لٹے چمن میں خزاں کا موسم کوئی تمنا جگا رہا ہے

0

محمد حنیف خان
کشمیر ہندوستان کی ریاستوں میں واحد ایسی ریاست ہے جہاں کی خبریں ہمیشہ میڈیامیں بنی رہتی ہیں،لیکن ادھر ایک طویل عرصے سے وہ مین اسٹریم کے میڈیا سے غائب ہے،ہاں گاہے بگاہے وہاں کی خبریں سرخیاں ضرور بنتی ہیں لیکن ان خبروں کا تعلق وہاں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور اس میں مارے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کی اموات سے ہوتا ہے۔اس کے علاوہ وہاں کی ترقیات اور عوامی مسائل سے میڈیا کا یاتو تعلق نہیں رہا یا پھر ایسی خبریں باہر آنے سے روک دی گئی ہیں۔عوامی سروکار کی کشمیر سے متعلق خبریں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔کشمیری ہمیشہ اس بات کا الزام لگاتے رہے ہیں کہ مین اسٹریم میڈیا ان کے ساتھ جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہی خبریں وہ دکھاتا ہے جن کا تعلق ایوانوں سے ہوتا ہے بلکہ ان کی خوشی سے ہوتا ہے۔ابھی حال ہی میں ایک ’نیوز اسٹوری‘ سامنے آئی ہے جسے کشمیری نوجوان عامر پیر زادہ نے تیار کیا ہے،یہ ایک ایسی اسٹوری ہے جو کشمیرکے سچ کو سامنے لاتی ہے، وہاں کے عوام،ان کے جذبات اور ان کے مسائل کو یہ اسٹوری بالکل الگ انداز میں بیان کرتی ہے۔
ہندوستان چونکہ ایک جمہوری ملک ہے،اس لیے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی ہمیشہ آزادی رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ میڈیااپنی اسٹرٹیجی اور اپنے تحفظات کی بنا پریہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کیا دکھائے گا اور کیا نہیں دکھائے گا، اسی فیصلے کی بنا پر کچھ آوازیں ابھر کرسامنے آجاتی ہیں تو کچھ گلے میں ہی گھٹ کر رہ جاتی ہیں۔کشمیر احتجاجات کی سرزمین ہے،شروع سے ہی اس سرزمین کے باشندے بر سر پیکار رہے ہیں،کبھی اپنوں کی طرف سے ان کو دکھ ملے تو کبھی غیروں نے ان پر بندوق تانی،یہ ایک ایسا متنازع خطہ ارض بن گیا جہاں زعفران کے پھولوں کی خوشبو میں بندوق کی گولیوں اور گولہ و بارود کے ساتھ ہی انسان کے خون کی بوبھی شامل ہوگئی ہے۔دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد کشمیر کو دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کردیا گیا،اس کے بعد کشمیر میں کیا حالات ہوئے اس بارے میں میڈیا خاموش ہے۔عامر پیرزادہ نے اپنی ’نیوز اسٹوری‘ میں جو انکشاف کیا ہے وہ دل دہلانے والا ہے۔حکومت سے اختلاف یا پولیس و دیگر اداروں کی ناانصافی کی بنا پر یہاں پہلے احتجاجات ہوتے تھے مگر اب یہ احتجاج یہاں بند ہوچکے ہیں، میڈیا اس کو حکومت کی کامیابی کے طورپر پیش کرتا ہے جیسے اس کی ہمیشہ روش رہی ہے لیکن عامر پیر زادہ اس کو بالکل الگ انداز میں پیش کرتے ہیں،انہوں نے اس برف پوش وادی کی تہہ زمین میں سلگنے والے لاوے کا انکشاف اور اسے طشت از بام کیا ہے کہ کس طرح نوجوانوں کے سینوں میں ایک آگ ہے جو دہک رہی ہے اور ان کو دہکا رہی ہے، چونکہ پہلے احتجاجات کے توسط سے ان کا غم غلط ہوجاتا تھا یا اپنا غصہ وہ نکال لیتے تھے مگر اب اس کے راستے مسدود ہوگئے ہیں، اس لیے نوجوانوں نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے جس کے توسط سے وہ اپنے غم و وغصہ کو باہر نکلنے کا راستہ دے رہے ہیں۔کشمیری نوجوانوں کا کہنا ہے کہ راستے کس طرح مسدود کیے گئے ہیں، اس کا اندازہ ایک مثال سے کوئی بھی شخص لگا سکتا ہے،ان کا کہنا ہے کہ کسانوں نے حکومت کی پالیسیوں سے ناراض ہو کر طویل مظاہرہ کیا،لیکن کیا آپ کشمیر میں اس طرح کے مظاہروں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہاں یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ حکومت ایسا کرنے ہی نہیں دے گی اور اگر کوشش کی جائے گی تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا کسی سے مخفی نہیں ہے۔اس لیے ہم نے ایک نیا راستہ منتخب کیا ہے۔
کشمیری نوجوان اب ادب و آرٹ کا سہارا لے رہے ہیں،کشمیر کی سرزمین ایک نئی طرح کی موسیقی اور نغمے کے لیے تیار ہورہی ہے،چونکہ ادب و آرٹ وہ فنی ذرائع ہیں جن پر کبھی پابندیاں نہیں لگائی جا سکی ہیں،احتجاجی ادب کی ایک طویل تاریخ ہے،ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں باضابطہ اس موضوع پر ریسرچ ہوئی ہے اور اب بھی ہورہی ہے لیکن کشمیر کی رگوں میں اب جو موسیقی اور نغمہ دوڑنا شروع ہوا ہے، اس کی جانب کسی کی توجہ اس سے قبل نہیں گئی تھی۔یہاں کے نوجوان اب ایک نئی بیداری اور جوش و خروش کے ساتھ ادب و آرٹ کے ذریعہ وہاں کی حاوی نفسیات کو سامنے لا رہے ہیں۔ احتجاجی موسیقی کے دلدادہ موسیقار اور نغمہ ساز یہ نوجوان اپنے غم و غصے اور اندر پک رہے لاوے کو اس کے ذریعہ امر کردینا چاہتے ہیں۔سڑکوں پر ہونے والے احتجاج تو دنوں اور مہینوں میں ختم ہوجاتے ہیں،ان کا دائرہ بھی محدود ہوتا ہے،احتجاج کی یہ لے میڈیا کے ذریعہ عوام تک پہنچتی ہے اور اگر میڈیا چاہ لے تو مظاہرے کی جگہ سے آگے یہ آواز نہیں بڑھ سکتی لیکن احتجاجی ادب اور موسیقی کا کوئی محدود دائرہ نہیں ہے،یہ حدبندیوں سے ماوراء ہے،جس کے ذریعہ یہاں کے نوجوان ایک نئے انقلاب کی سرزمین تیار کررہے ہیں۔ ان نوجوانوں کے مطابق انہوں نے خود سے یہ ذمہ داری لی ہے کہ ان چیزوں کو وہ سامنے لائیں گے جن کو دبا دیا گیا ہے،جن کے لیے نکلنے کے راستے مسدود کردیے گئے ہیں۔ان کو وہ اپنی موسیقی اور نغمے کی آواز دے کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں گے اور دنیاکو بتائیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ان نوجوانوں کا خود کہنا ہے کہ پہلے وہ راستے تھے جن کے ذریعہ ہمارا دکھ درد باہر نکلتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے، اس لیے اس اندھیرے نے ہمارے اندر ایک روشنی پیدا کی اور اس روشنی نے ایک نیا راستہ بنایا،یہی وجہ ہے کہ اب وہ دکھ درد ہماری غزلوں اور موسیقی میں آگیا ہے۔ذیشان جے پوری کے نام سے معروف ایک نوجوان کی غزل کا یہ شعر دیکھئے : ’’لٹے چمن میں خزاں کا موسم کوئی تمنا جگا رہا ہے-لہر وفا کی مچل رہی ہے فلک جونغمے سنا رہا ہے‘‘۔ان کی ایک اور غزل ہے اس کے دو مصرعے دیکھئے کس قدر درد سے مملو ہیں: ’’سر کٹوا کر خوں میں لت پت سر لایاں ہوں سونے دو- مقتل سے میں چلتے چلتے گھر آیا ہوں سونے دو-طوفاں دیکھا،آنسو دیکھے،جب سے آنکھیں کھولی ہیں-ان آنکھوں میں خوں کا دریا بھر لایا ہوں سونے دو‘‘۔
ذیشان ہی کا ایک گیت ہے ’رحم کر اے بحال ما رحم کراے‘جسے یک دوسرے نوجوان سیف الدین نے اپنی آواز اور موسیقی دی ہے۔یہ گیت کشمیر میں بہت مقبول ہوا،جس کی سب سے بڑی وجہ عوام کے درد کو آواز ملنا تھی۔ کشمیر میں ایسے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ یہ نوجوان صرف کشمیر تک ہی محدود ہیں بلکہ بیرون ملک بھی ان کے کنسرٹ ہوتے ہیں،جہاں وہ نغمہ اور موسیقی کے ذریعہ اپنے درد کو بیان کرتے ہیں،اس طرح وہ پوری دنیا کو اب بتا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور وہاں کے حالات کیسے ہیں،اس تعلق سے حکومت کو ملک اور دنیا کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہیے اور نہ کھوکھلے دعوے کرنا چاہیے کہ حالات معمول پر آگئے ہیں، اس کے بجائے نوجوانوں کے لیے اسے خاص اسکیمیں اور منصوبے ترتیب دے کر ان کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا چاہیے،ورنہ کشمیر میں جو زمین تیار ہو رہی ہے وہ نہ صرف پوری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی کا سبب ہوگی بلکہ اس کے ذریعہ کشمیر میں ایک ایسی نسل تیار ہوگی جس کے دل میں ہندوستان سے محبت کے بجائے نفرت بھری ہوگی کیونکہ ان اشعار اور موسیقی میں احتجاج کی جو لے اور درد و کسک ہے وہ ہوا میں تحلیل یا ختم ہوجانے والی نہیں ہے بلکہ یہ باقی رہے گی،حروف کی پکی سیاہی اور آلات موسیقی سے نکلنے والے ساز ان کو یاد دلائیں گے کہ ان کے بزرگوں کے ساتھ کیا ہوا تھا،اس لیے حکومت کو آواز دبانے اور کسی بھی طرح کی استحصالی کارروائی سے بچ کر انسانی سلوک کا ثبوت دے کر ان نوجوانوں کو بھی ہندوستانی ہونے کا فخر دینا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو کشمیر کے ان نوجوانوں کی رگوں میں دوڑنے والی یہ موسیقی اور گیت ایک ایسا مستقبل تیار کر رہے ہیں جس کے لیے کوئی ہندوستانی خود کوتیار نہیں پاتا ہے کیونکہ ہندوستان کی تو روایت ہی محبت اور اہنسا رہی ہے اور کشمیر کا یہ احتجاجی گیت اور موسیقی ’ہنسا‘ کے بطن سے جنم لے رہے ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ورنہ لٹے چمن میں خزاں کا موسم جو تمنا جگا رہا ہے، وہ ہمارے لیے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here