور کچھ کو اعتراض بھی ہو مگر وہ واحد تاریخی ہستی ہیں جو مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر برابر طور پر کامیاب رہے۔‘مگر عظیم شخصیتوں کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اوران کا احترام کر سکتے ہیں جو عظمت کو سمجھتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ عظیم شخصیتوں کی شان میں گستاخی کرنا اپنی حقیقت بتانے جیسا ہے۔ ہندوستانیوں کے عربوں سے تعلقات برسوں پرانے ہیں۔ اس سلسلے یہ ذکر نامناسب نہ ہوگا کہ 1036 ق-م- میں حضرت سلیمانؑ کی کشتی ترواننت پورم کی بندرگاہ پر آکر لگی تھی۔ آپؐ کی زندگی میں ہی ہندوستان میں 629 میں چیرامن جمعہ مسجد قائم کر دی گئی تھی۔ آج سے چند برس پہلے تک نہ اسلام اس ملک کے لیے کبھی ایشو تھا اور نہ ہی مسلمان، مگر ادھر کے چند برسوں میں یہ دونوں ایشو ہیں۔ کبھی حجاب کے نام پر، کبھی حلال گوشت کے نام پر تو کبھی کسی اور نام پر۔ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حالات اس نہج تک کیوں پہنچے۔ ایک نہیں، دو نہیں، متعدد مسلم ملکوں نے نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے بیانات کی مذمت کی ہے۔ 57 مسلم ملکوں کی تنظیم او آئی سی نے پیغمبر محمدمصطفیؐ کے خلاف تبصرے پر ہندوستان پر تنقید کی ہے اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس تبصرے کو ’تنگ ذہنیت والا، گمراہ کن اور شرارت آمیز‘ بتاتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہندوستان سبھی مذاہب کے تئیں اعلیٰ ترین احترام کا جذبہ رکھتا ہے اور 57 رکنی گروپ کا بیان پوشیدہ مفاد پرست عناصر کی شہ پر اس کے تخریبی ایجنڈے کو اجاگر کرتا ہے۔‘ ان کے مطابق، ’کچھ لوگوں کے ذریعے ایک مقدس ہستی کے خلاف جارحانہ ٹوئٹ اور نازیبا تبصرہ کیاگیا۔ یہ تبصرے کسی بھی طور پر حکومت ہند کے نظریات کو ظاہر نہیں کرتے ہیں۔‘
نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے نازیبا کلمات پر دیگر ملکوں کے عام مسلمان بھی ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ ہندوستانی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں جو ہمارے عزیز ملک کے لیے ٹھیک نہیں۔ حالیہ تنازع پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ لکھا ہے کہ ’اندرونی طور پر تقسیم ہونے سے ہندوستان باہری طور پر کمزور ہوگیا ہے۔ بی جے پی کی شرمناک کٹر پسندی نے نہ صرف ہمیں الگ تھلگ کر دیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
[email protected]