عالم عربی میں غذائی بحران کا بڑھتا چیلنج

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

خلیجی ممالک کی دولت اور ان کی قابل رشک مالی حالت کی بنا پر عام طور سے جنوبی ایشیا میں بسنے والوں کے لئے یہ خبر بڑی عجیب معلوم ہوگی کہ عرب دنیا کے کئی ممالک غذائی بحران کا بری طرح شکار ہیں اور بعض ممالک کی حالت تو اس سلسلہ میں اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ اس کا خطرہ منڈلا لا رہا ہے کہ اگر بہت جلد اس بحران کو حل کرنے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے گئے تو بے شمار زندگیاں موت کا لقمہ بن جائیں گی۔ عالم عربی میں غذائی بحران کا معاملہ کس قدر سنگین ہے اس کا اندازہ کسی حد تک جرمنی کی معروف چیریٹی تنظیم Welthungerhilfe کے سکریٹری جنرل اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر ماٹیاس موگے (Mathias Mogge ) کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے 15 مئی کو جرمنی کے میڈیا ہاؤس ’آر این ڈی‘ کو دیا تھا۔ ماٹیاس نے بتایا تھا کہ یوکرین پر جاری روسی جارحیت کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں بھکمری کے واقعات رونما ہوں گے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مصر، کینیا، ساؤتھ سوڈان اور لبنان جیسے کئی ایسے ممالک ہیں جن کا انحصار روس اور یوکرین پر بہت زیادہ ہے۔ یہ ممالک روس اور یوکرین سے غذائی اجناس کی خریداری بڑے پیمانہ پر کرتے ہیں۔ بعض ممالک کا انحصار روس اور یوکرین پر بالواسطہ ہے تو بعض دیگر کا بلا واسطہ۔ اب جنگ کی جو صورت بنی ہوئی ہے اس کی وجہ سے انہیں مطلوبہ غذائی اجناس حاصل کرنے میں بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یا تو سرے سے غذاؤں کی فراہمی بازاروں میں نہیں ہو پارہی ہے یا پھر برآمد کرنے کے لئے انہیں پہلے کے مقابلہ زیادہ بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جس سے بجٹ کا توازن بگڑ رہا ہے اور مالی بحران کا شکار ہو جارہے ہیں۔ اس غذائی بحران کی زد میں بیشتر ایسے لوگ آ رہے ہیں جن کی مالی حالت پہلے ہی سے بہت خراب تھی۔ اب غلہ کی فراہمی میں درپیش مسائل کی وجہ سے انہیں اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ غذا پر خرچ کرنا پڑ رہا ہے جس سے ان کی مالی حالت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ صرف یوکرین پر روسی جارحیت اس غذائی بحران کے لئے ذمہ دار نہیں ہے بلکہ ماحولیات کی تبدیلی اور کورونا جیسی وباؤں نے بھی صورت حال کو تشویش ناک بنا دیا ہے البتہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وباؤں کے بعد روسی جارحیت نے پوری عالمی منڈی کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا۔ اس غذائی بحران کے نتیجہ میں کس قسم کے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2015 میں جب اقوام متحدہ کی تنظیم ورلڈ فوڈ پروگرام ریلیف کے لئے مختص مقدار میں کمی کرنے پر مجبور ہوگئی تھی تو اس کی وجہ سے پناہ گزینوں کا قافلہ یوروپ کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ آج بھی سات ایسے عرب ممالک ہیں جہاں غذائی بحران کی کیفیت بہت تشویش ناک ہے اور آئندہ اس میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بحران کو حل کرنے کے لئے عالم عربی میں موجود سیاسی اور اقتصادی حالات کو جلد ہی درست کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو روس اور یوکرین جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خارجی چیلنجوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ روایتی طور پر جن ممالک سے غذاؤں کی بر آمدگی ہوتی تھی اب وہاں سے آنے والے مواد کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ شاید اسی مسئلہ کی سنگینی کو دھیان میں رکھتے ہوئے عرب لیگ کے ممبر ممالک نے تیونس کے اندر اسی مہینہ کے آخر میں غذائی بحران کے مسئلہ پر گفتگو کرنے اور اس کو حل کرنے کیلئے ایک میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عرب لیگ کی ماتحت تنظیم عرب آرگنائزیشن فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ابراہیم دخیری نے معروف عربی اخبار’الشرق الاوسط‘کو دیے گئے اپنے بیان میں بحران کے بعض اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کچھ عرب ممالک تو وہ ہیں جن کے مسائل کی نوعیت خالص اقتصادی حیثیت کی ہیں جب کہ بعض دیگر ملکوں میں اس کا تعلق سیاسی اتھل پتھل اور داخلی عدم استحکام سے ہے۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ پروفیسر ابراہیم کے مطابق ایسے عرب ممالک بھی غذائی بحران کا شکار ہیں جن کے پاس تیل کے ذخائر ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام اور پیچیدہ ادارتی مسائل کی وجہ سے ان قدرتی ذخائر سے استفادہ کر پانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔
انہوں نے نام لئے بغیر یہ بھی بتایا کہ سات عرب ممالک میں سیکورٹی کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے غذائی بحران میں اضافہ ہوا ہے اور ان مشکلات کو حل کرپانا مشکل نظر آ رہا ہے۔ اگرچہ پروفیسر ابراہیم نے ان ملکوں کے نام ذکر نہیں کئے ہیں لیکن صاف طور سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مصر، شام، یمن، مراکش، الجزائر، لیبیا اور سوڈان وغیرہ اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں غذائی بحران کا دائرہ صرف وہیں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی اور سیکورٹی مسائل کی بناء پر داخلی اور خارجی انویسٹمینٹ کی امیدیں بھی معدوم ہوجائیں گی اور پھر اس کے نتیجہ میں مزید سماجی اور انسانی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اگر عرب ممالک واقعی غذائی بحران کے ساتھ ساتھ اپنے دوسرے اقتصادی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنے سیاسی و سلامتی امور سے متعلق مسائل کو حل کرنے کی طرف فوراً اقدام کرنا ہوگا اور اپنی ترجیحات کو درست کرنا ہوگا۔ جب تک سیاسی مسائل حل نہیں ہوں گے تب تک اقتصادی مسائل کو حل کرپانا ممکن نہیں ہوگا۔ ابھی گزشتہ ہفتہ کی بات ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو سوشل میڈیا پر عوامی مذاق کا نشانہ بننا پڑا تھا کیونکہ وہ مصر کی عوام کو شعب ابی طالب کا حوالہ دے کر تقشف پر ابھارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ السیسی کا اس واقعہ سے استدلال یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے داخلی سیاسی مسائل کو حل کرنے میں کس طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اگر عبدالفتاح السیسی نے اپنے سیاسی حریف اخوان المسلمین سے وابستہ ممبران سے دشمنی نبھانے اور ان کے ساتھ اپنے سیاسی اختلاف کی بناء پر ان سے انتقام لینے کے بجائے مصر کے اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔ یہی حالت کم و بیش لیبیا کی ہے جہاں سیاسی قوت دو خیموں میں بنٹی ہوئی ہے اور دونوں نے مل کر پورے ملک کو خانہ جنگی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ قدرتی ذرائع سے مالا مال یہ ملک جو کبھی معمر قذافی کے زمانہ میں دنیا بھر کو ریلیف مہیا کیا کرتا تھا، آج وہاں کے باشندے یوروپ تک پہنچنے کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے ہیں۔ جو خوش قسمت ہوتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر پار ہوجاتے ہیں اور پھر دیار غیر میں کسمپرسی کی زندگی اس امید میں گزارتے رہتے ہیں کہ شاید آنے والا کل ان کے لئے خوشی کا نیا پیام لے کر آ ئے گا۔ البتہ ان میں سے بھی جو بدقسمت ہوتے ہیں ان کی کشتیاں کبھی ساحل تک نہیں پہنچ پاتیں اور وہ غرق آب ہوکر ہمیشہ کے لئے راہئی ملک عدم ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک سعودی عرب کے پڑوسی ملک یمن کا تعلق ہے تو وہاں کی حالت تو قابل ترس ہے۔ وہاں نہ تو مطلوب مقدار میں غذا موجود ہے اور نہ ہی بیماروں کو علاج معالجہ کے لئے دوائیں دستیاب ہیں۔ یہی حالت شام اور عراق کے اندر ہے۔ شام کا سیاسی مستقبل ابھی تک تاریک ہے لیکن عراق جہاں اکتوبر کے مہینہ میں عام انتخابات ہوئے تھے وہاں بھی حکومت سازی کا مسئلہ پیچیدہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے اہم فیصلے نہیں لئے جا رہے ہیں۔ اب امید یہ کی جا رہی ہے کہ تونس کے اندر عرب لیگ کی جو میٹنگ اس مہینہ کے اخیر میں منعقد ہو رہی ہے اور جہاں غذائی بحران کو حل کرنے سے متعلق پالیسیاں وضع کی جائیں گی اور ان کے لئے مطلوب انویسٹمینٹ مہیا کرانے کا انتظام کیا جائے گا شاید وہ کامیاب ہوجائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو سیاسی اور سیکورٹی مسائل کی موجودگی میں غذائی بحران کے اضافہ سے جو مسئلہ پیدا ہوگا اس سے انارکی کی وہ کیفیت پیدا ہوجائے گی جس کا اندازہ کسی حد تک یمن کے عوام کو ہوچکا ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ اب کوشش کی جائے کہ کوئی دوسرا عرب ملک یمن، شام اور عراق کی راہ پر نہ جانے پائے۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں