دہلی میں ’ آپریشن لوٹس ‘کاآغاز؟

0

’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ اب ’اپوزیشن مکت بھارت‘ میں بدل گیا ہے ۔آئے دن کہیں نہ کہیں سے یہ خبرآہی جاتی ہے کہ اپوزیشن کے ارکان قانون سازیہ کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کہیں انہیں ڈرانے، دھمکانے اور مرکزی ایجنسیوں کی گرفتاری کا خوف دلاکر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش ہورہی ہے۔کئی ریاستوں میں یہ کوشش کامیاب بھی ہوئی اور وہاں حکومت بھی بدل گئی ۔حکومت بدلنے کی اس کارروائی کو میڈیا نے ’آپریشن لوٹس ‘ کانام دے رکھا ہے۔ اس ’ آپریشن لوٹس ‘کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی ریاستوں میں اپنے سیاسی مساوات ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔اس کوشش کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ترکیب اپنائی جاتی ہے ۔ ہندی کا محاورہ سام دام دنڈ بھیدکو عملی شکل میں اپنایاجاتا ہے ۔دوسری پارٹی کے ارکان کوکسی بھی طرح سے وفاداری بدلنے کے لئے راضی کیاجاتا ہے اوراس کے نتیجہ میں اسمبلی میں مساوات بدل جاتی ہے اور بھارتیہ جنتاپارٹی کو حکومت بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔کرناٹک میں2019میں بھی یہی ترکیب اپنا کرجے ڈی ایس اور کانگریس کی حکومت گراکر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی حکومت بنائی تھی۔ مدھیہ پردیش میں بھی کمل ناتھ کی حکومت گرانے کے لئے یہی آپریشن لوٹس چلایاگیا تھا اور کانگریس کے سندھیا گروپ کو توڑ کر بی جے پی نے اپنی حکومت بنائی تھی ۔2017 میں گوا اور منی پور میںتو اسمبلی انتخاب کے فوراً بعد ہی یہ ترکیب اختیار کی گئی اور زیادہ سیٹیں جیتنے والی پارٹیوں کو اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا تھا۔ آپریشن لوٹس کی کامیاب مثال دو مہینہ قبل مہاراشٹر میں سامنے آئی تھی جہاں ادھوے ٹھاکرے کی حکومت گراکر بھارتیہ جنتاپارٹی نے شیوسینا کے باغی ایک ناتھ شندے کے ساتھ مل کر حکومت بنالی ۔ لیکن بہار میںنتیش کمار نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔اب یہی مشق دہلی میں شروع کئے جانے کا الزام سامنے آ رہا ہے ۔ دہلی میں حکومت چلانے والی عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ دہلی میں اس کے چار ایم ایل اے کو بی جے پی نے کروڑوں روپے کی پیشکش کی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے مطابق اس کے ایم ایل ایز سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں 20 کروڑ روپے ملیں گے اور اگر وہ دوسرے ایم ایل اے کو لاتے ہیں تو انہیں 25 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔
آج دہلی میں ہوئی عام آدمی پارٹی کی پریس کانفرنس میں رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے ساتھ وہ چاروں ایم ایل اے بھی موجود تھے جنہیں یہ پیش کش کی گئی ہے ۔ان میں سے ایک ایم ایل اے سنجیو جھا نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر اور ایک سابق ایم ایل اے ان کے پاس آئے اور کہا کہ اب عام آدمی پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔اگر وہ عام آدمی پارٹی چھوڑکر ان کے ساتھ مل جاتے ہیں تو انہیں 20 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ ایم ایل اے سنجیو جھاکے مطابق پیش کش نہ قبول کرنے کی صورت میں ان کے ساتھ بھی منیش سسودیا جیسا سلوک کئے جانے کی دھمکی دی گئی۔یعنی جس طرح منیش سسودیا پر ای ڈی اور سی بی آئی نے مقدمہ درج کیا ہے، ا ن کے ساتھ بھی یہی ہوگا ۔عام آدمی پارٹی کے دوسرے تین ارکان اسمبلی نے بھی کم و بیش یہی الزام لگایا۔
عام آدمی پارٹی کے ان الزامات میں کتنی صداقت ہے یہ تو تحقیق و تفتیش سے ہی سامنے آئے گی لیکن ایک بات طے ہے کہ دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت گرانے کی کوششیں پہلے دن سے ہورہی ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر اور ریاستی حکومت کے مابین معمولی معمولی باتوں پر طویل تنازعات، ریاستی وزیروں کے گھر پر ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپے یہ سب اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ابھی چند دنوں قبل ہی آبکاری پالیسی میں مبینہ بدعنوانی کے بہانے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم منیش سسودیا کے گھرپر چھاپہ مارا گیا تھا ۔ اس چھاپہ میں کیا برآمد ہوا اور مرکزی ایجنسی نے ان کے خلاف کیا شواہد اکٹھے کئے یہ بات تو سامنے نہیں آئی،لیکن منیش سسودیا نے بھی یہی دعویٰ کیا کہ انہیں بی جے پی کی طرف سے پیشکش موصول ہوئی ہے کہ اگر وہ عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے خلاف درج تمام مقدمات کو ختم کر دیا جائے گا۔
سیاست کے تمام مسلمہ اصولوں اور اخلاقیات کو پائوں تلے روندتے ہوئے کسی منتخب حکومت کو گرانے کی سازش اور ارکان کی وفاداری خریدنے کی کوشش عوام کی جانب سے دیئے گئے مینڈیٹ کی کھلی توہین ہے۔ جمہوریت میں حکومت بنانے اوراسے قائم رکھنے کا حق اسی کو ہوتا ہے جوعوا م کا اعتماد حاصل کرتے ہیں ۔ دہلی ہو یا بہاریا کوئی دوسری ریاست وہاں اگر کسی سیاسی پارٹی کو عوام نے مسترد کردیا ہے تو جمہوریت کا تقاضا ہے کہ وہ اگلے انتخاب تک اپوزیشن کا کردار اداکرے اور پھر انتخاب کی چھلنی سے گزرکراقتدار کی کرسی تک پہنچے، لیکن بی جے پی خود کو ان تمام تقاضوں سے بالا سمجھ رہی ہے اور حکومت سازی سے کم پر اکتفا کے لئے تیار نہیں ہے ۔بی جے پی کا یہ رویہ سیاسی اصولوں کے خلاف، غیر اخلاقی اور کھلی جمہوریت دشمنی ہے ۔عام آدمی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے پیش نظر اس کی جانچ ضرور ہونی چاہئے ۔
[email protected]