وزیراعظم مودی کے ہاتھوں راجامہندرپرتاپ سنگھ یونیورسٹی اور ڈیفنس کوریڈور کا سنگ بنیاد

0
image:livelaw.in

علی گڑھ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے گا
نئی دہلی (ایس این بی) :راجہ مہندر پرتاپ ایک عظیم مجاہد آزادی اور مصلح تھے، نوجوان نسل کو انھیں پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔ ان خیالا ت کا اظہار ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے علی گڑھ کے لودھا علاقہ میں ایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نریندر مودی آج علی گڑھ میں راجہ مہندر پرتاپ یونیورسٹی اور ڈیفنس کوریڈور کے سنگ بنیادکی تقریب میں شامل ہونے آئے تھے۔ انھوںنے مزیدکہاکہ نوجوان نسل کو راجہ مہندر پرتاپ کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے۔ راجہ مہندر پرتاپ کو سابقہ دور میں وہ مقام نہیں مل سکا، جس کے وہ حقدار تھے۔ انھوںنے کہا کہ 20 ویں صدی میں ہوئی غلطیوںکی اصلاح21ویں صدی کا ہندوستان کررہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے علی گڑھ میں ڈیفنس کوریڈور کے نوڈ اور راجا مہندر پرتاپ سنگھ ریاستی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس دوران وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اترپردیش میں کافی ترقی ہوئی ہے۔ یہاں ملک اور دنیا کے ہر چھوٹے بڑے سرمایہ کار آرہے ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے، جب سرمایہ کیلئے ضروری ماحول بنتا ہے۔ ضروری سہولتیں ملتی ہیں۔ مرکز اور ریاست کی یوگی حکومت مل کر لوگوں کو صحیح سہولت دینے کا کام کررہی ہیں۔ آج اترپردیش میں ڈبل انجن حکومت ڈبل فائدہ کی ایک بہت بڑی مثال بن رہی ہے۔ کل تک جو علی گڑھ لوگوں کے گھروں کی حفاظت کرتا تھا، آج وہی علی گڑھ ہندوستان کے سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔ یہاں دفاعی آلات بنیں گے۔ علی گڑھ نوڈ میں چھوٹے اسلحہ ڈرون ، ایئروسپیس ، میٹل کمپوننٹس ، ڈیفنس پیکیجنگ جیسے آلات بن سکیں گے۔ اس کیلئے نئے صنعت لگائی جارہی ہیں۔ 100 کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوگی۔ یہ تبدیلی علی گڑھ اور آس پاس کے علاقے کو ایک نئی شناخت دے گی۔ مسٹرمودی نے کہا کہ ڈیفنس انڈسٹری کے ذریعہ یہاں کے موجودہ تاجروں اور ایم ایس ایم ای کو بھی فائدہ ملے گا۔ غریبوں کیلئے یہ کافی بہتر موقع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ آج وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے، بہت خوش ہوں گے۔ وزیراعظم مودی نے بغیر نام لئے کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں پر نشانہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ ایسے مجاہد آزادی سے بھری پڑی ہے۔ ایسے آزادی کے دیوانوں نے اپنا سب کچھ گنوادیا، لیکن یہ ملک کی بدقسمتی رہی کہ آزادی کے بعد ملک کے ایسے عظیم رہنمائوں کی قربانی سے اگلی نسل کو واقف ہی نہیں کرایا گیا۔ان کے حقائق کو جاننے سے ملک کی کئی نسلیں محروم رہ گئیں۔ 20 ویں صدی کی ان غلطیوں کو آج 21 ویں صدی میں سدھار رہے ہیں۔
(باقی اپنا شہر صفحہ 4 پر)
ایک دور تھا، جب اترپردیش میں انتظامیہ غنڈوں اور مافیا کی من مانی سے چلتا تھا۔ اب وصولی کرنے والے، مافیا راج چلانے والے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ میں مغربی یوپی کے لوگوں کوخاص طور پر یاد دلانا چاہتاہوں کہ اسی حلقے میں چار پانچ سال پہلے کنبہ اپنے ہی گھروں میں ڈرکر جیتے تھے۔ بہن بیٹیوں کو گھر سے نکلنے میں، اسکول و کالج جانے میں ڈر لگتا تھا۔ جب تک بیٹیاں گھر واپس نہیں آتیں، والدین کی سانس اٹکی رہتی تھی۔ کتنے ہی لوگوں کو اپنا پشتینی گھر چھوڑنا پڑا۔ نقل مکانی کرنی پڑی۔ آج کوئی بھی جرائم پیشہ ایسا کرنے سے پہلے 100 بار سوچتا ہے۔ یوگی جی کی حکومت میں غریب کی سنی بھی جاتی ہے اور غریب کو اعزا ز بھی ملتا ہے۔حکومت چھوٹے کسانوں کو طاقت دینے کیلئے کام کررہی ہے۔ ڈیڑھ گنا زیادہ ایم ایس پی دی جارہی ہے۔ کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت کو بہتر بنایا گیا۔ کسانوں کے کھاتے میں 6ہزار روپے دیے جارہے ہیں۔ کئی منصوبوں سے کسانوں کو مضبوط کیاگیا۔ یو پی میں گزشتہ 4 سالوں میں ایم ایس پی کی خرید پر نئے ریکارڈ بنے ہیں۔ گنا کے کسانوں کی بھی ادائیگی کی گئی۔ آنے والا سال یوپی کے گنا کسانوں کیلئے نئے امکانات کے دروازے کھولنے والا ہے۔ گنا سے جو ایتھنال بنتا ہے، اس کا گیس میں استعمال بڑھایا جارہا ہے۔ اس کا فائدہ مغربی یوپی کے گنا کسانوں کو ملے گا۔
راجا مہندر پرتاپ سنگھ یونیورسٹی جدید تعلیم کا ایک بڑا مرکز بنے گی۔ ساتھ ہی ملک میں ڈیفنس سے متعلق پڑھائی، ٹیکنالوجی اور مین پاور بنانے والا سینٹر بھی بنے گا۔ نئی تعلیمی پالیسی میں، جس طرح تعلیم، اسکل اور مقامی زبان میں پڑھائی پر زور دیا گیا ہے، اس سے اس یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلباو طالبات کو بہت فائدہ ہوگا۔ اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کیلئے خود مختار ی کی طرف بڑھنے کے ہندوستان کی کوششوں کو یہ یونیورسٹی فروغ دے گی۔ اس سے یہاں کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔خطاب کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج بچپن کی بات کرنے کا من کررہا ہے۔ لوگ اپنے گھر یا دکان کی حفاظت کیلئے علی گڑھ کے بھروسے رہتے تھے، کیونکہ علی گڑھ کا تالا لگا ہوتا تھا تو لوگ مطمئن ہوجاتے تھے۔ قریب 55-60 سال پرانی بات ہے۔ علی گڑھ سے تالے کے ایک سیلس مین تھے۔ ایک مسلم مہربان تھے۔ وہ ہر 3 ماہ میں ہمارے گائوں آتے تھے۔ وہ کالا جیکٹ پہنتے تھے۔ مسلم سیلس مین کے ناتے اپنا تالا تاجروں کے پاس رکھ کر جاتے تھے اور تین ماہ بعد پھر آتے تو پیسہ لے جاتے تھے۔ آس پاس کے گائوں میں بھی یہی کرتے تھے۔ میرے والد سے ان کی اچھی دوستی تھی۔ دن بھر جو پیسے وصول کرکے لاتے تھے تو میرے والد کے پاس چھوڑ دیتے تھے۔ جب 4-6 دن کے بعد میرا گائوں چھوڑ کر جاتے تھے تو پھر والد سے پیسے لے کر ٹرین سے نکل جاتے تھے۔ ہم سیتاپور اور علی گڑھ سے بہت واقف تھے۔ آنکھ کی بیماریوں کے علاج کیلئے ہمارے گائوں کا ہر شخص سیتاپور آتاتھا۔ دوسرا ان لوگوں کی وجہ سے علی گڑھ بار بار سنتے تھے۔ کل تک جو علی گڑھ تالوں کے ذریعہ گھروں، دکانوں کی حفاظت کرتا تھا، 21 ویں صدی میں میرا علی گڑھ ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کا کام کرے گا۔ ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ منصوبہ کے تحت یو پی حکومت نے علی گڑھ کے تالوں اور ہارڈ ویئر کو نئی شناخت دلانے کا کام کیا ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here