عدالت اور پولیس کے ساتھ شہری پر بھی امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری

0

نئی دہلی (ایس این بی) : ہائی کورٹ نے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں ایک ملزم کو پیشگی ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان کے خلاف 2 برادریوں کے درمیان تنازع پیدا کرنے اور علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں اسے پیشگی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔جسٹس سورن کانتا شرما نے کہا کہ یہ تمام شہریوں کا فرض ہے کہ ان کے اقدامات سے فرقہ وارانہ منافرت نہ پھیلے۔ ملک اور برادریوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا صرف پولیس اور عدالت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنا تمام شہریوں کی ذمہ داری ہے، ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ان کے کام سے فرقہ وارانہ یا نفرت کو بھڑکانے کا بڑھاوا نہ ملے۔ جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار شیخ اسرافیل کی شناخت ایک عینی شاہد نے کی ہے۔ اس کے گھر سے مجرمانہ مواد برآمد ہوا ہے۔ وہ واقعہ کے بعد سے فرار ہے اور تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا ہے۔ اس لیے اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی ضرورت ہے۔ اسے پیشگی ضمانت دے کر تفتیش کو ناکام بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جسٹس نے کہا کہ ذاتی آزادی کا بنیادی حق تمام شہریوں کو فراہم کیا گیا ہے، لیکن یہ بھی فرض کے ماتحت ہے۔ اس کیس کا ملزم گرفتاری سے بچ رہا ہے اور اسے مفرور قرار دینے کے بعد اس کی جائیداد قرق کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ پھر وہ ضمانت کے لیے آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار نے خود کو علاقے میں امن قائم کرنے والی تنظیم امن سمیتی کا انچارج بتایا ہے لیکن وہ پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا ہے۔ یہ اس کے طرز عمل کے خلاف ہے۔ اس سے ایسی کمیٹی کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔