’داغدار امیدوار‘عقبی دروازے سے داخلہ

0
RRS Urdu

سیاسی پارٹیاں بھلے ہی جرائم پیشہ افراد کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں اپنا دامن صاف بتانے کی کوشش کرتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے سامنے ٹکٹ اسی امیدوار کو دینے کی کوشش ہوتی ہے جو جیت سکتا ہو۔ چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے آتا ہو۔ اترپردیش میں دو اہم سیاسی پارٹیاں بی جے پی اور سماجوادی پارٹی ایک دوسرے پر نکتہ چینی کررہی ہیں مگر براہ راست نہیں بالواسطہ طور پر داغدار امیج والے لیڈروں کو ٹکٹ دیے جارہے ہیں۔ ایک الزام یہ بھی لگ رہا ہے کہ بڑی پارٹیاں چھوٹی حلیف پارٹیوں کے ذریعہ ان داغدار امیج والے لیڈروں کو اسمبلی میں بھیجنے کی کوشش میں ہیں۔ اس سلسلے میں مئو سے ایک گمنام سیاسی جماعت صلح دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) نے مختار انصاری کو میدان میں اتارا ہے۔ ایس بی ایس پی کے صدر اوم پرکاش راج بھر نے مختار انصاری سے جیل میں ہی ملاقات کی اور ان کو ٹکٹ دینے کی پیشکش کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مختار انصاری کے بھائی صبغت اللہ انصاری کو سماجوادی پارٹی نے اپنے ساتھ لے لیا ہے اور وہ غازی پور سے الیکشن لڑیںگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مختار انصاری کی پارٹی قومی ایکتا دل کا سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے کا معاملہ سماجوادی پارٹی میں بہت بڑا مسئلہ بن گیا تھا اور اکھلیش یادو اور ان کے چچا کے درمیان اس بات پر تنازع ہوا کہ داغدار امیج والے مختار انصاری کی پارٹی کو سماجوادی پارٹی میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ اس وقت شیوپال یادو سماجوادی پارٹی اترپردیش کے صدر تھے مگر اکھلیش ان سے متفق نہیں تھے۔ اختلافات اتنے بڑھے کہ دونوں چچا بھتیجوں میں شدید اختلافات ہوگئے اور شیوپال یادو پارٹی سے الگ ہوگئے اور انہوں نے اپنی پارٹی بنالی۔ مذکورہ بالا ایس بی ایس پی سماجوادی پارٹی کی ایک حلیف جماعت ہے اور اکھلیش یادو کو اس مرتبہ مختار انصاری کے نام پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسی طریقے سے بی ایس پی کے سابق ایم پی دھننجے سنگھ کا نام لیا جارہا ہے۔ بی جے پی دھننجے سنگھ کو ٹکٹ نہیں دینا چاہتی مگر اس کی حلیف جماعت اپنا دل دھننجے سنگھ کو جون پور کے ملہانی سے اپنا امیدوار بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ خیال رہے کہ پچھلے دنوں پنچایت کے الیکشن میں دھننجے سنگھ کی بیوی شری کلاں ریڈی ضلع پنچایت کی صدر منتخب ہوئی تھی اور ان کو اپنا دل کی پوری حمایت ملی تھی۔ اسی طریقے سے جتیندر
سنگھ سابق ممبراسمبلی جنہوں نے کچھ دن پہلے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی مگر پارٹی نے ان کو باہر کا دروازہ دکھا دیا تھا اب وہ نشاد پارٹی کے امیدوار کے طور پر بیکاپور (اجودھیا) سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here