اقتدار کی ہوس میں گم نفرت کے پجاریوں کی ڈوبتی کشتی

0

عبدالماجد نظامی
سیاست کا مقصد انسانی سماج کو بہتر بنانا اور انسان کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے تاکہ ملک میں بسنے والے شہریوں کو بلند طرز زندگی اور امن و آشتی کا ماحول مہیا ہوسکے اور سکون و اطمینان کے سایہ میں سماج کے تمام طبقات کو ترقی کے مواقع مہیا ہوپائیں۔ ایک بہتر اور ترقی یافتہ سماج کی تشکیل کا تصور تب تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک کہ ملک کے اندر امن و سکون، آپسی محبت و الفت اور خیرسگالی کا ماحول قائم نہ ہوجائے۔ ہمارا ملک ہندوستان اس اعتبار سے بڑا خوش قسمت ثابت ہوا تھا کہ برطانوی سامراج سے آزادی کی لڑائی کے دوران اور اس کے بعد بھی اسے ایسے لیڈران نصیب ہوئے جو اپنی علمی پختگی، فکری بلندی اور جذبہ حب الوطنی میں بے مثال تھے۔ ان میں تنگ نظری اور پراگندہ خیالی جیسے عناصر نہیں پائے جاتے تھے۔ وہ ملک کی ترقی اور اتحاد کے تئیں اس قدر سنجیدہ تھے کہ تقسیم ہند کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے قتل و خون اور نفرت کے ماحول کو بھی اپنی انسانیت نواز قیادت کے ذریعہ دھیرے دھیرے کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ چونکہ وہ اہل علم و دانش تھے، اس لیے سمجھتے تھے کہ ملک کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک ترقی و تمدن کو پروان چڑھانے والے علمی اداروں کی مضبوط بنیادیں قائم نہ ہوجائیں۔ لہٰذا انہوں نے ملک کے گوشہ گوشہ میں اعلیٰ علمی مراکز قائم کیے اور جدید صنعتی کارخانوں کی بنیاد رکھی۔ ان کی اسی دوربینی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندوستان کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد دنیا بھر کے علمی اداروں میں پہنچ گئی ہے اور اس نے اپنی علمی و فکری تفوق کا لوہا منوا لیا ہے۔ ورلڈ بینک ہو یا ڈبلیو ایچ او، ہارورڈ ہو یا آکسفورڈ، کیمبرج ہو یا اسٹین فارڈ یا پھر دنیا کے دیگر تحقیقی اور تعلیمی ادارے تمام جگہوں پر ہندوستانی دماغ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اسی طرح عالمی سطح کے مالیاتی ادارے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان کی بڑی بڑی کمپنیوں کی باگ ڈور بھی ہندنژاد باصلاحیت قائدین کے ہاتھ میں ہے۔ سوشل سائنس سے لے کر فلم و لٹریچر اور ادب تک کے موضوعات پر ہندوستانیوں کی جو مضبوط گرفت ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوسکا کیونکہ سیاست کا استعمال سماج کو بہتر بنانے اور ملک کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا۔ سیاست کا مقصد مہاتما گاندھی، مولانا آزاد، نہرو و پٹیل اور اندرا و وی پی سنگھ جیسے لیڈران کے نزدیک بہت واضح تھا۔ وہ جانتے تھے کہ تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے اور مورخ وقت کا قلم سب کچھ کاغذ کے سینہ میں انڈیل دیتا ہے اور وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ آئندہ نسلیں ان کے تمام کاموں کا جائزہ لیں گی اور ان کے کارناموں کے مطابق ہی انہیں تاریخ کے پائیدان پر جگہ عطا کریں گی۔ اسی لیے انہوں نے اپنی ذمہ داری کو دستور کی روح کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان سے غلطیاں بھی ہوئیں لیکن انہوں نے ملک کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ سے ہمیشہ برسر پیکار نہیں رکھا۔ انہوں نے نہ تو قبرستان اور شمشان میں تفریق کی اور نہ ہی انسانوں کے کپڑوں سے ان کی شناخت طے کی۔ انہوں نے لوگوں کے کھانے کی پلیٹیں اور ہانڈیاں چیک کرکے انہیں ذلیل نہیں کیا اور نہ ہی انہیں اپنے دین دھرم سے کاٹ کر ایک مجبور و بیکس کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا۔ مہاتما گاندھی کے اصولوں پر تربیت پانے والے سیاستدانوں نے ملک کے کونہ کونہ کو نفرت کا اڈہ اور قتل و خوں ریزی کا اسٹیج نہیں بننے دیا۔ انہوں نے ستیہ اور اہنسا کو اپنی زندگی کا معیار بنایا اور سماج کو بھی اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئیں جب کہ آزادی کے بعد بھی کئی برسوں تک مغربی اہل قلم لکھتے رہے کہ ہندوستان میں جمہوریت قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ملک تضادات سے پر ہے۔ ہمارے دوررس سیاسی قائدین نے مغرب کی اس پیشین گوئی کو غلط ثابت کیا اور ہر ہندوستانی شہری نے یہ ثابت کیا کہ وہ تمام تضادات کو ختم کرکے ایک ایسا ہندوستان بنانے کی اہلیت رکھتا ہے جس میں ایک مشترک تہذیب پروان چڑھے گی اور جسے دنیا گنگا جمنی تہذیب کے خوبصورت نام سے یاد رکھے گی۔ یہ باہمی اتحاد و ہم آہنگی کا ہی نتیجہ تھا کہ اس ملک نے بڑی حد تک اپنی غربت و فقر کی شرح میں کمی کے ساتھ ناخواندگی و بے روزگاری جیسے مسائل کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور منموہن سنگھ جی کی وزارت عظمیٰ کے عہد تک دنیا کی ٹاپ 6اقتصادیات کی فہرست میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن یہ اس ملک کی بدقسمتی ہی کہلائے گی کہ اس کی باگ ڈور 2014 میں ایسے عناصر کے ہاتھوں میں چلی گئی جس کو علم و فکر کی بلندی کے مقابلہ میں فرسودہ نازی نظریہ کی پستی زیادہ پسند آتی ہے۔ فاشزم کے نظریہ سے متاثر ہندوتو کی سیاست میں آپسی اتحاد و یکجہتی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی سیاست کے مطابق دھرم سنسد کا مقصد اب روحانیت کی تلاش میں بھٹک رہی انسانیت کی رہنمائی نہیں رہ گیا بلکہ ہندو دھرم کے پنڈتوں کا استعمال نفرت و خوں ریزی کی تہذیب کو بڑھاوا دینے میں ہونے لگا ہے۔ ملک کا چپہ چپہ گالم گلوچ اور دھمکی و لنچنگ کے تعفن سے بدبودار ہوچکا ہے۔ ایسے ماحول میں بھلا اعلیٰ فکر اور مثبت طرز عمل کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ جب وزیراعظم اور وزیر داخلہ اپنے ہی ملک کے شہریوں کو کتے کا پلا اور ٹرمائٹ کہہ کر پکارنے لگ جائیں۔ جب ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست کے وزیراعلیٰ اباجان جیسے مہذب و شائستہ لفظ کا مذاق اڑائیں اور اسی ریاست کے نائب وزیراعلیٰ بی بی سی کے جائز لیکن تیکھے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے نفرت کی بنیاد پر قائم ’دھرم سنسد‘ کے اعلانِ قتل عام کا دفاع کرنے میں لگ جائیں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ آئیڈیالوجی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکی ہے اور اس میں انسانیت کی بھلائی کا کوئی عنصر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایسی آئیڈیالوجی اور اس کے ماننے والوں کو عوام تاریخ کے مزبلہ میں ڈال کر اس کے عذاب سے ملک کو آزاد کرائیں۔ شاید اس کا آغاز ہوچکا ہے۔ عوام کے اندر ہندوتو کے تئیں سخت بے چینی کا رجحان پیدا ہو چلا ہے اور شاید اسی رجحان کو دھیان میں رکھتے ہوئے بی جے پی کے وزرا اور لیڈران بڑی تیزی سے ہندوتو کی کشتی کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں کیونکہ انہیں بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ ہندوتو کی آئیڈیالوجی اپنا اثر کھو چکی ہے اور عوام نفرت کے ماحول سے متنفر ہوچکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہندوتو کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک پہنچ پانا ناممکن ہے۔ انسانی برادری کو تقسیم کرنے والے ہر نظریہ کا انجام تاریخ میں یہی ہوا ہے کہ جب اس کو عوام مسترد کرتے ہیں تو دائمی طور پر اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ نفرت انگیز ہندوتو کا بھی یہی مقدر ہے۔
(مضمون نگار راشٹریہ سہارا اردو کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here