برطانیہ کی باگ ڈور ہند نژاد رشی سنک کے ہاتھ میں

0

رشی سنک کا برطانیہ کا وزیراعظم بننا ہندوستان کے لوگوں کے لیے فخرکی بات ہے اور اس فخرکے اظہار میں ہمارے ملک کا الیکٹرانک میڈیا سب سے آگے ہے۔ کسی کے لیے رشی سنک ہندوستان کے بیٹے ہیں، کسی کے لیے داماد ہیں اور حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ برطانیہ کے شہری اوراس کے وزیر اعظم ہیں۔ رشی نے برطانیہ کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی ہے جب اس کی باگ ڈور سنبھالنا اور سنبھالے رکھنا نہایت مشکل ہے، کیونکہ کورونا وائرس نے برطانیہ کو متاثر کیا ہے، شرح نمو میں سستی اور بڑھی ہوئی افراط زر برطانیہ کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے، یوکرین جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اس کے لیے باعث تشویش ہے تو اس جنگ میں اپنے موقف کے مطابق ہی اسے کردار ادا کرنا ہے۔ رشی سنک کے لیے چنوتیاں بہت ہیں اور ان سے کامیابی سے نمٹتے ہوئے انہیں اپنی صلاحیتوں کے بھرپوراظہار کا موقع ملے گا۔ 24 اکتوبر، 2022 کو کنزرویٹوپارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے پر رشی سنک نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا، ’ان کی ترجیح ملک کو متحد کرنے کی ہوگی۔۔۔۔برطانیہ ایک عظیم ملک ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک ایک سنگین اقتصادی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔‘25 اکتوبر، 2022 کو رشی سنک نے برطانیہ کا وزیراعظم بننے کے بعد کہا کہ ان کا ملک برطانیہ روس-یوکرین جنگ اور کورونا وائرس کی وجہ سے سنگین اقتصادی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ کچھ غلطیاں ہوئی تھیں اور انہیں درست کرنے کے لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے، غلطیوں کو ٹھیک کرنے کا کام فوراً شروع ہو رہا ہے۔
رشی سنک کے دادا، دادی کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ پنجاب کا وہ حصہ اب پاکستان میں ہے۔ آزادی سے پہلے ہی ان کے دادامشرقی افریقہ چلے گئے تھے۔ 1960 کی دہائی میں وہ وہاں سے برطانیہ آگئے۔ یہیں کے علاقے ساؤتھمپٹن میں 12 مئی، 1980 کو رشی سنک پیدا ہوئے تھے۔ این آر نارائن مورتی کی بیٹی اکشتا مورتی سے ان کی ملاقات امریکہ کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کے دوران ہوئی تھی۔ دونوں نے 2009 میں شادی کی۔ اکشتا سے سنک کو دو بیٹیاں، کرشنا اور انشکا ہیں۔ انفوسس کے شریک بانی این آر نارائن مورتی نے داماد، رشی سنک کے برطانیہ کا وزیراعظم بننے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی ہے کہ وہ برطانیہ کے لوگوں کے لیے سب سے بہتر کریں گے۔ رشی سنک کوبرطانیہ کا وزیراعظم منتخب کیے جانے کی کانگریس کے سینئر لیڈروں، پی چدمبرم اور ششی تھرور نے ستائش کی اور یہ امید ظاہر کی کہ ’ہندوستان بھی اقلیتی کمیونٹیوں کے افراد کو اعلیٰ عہدے دینے کی اس روایت کی پیروی کرے گا۔‘ تو کانگریس کے ہی جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ’ہندوستان میں اقلیتی کمیونٹیوں کے کئی افراد صدر جمہوریہ اور وزرائے اعلیٰ بنے ہیں اور ا یسے میں ہندوستان کو کسی سے سبق لینے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ ملک کثرت میں وحدت کی مثال رہا ہے۔‘ یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ گزشتہ 210 سال کی برطانیہ کی تاریخ میں رشی سنک سب سے کم عمر وزیراعظم ہیں۔
رشی سنک نے کبھی یہ نہیں چھپایا کہ وہ ہندنژاد ہیں، وہ ہندو ہیں، ان کی شریک حیات اکشتا مورتی ہندوستان کے ایک بڑے صنعت کار این آر نارائن مورتی کی بیٹی ہیں اور ان کی حق گوئی کبھی بھی ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنی۔ برطانیہ کے لوگ ذہین، پڑھے لکھے ، مذہب اورنسل کے نام پر سیاست کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آدمی جس ملک میں رہتا ہے، جہاں کا وہ شہری ہوتا ہے، وہی اس کا وطن ہوتا ہے، اسے اگروہاں کوئی بڑی ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ اسے اپنے ملک کے مفاد میں ہی ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے چاہے اس پر کوئی یہ سوچ کر یقین کرے یا نہ کرے کہ اس کی جڑیں تو کسی اور ملک سے وابستہ ہیں، اس ملک سے وہ کیسے پیار کرے گا۔سچ تو یہ ہے کہ ہندنژاد رشی سنک کا برطانیہ کا وزیراعظم بننا ہندوستان کے لوگوں کے لیے فخر کی بات ہے تو انہیں وزیراعظم کے طور پر قبول کرنا برطانیہ کے لوگوں کی فراخ دلی کا اظہار ہے۔ رشی سنک کے برطانیہ کا وزیراعظم بننے پر امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا یہ کہنا بجا ہے اوراس سے عدم اتفاق کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ تاریخی واقعہ ہے۔ n