ڈوبتـے شہروں کا المیہ

0

پنکج چترویدی

ملک میں جہاں بھی بارش ہوئی، راحت سے زیادہ آفت بن گئی۔ بارش اچانک بہت تیز، بڑی بوندوں والی اور کم وقت میں بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ بارش کی دھار نے آئینہ دکھا دیا۔ ترقی کا ماڈل کہے جانے والے شہروں کو، راجدھانی دہلی ہو جے پور یا پھر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ والے اندور-بھوپال یا بنگلورو یا پھر حیدرآباد۔ اب ضلع ہیڈکوارٹرس کی سطح کے شہروں میں بھی بارش میں سڑک کا دریا بننا عام بات ہو گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وہ شہر ہیں جہاں سارے سال ایک ایک بوند پانی کے لیے ماراماری ہوتی ہے، لیکن جب پانی ذرا بھی برس جائے تو وہاں کی بدنظمی انہیں پانی پانی کر دیتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ان شہروں میں پانی جمع ہونے کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ملک کی راجدھانی دہلی میں ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک کئی کئی بار بلدیاتی ادارے کو برسات میں پانی جمع ہونے کا مستقل حل نکالنے کے لیے تاکید کرچکے ہیں لیکن ہر برسات میں حال پہلے سے بدتر ہوتا ہے۔ اب سمجھنا ہوگا کہ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے بے وقت کی اور شدید بارش کا ہونا اب مسلسل جاری رہے گا اور اب شہروں میں سڑک کی تعمیر سے زیادہ توجہ ڈرینیج، بہاؤ میں ڈھال اور جمع پانی کے ذخیرے پر کرنی ضروری ہے۔ یہ عام بات ہے کہ جن شہروں میں سڑکیں بن رہی ہیں، وہاں برسات ہونے کی حالت میں پانی کی نکاسی پر کوئی سٹیک کام ہو نہیں رہا ہے۔
اکنامک لبرلائزیشن کے دور میں جس طرح زراعت سے لوگوں کا دل اچاٹ ہوا اور زمین کو فروخت کرکے شہروں میں مزدوری کرنے کے چلن میں اضافہ ہوا ہے، اس سے گاوؤں کا قصبہ بننا، قصبوں کا شہر اور شہر کا میٹروپولیٹن بننے کا عمل تیز ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر سطح پر شہرکاری کی ایک ہی رفتار رہی، پہلے آبادی میں اضافہ ہوا، پھر کھیت میں غیر قانونی کالونی کاٹ کر یا کسی عوامی پارک یا پہاڑ پر قبضہ کرکے ادھ کچے، اجڑے سے مکان کھڑے ہوئے۔ کئی دہائیوں تک نہ تو نالیاں بنیں اور نہ سڑک۔ آہستہ آہستہ علاقہ ’اربن-سلم‘ میں بدل گیا۔ لوگ رہیں کہیں بھی لیکن ان کے روزگار، ٹرانسپورٹیشن، تعلیم و صحت کا دباؤ تو اسی ’چار دہائی پرانے‘ منصوبہ بند شہر پر پڑا، جس پر اندازے سے دس گنا زیادہ بوجھ ہوگیا ہے۔ نتائج سامنے ہیں کہ دہلی، ممبئی، چنئی، کولکاتا جیسے میٹروپولیٹن شہر ہی نہیں، ملک کے آدھے سے زیادہ شہری علاقے اب سیلاب کی زد میں ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ سال میں زیادہ سے زیادہ 25 دن بارش کی وجہ سے بے حال ہو جانے والے یہ شہری علاقے پورے سال میں 8 سے 10 مہینے پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستے ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، پٹنہ کی ایک ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ ندیوں کے کنارے آباد تقریباً سبھی شہر اب تھوڑی سی بارش میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ دقت اکیلے سیلاب کی ہی نہیں ہے، ان شہروں کی چکنی مٹی میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت اچھی نہیں ہوتی ہے۔ چونکہ شہروں میں اب گلیوں میں بھی سیمنٹ پوت کر آر سی سی سڑکیں بنانے کے چلن میں اضافہ ہو گیا ہے اور اوسطاً بیس فیصد جگہ ہی کچی بچی ہے، لہٰذا پانی جذب کرنے کا عمل دریا کے کنارے کے قریب کی زمین میں تیزی سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی بستیوں کی عمر زیادہ نہیں ہے اور مسلسل کمزور ہو رہی زمین پر کھڑے کنکریٹ کے جنگل کسی چھوٹے سے زلزلے سے بھی زمیں بوس ہوسکتے ہیں۔ یاد کریں دہلی میں جمنا کنارے والی کئی کالونیوں کے بیسمنٹ میں غیرمتوقع پانی آنے اور ایسی کچھ عمارتوں کے گرجانے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔
یہ افسوسناک ہے کہ ہمارے پالیسی ساز ابھی بھی تجربات سے سیکھ نہیں رہے ہیں اور آندھراپردیش جیسی ریاست کی نئی بن رہی راجدھانی امراوتی، کرشنا ندی کے پانی جذب کرنے کے ایریا میں بنائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پوری طرح ندی کے کنارے پر آبادہوگی لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ اس کے لیے ندی کے راستے کو تنگ کر کے ’زمین اُگاہی‘ جا رہی ہے اور اس کا شدید بارش میں ڈوبنے اور یہاں تک کہ دھنسنے کے پورے پورے اندیشے ہیں۔
شہروں میں سیلاب کی سب سے بڑی وجہ تو یہاں کے روایتی واٹر اسٹرکچرس جیسے-تالاب، باؤڑی، ندی کا ختم کرنا اور ان کے پانی کے آنے کے علاقے میں تجاوزات، قدرتی نالوں پر غیرقانونی قبضے، زیرزمیں سیوروں کی ٹھیک سے صفائی نہ ہونا ہے لیکن اس سے بڑی وجہ ہے ہر شہر میں ہر دن بڑھتے کوڑے کا ذخیرہ اور اس کے نمٹانے کا معقول انتظام نہ ہونا۔ ظاہر ہے کہ برسات ہونے پر یہی کوڑا پانی کو نالی تک جانے سے روکتا یا پھر سیور کے منہ کو بند کرتا ہے۔
شہرکاری اور وہاں سیلاب کی دقتوں پر غور کرتے وقت ایک عالمی المیہ کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے- آب و ہوا میں تبدیلی۔ اس بات کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ ماحولیات میں بڑھ رہے کاربن اور گرین ہاؤس گیس کے اثرات کی وجہ سے موسموں کا چکر گڑبڑا رہا ہے اور اس کا افسوسناک نتیجہ ہے-موسموں کی شدت۔ گرمی میں زبردست گرمی تو سردیوں کے دنوں میں کبھی بے تحاشہ جاڑہ تو کبھی گرمی کا احساس۔ برسات میں کبھی خشک سالی تو کبھی اچانک آٹھ سے دس سینٹی میٹر بارش ہو جانا۔اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہندوستان کی چار کروڑ کی آبادی پر خطرہ بتا رہی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر زمین کا درجۂ حرارت ایسے ہی بڑھا تو سمندر کے پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا اور اس کی وجہ سے کئی شہروں کے ڈوب جانے کا خطرہ ہوگا۔ یہ خطرہ محض سمندر کے کناروں پر آباد شہروں پر ہی نہیں ہوگا بلکہ وہ شہربھی ڈوب سکتے ہیں جو ایسی ندیوں کے کنارے پر ہیں جن کا پانی راست سمندر میں گرتا ہے۔
اب یہ طے ہے کہ آنے والے دن شہروں کے لیے آسان نہیں ہیں، یہ بھی طے ہے کہ آنے والے دن شہرکاری کی توسیع کے ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟ ایک تو جن شہری علاقوں میں پانی جمع ہوتا ہے، اس کے ذمہ دار افسران پر سخت کارروائی کی جائے۔ دوسرے کسی بھی علاقے میں فی گھنٹہ زیادہ سے زیادہ برسات کے امکانات کا تخمینہ لگاکراتنے پانی کی نکاسی کے مطابق ڈرین بنائے جائیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اب سول انجینئرنگ کی پڑھائی میں شہرکاری -آب و ہوا میں تبدیلی اور پانی کی نکاسی پر نئے سرے سے نصاب تیار ہوں اور اس کے ماہرین تیار کیے جائیں۔ عام لوگ اور حکومت کم سے کم کچرا سے نمٹنے پر کام کریں۔ پالیتھین پر تو پوری طرح پابندی لگے۔ شہروں میں زیادہ سے زیادہ خالی جگہ یعنی کچی زمین ہو، ڈھیر سارے پیڑ ہوں۔ شہروں میں جن مقامات پر پانی جمع ہوتا ہے، وہاں اسے زیرزمین کرنے کی کوششیں ہوں۔
[email protected]