حکمرانوں کا اصل ایجنڈا

0

محمد فاروق اعظمی
اب تک ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم ہوتا روزگار، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا انحطاط، گرتی ہوئی معیشت، صحت سہولیات کا فقدان، تعلیم کی گرتی ہوئی سطح اور بدعنوانی وغیرہ جیسے سلگتے ہوئے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ہواکرتی تھی کہ آئین میں دیے گئے حقوق عوام کی حفاظت کریںگے۔ عام آدمی کے ساتھ ناانصافی اورظلم نہیں ہوگا۔ قانون عوام کی حفاظت کرے گا کیوں کہ قانون اور عدالت کی نظر میں سب برابر ہیں۔ لیکن آج اس وقت ملک میں جس طرح کے حالا ت ہیں اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فی الحقیقت ایسا ہی ہے؟ بظاہر یہ محسوس نہیں ہورہاہے۔
ملک میں اس وقت مہنگائی کی ایک بہت بڑی لہر جاری ہے جس نے ہندوستان کے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں سے لے کر سبزی اور روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں کمی کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افراط زر کی شرح 7 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی جبکہ ریزرو بینک کا ہدف اس شرح کو 4 فیصدتک رکھنا تھا اورزیادہ سے زیادہ 6 فیصد تک ہے۔ اس دوران خوراک کی اشیا پر افراط زر 12 فیصد تک پہنچ چکا ہے جو آبادی کی اکثریت کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ ہرچند کہ یہ اعداد وشمار درست تصویر پیش نہیں کررہے ہیں اور حقیقی افراط زر اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن اگر سرکاری اعداد وشمار کو بھی درست مان لیا جائے تو انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی مہنگائی عوام کی ہڈیوں سے گودا نچوڑ رہی ہے۔غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر 6مہینے کے عرصے میں640 ارب ڈالر سے کم ہو کر 600 ارب ڈالر تک آ گئے ہیں جس کی وجہ سے کرنسی کی قیمت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس دوران ریزرو بینک نے کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے بھی کئی ارب ڈالر منڈی میں جھونکے لیکن اس کے باوجود کرنسی کی گراوٹ کا سفر جاری ہے۔تجارتی اوررواں خسارہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جو معاشی بحران کی شدت کی عکاسی کرتا ہے۔ تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا اور گزشتہ بارہ مہینے کا کل تجارتی خسارہ 200 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ صورتحال بتارہی ہے کہ ہندوستان سری لنکا کی راہ پر گامزن ہے، اگر اگلے دو تین برسوں تک یہی حالات رہے تو ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔
حکمراں طبقہ یہ معاشی بحران محسوس کر رہا ہے اور اسے بہت بڑی عوامی تحریک کے آثار دکھائی بھی دے رہے ہیں۔ اسی لیے حکمراں طبقہ کی جانب سے جان بوجھ کر ملک پر مذہبی منافرت مسلط کی جا رہی ہے اور اس میں عدالتوں سے لے کر اپوزیشن پارٹیاں تک تمام قوتیں حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ملک کے ماحول کو زہرآلود کرکے سماج کو مذہبی بنیادوں پر لڑائی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ انتخاب کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ اب تو اس ریاست کی ڈیمو گرافی کو بھی تبدیل کیاجارہاہے تاکہ مسلمانوں کو مکمل طور پر دیوار سے لگایاجاسکے۔آسام اور شمال مشرق کی دیگر ریاستوں میں بھی قومی جبر بڑھایا جا رہا ہے اور وہاں کے وسائل کو سرمایہ داروں کی لوٹ مار کیلئے کھولا جا رہا ہے۔ اس سے ایک طرف ماحولیاتی تبدیلی بدتر ہو رہی ہے اور دوسرا ان علاقوں کے مقامی افراد بدترین معاشی اور سماجی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس عوام دشمنی کا مقابلہ کرنے کیلئے سماج میں مالی و معاشی اعتبار سے محروم و پسماندہ اور نچلے طبقہ میں اتحاد و ہم آہنگی پیدا کرنے کا آغاز ہو گیا ہے، اس طبقہ کو مسلمانوں کی مکمل حمایت بھی مل رہی ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ اس صورت حال کامقابلہ کرنے کیلئے اپنی جدوجہد کے راستے پر گامزن ہے۔ یہ جدوجہد اگر یونہی جاری رہی تو آنے والے عرصے میںایک نئی سیاسی تحریک کابھی آغاز ہوسکتا ہے، جو حکومت کے کیلئے سخت چیلنج کاسبب ہوگا۔
نوپورشرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والے مسلمانوں پر جس طرح سے بلڈوزر قانون کے ساتھ بزن بولاہے، اسے دیکھ کر یہ نہیں لگتا ہے کہ ہندوستان میںکہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ بلکہ دنیا پر یہ سفاک حقیقت بھی عیاں ہوگئی ہے کہ ہندوستان اب چھلانگ لگاچکا ہے۔مسلمانوں کی آواز کو دبانے کیلئے کھلے عام بلڈوزر کا استعمال اور تمام اصول و قانون اور ضابطے کو پامال کرنا اس اکثریت کی حکمرانی کا اعلان ہے۔ ملک میں سیکولرزم کا تقاضاکرنے والے آئین و دستور کو باضابطہ طور پر ختم کیے بغیر اکثریت کی حکمرانی قائم کی جارہی ہے۔ مخالفت اور احتجاج میں اٹھنے والی ہرآواز کا گلا گھونٹنا اس سفاک طرزحکمرانی کی بنیاد ہے،جس کا آغاز شہریت ترمیم قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج سے کیاگیا۔بے لگام حکومتی جبر و تشدد، جائیدادوں کی قرقی ضبطی، جرمانے کی وصولی اور چوک چوراہوں پر ناموں کا پوسٹر لگاکر اس کی شروعات کی گئی جسے عدالتوں نے غیر قانونی ٹھہرایاتھامگر عدالتی فرمان کو پائوں تلے روندتے ہوئے حکمراں پہلے سے زیادہ سفاکی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔الٰہ آباد میں جاوید محمد کے پختہ مکان کو سیکڑوں کیمروں اور ہزاروں پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں بلڈوز کردیا گیا۔محض انتظامی احکامات سے ایک کثیر المنزلہ، خوبصورت، پختہ مکان کو گرائے جانے کو پورے ملک میں نہ صرف سوشل میڈیا پر نامعلوم افراد نے براہ راست دکھایا بلکہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں،ان کی ٹرول آرمی اور گودی میڈیا تک نے جس طرح اس کا جشن منایا۔
آئین اور قانون سے متصادم حکومت کے اس سفاکانہ طرز عمل کا نشانہ یک طرفہ طور پرمسلمان ہیں اور ایسا اس لیے کیا جارہاہے کہ عوام کو الجھائے رکھاجاسکے اور ان کی توجہ حقیقی مسائل پر نہ ہو۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ’ اگنی پتھ‘ جیسی اسکیموں کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران ہونے والے بھیانک تشدد،اربوں کی سرکاری املاک کی تباہی، سیکڑوں ٹرینوں کو نذر آتش کرنے والے مظاہرین کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوناچاہیے تھا لیکن دنیا نے دیکھاکہ ایسی غیر قانونی کارروائیوں کا تشدد صرف مسلمانوں کا مقدر بن رہی ہیں۔انہیں تاک تاک کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایسے منتخب مسلمانوں کو سزا دی جارہی ہے جو کسی نہ کسی طرح حکومتی ارادے کی راہ میں مزاحم ہیں۔ جو ملک کے آئین اور سیکولرزم کی بقاکیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ملک کے تکثیری معاشرے میں بنیادی شہری حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کی آواز اٹھارہے ہیں۔ اپنی تمام ترکمزوریوں کے باوجود حکومت کے سامنے سینہ سپر ہیں اور ہرحال میں آئین اور قانون کی بالادستی اور وطن عزیز کی بھلائی چاہتے ہیں۔ جاوید محمد یا دوسرے مسلمانوں کی املاک تباہ کرنے کیلئے کسی اصول، ضابطے اور قانون کا پاس نہیں رکھاگیا۔حالانکہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کیے جانے سے قبل 15 دن کا نوٹس دینا ضروری ہے۔ نیز اترپردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ 1958 کی دفعہ 10 کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہیے، اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15 دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے۔ جاوید محمد کے مکان کو بلڈوزکرنے سے قبل کسی بھی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی۔انتہاتو یہ ہے کہ عدالتوں اور ججوںکو گمراہ کرنے کیلئے غلط اور جھوٹے حلف نامے بھی داخل کیے جارہے ہیں۔
حکمرانوں کا اصل مقصد اپنے اقتدار کو تسلسل دینا ہے۔ چاہے وہ جس قیمت پرہو، اس کیلئے ایک طرف یہ مسلمانوں کو سبق سکھارہے ہیں تو دوسری طرف برادران وطن میںمسلم دشمنی اور مذہبی منافرت کا جذبہ ابھار کر انہیں ہندو راشٹر کی نویدبھی سنارہے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو یہ ہندوئوں سے مخلص ہیں اور نہ ہی ان کے سینوں میں وطن دوستی کا جذبہ ہے۔ ان کا واحد ایجنڈا اپنے اقتدار کا تسلسل ہے، چاہے وہ جس قیمت پر ہو، اس کیلئے ملک میں فساد پھیلاناپڑے، ہندوئوں کو مسلمانوں کے خلاف اسلحہ دے کر کھڑا کرنا پڑے یا ملک کے تمام وسائل سرمایہ داروں کی جھولی میں ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے اور یہ سارے کام قانون کے سایہ میں کیے جارہے ہیں۔