دنیا خطرناک کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے

0

واشنگٹن، (یو این آئی) :عالمی بینک نے کہا کہ بلند افراط زر، شرح سود میں اضافہ اور ترقی پذیر ممالک پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عالمی معیشت خطرناک کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ ملپاس نے جمعرات کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پریس کانفرنس میں کہاکہ ’ہم نے عالمی نمو کےلئے اپنی 2023کی ترقی کی پیشین گوئی کو تین فیصد سے کم کر کے 1.9فیصد کر دیا ہے ‘۔مسٹر ملپاس نے کہاکہ ہم ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کو آگے بڑھنے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں قرضوں میں اضافے کی وجہ بلند شرح سود ہے ۔ ایک طرف قرضہ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف ان کی کرنسیوں کی قدر میں کمی ہو رہی ہے ۔ کرنسی کی قدر میں کمی سے قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا مسئلہ ہے ، شرح سود بڑھ رہی ہے اورترقی پذیر ممالک میں سرمائے کا جوبہا¶ ہورہا تھا، وہ رک گیا ہے۔ اس سے غریب متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کساد بازاری کچھ حالات کے تحت ہے ۔ستمبر کے وسط میں شائع ہونے والے ایک مطالعہ میں ورلڈ بینک نے آگاہ کیا تھا کہ جیسے جیسے دنیا بھر کے مرکزی بینک افراط زر کے جواب میں شرح سود میں اضافہ کریں گے ، دنیا 2023میں عالمی کساد بازاری کی طرف بڑھتی جائے گی۔ انہوں نے 0.5فیصد اضافے کا تخمینہ لگایاہے ۔انہوں نے ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ 19وبا نے 1990کے بعد عالمی غربت میں کمی کی کوششوں کو سب سے بڑا دھچکا پہنچایا۔ کووڈ کی وجہ سے 2020میں سات کروڑ لوگوں کوانتہائی غربت میں دھکیل دیا اور یوکرین کی جنگ نے اسے مزید بدتر بنا دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ’میرے خیال میں نئے کاروبار اورترقی پذیر ممالک میں سرمائے کے بہا¶ کی اجازت دینے کے لئے دنیا کو جن مسائل سے نمٹنا ہے ان میں سے ایک ہے ، جوترقی یافتہ معیشتوں میں مالیاتی اور مالیاتی پالیسیوں کی سمت میں تبدیلی ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو ترقی یافتہ معیشتوں کی جانب سے انتہائی چیلنجنگ ماحول کا سامنا ہے اور اس کے سنگین مضمرات ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک کو خطرات لاحق ہیں۔ میری تشویش یہ ہے کہ حالات اور رجحانات 2023اور 2024تک برقرار رہ سکتے ہیں۔