مغربی یوپی: بی جے پی کیلئے سخت معرکہ

0

2017کے اسمبلی انتخابات میں یوپی کے مرادآباد، سہارنپور، بجنور، امروہہ، بدایوں اور شاہ جہانپور میں بی جے پی کو سب سے زیادہ 55میں سے 38سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی۔ مغربی یوپی کے علاقے میں 14فروری کو الیکشن ہونے ہیں اور یہی پہلا مرحلہ ہے جہاں پر بی جے پی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ اس خطے میں نہ صرف کسان تحریک کا زبردست اثر دکھائی دیا بلکہ جاٹوں کی پارٹی کہی جانے والی آر ایل ایل ڈی جس کے سربراہ اجیت سنگھ تھے اور اس کی کمان جینت چودھری کے ہاتھ میں ہے سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہے ہیں۔پچھلے الیکشن میں جب مودی لہر ٹھاٹے ماررہی تھی تو یہاں کا ماحول کافی یکطرفہ ہوگیا تھا۔ یہاں پر صرف سماجوادی پارٹی 15سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کرپائی جبکہ سماجوادی پارٹی کے حلیف کے طور پر لڑنے والی پارٹی کانگریس کو صرف دو سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی ملی تھی۔ اس وقت بی ایس پی کا پوری طرح صفایا ہوگیا تھا۔ اس علاقے کی 55سیٹوں میں صرف 11سیٹوں پر ہی مسلمان ممبر اسمبلی منتخب ہوکر آئے تھے جبکہ اس سے قبل 2012میں سماجوادی پارٹی کے پاس اکثریت تھی، ایس پی کو 27سیٹیں ملی تھیں جبکہ بی جے پی 8سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی تھی۔ مغربی اترپردیش کے اس علاقے میں دلت اور مسلمانوں کی زبردست آبادی ہے جبکہ جاٹ اور او بی سی آبادی بکھری ہوئی ہے۔ بدایوں میں یادو کی بڑی آبادی رہتی ہے اور بدایوں سماجوادی پارٹی کا گڑھ سمجھی جاتی ہے مگر اس کے باوجود 2017میں بدایوں میں بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کی آج حالات بدلے ہوئے ہیں، کسان ناراض ہیں، کسانوں کا کہنا ہے کہ گنے کی قیمت ان کو نہیں ملی ہے، ہر آدمی کرپشن سے پریشان ہے خاص طور سے پولیس اسٹیشنوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مراد آباد ضلع کے ممبر اسمبلی نواب جان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 2017میں مراد آباد ضلع کی 6سیٹوں میں سے 2پر بی جے پی کے ایم ایل اے منتخب ہوئے جبکہ 4سیٹوں پر سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ سہارنپور میں دوسرے مرحلے میں الیکشن ہونا ہے۔ پچھلے دنوں عمران مسعود نے کانگریس چھوڑ کر سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ سہارنپور کی 42فیصد آبادی پر عمران مسعود کی اچھی خاصی پکڑ ہے۔ 2019کے لوک سبھا الیکشن میں وہ بی ایس پی کی امیدوار سے الیکشن ہار گئے تھے اسی طرح ایک اور سیٹ کافی اہمیت کی حامل ہے وہ دیوبند ہے، یہاں سے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے اور انہوں نے بی ایس پی کے امیدوار ماجد علی اور سماجوادی پارٹی کے امیدوار معاوی علی کو ہرایا تھا۔ پچھلے دنوں یوگی آدتیہ ناتھ نے دیوبند میں دہشت گرد مخالف دستے کی ٹریننگ کے لیے ایک مرکز بنایا تھا۔ دیوبند میں مسلمانوں کا بہت بڑا مدرسہ ہے جو پوری دنیا میں علم کی روشنی کے لیے مشہور ہے۔ اسی طریقے سے رامپور میں بھی 14فروری کو الیکشن ہونا ہے۔ یہ سماجوادی پارٹی کا اہم گڑھ ہے اور اعظم خان کی اس علاقے پر زبردست گرفت ہے۔ اعظم خان یہاں سے 8مرتبہ ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔ 2019میں وہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ ان کی اہلیہ تنظیم فاطمہ موجودہ ایم ایل اے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here