ہجومی تشدد کی بڑھتی حدیں

0

سوربھ جین

ملک کے مختلف حصوں سے آرہی ہجومی تشدد کی خبروں نے پھر ایک بار تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ کچھ ہی دن پہلے مدھیہ پریش کے نیمچ میں ایک شخص کو گاڑی سے باندھ کر گھسیٹا گیا، جس میں اس کی موت ہوگئی۔ ایسے واقعات کے برے اثرات سامنے آرہے ہیں کہ ان پر قدغن لگنے کے بجائے ان کے تئیں لوگوں کی کشش میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں مالوا علاقہ میں دیواس، اجین، اندور میں ہجومی تشدد کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ اجین کے مہیدپور میں مذہبی نعرے نہ لگانے پر دکان دار کا سامان پھینکنے اور دیواس ضلع کے ہاٹپی پلیا میں آدھار کارڈ نہیں دکھانے پر پھیری والے کو پیٹنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ سبھی واقعات کچھ دن کے فرق پر سامنے آئے ہیں۔
اندور کا معاملہ تو قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا تھا، جس میں بھیڑ ایک شخص کی پٹائی کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ یہ واقعہ اندور میں بان گنگا علاقہ کا ہے، جہاں چوڑی بیچنے والے ایک شخص کو لوگوں نے پیٹ دیا۔ پولیس نے دونوں فریقوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ چوری بیچنے والے کے خلاف پاکسو قانون کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر پہچان چھپانے کے الزامات بھی عائد ہیں۔ اب سوال موقع پر انصاف کرتی بھیڑ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر وہ شخص قصوروار ہے، تو اس کی جانچ کرنے کا کام پولیس اور سزا دینے کا کام عدالت کا ہے۔ ہمارے سسٹم میں بھیڑ کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ سڑکوں پر انصاف کرنے اترجائے؟ سڑکوں پر انصاف کرتی بھیڑ نے ایک مرتبہ پھر سسٹم پر سوالیہ نشان لگایا اور ہجومی تشدد پر بحث کو جنم دیا ہے۔
ہندوستانی آئین کے دیباچہ(Preface) میں ’ہم‘ لفظ اس ملک میں رہنے والے سبھی شہریوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے، لیکن جب پالگھر جیسے ہجومی تشدد کے واقعات ہوتے ہیں تو ’ہم‘ پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔ پالگھر کے واقعہ سے پورا ملک شدید صدمہ/حیرت میں تھا، سوشل میڈیا پر وائرل واقعہ کے ویڈیو نے تب بھی انسانیت پر سوال کھڑے کیے تھے۔ ایسے واقعات کو ہجومی تشدد کی شکل میں دیکھنے کے بجائے مذہبی رنگ دینے سے ایک نئی بحث پیدا ہوجاتی ہے۔ ہجومی تشدد وہ معاشرتی بگاڑ ہے جو کسی مذہب میں یقین نہیں کرتا۔ ہندوستان جیسے ملک، جس میں مختلف ذات، مذاہب، زبان والے شہری رہائش پذیر ہیں، ایسے واقعات اس کی فطرت کے خلاف ثابت ہوتے ہیں۔ سوال انسان کی ذہانت اور برداشت پر بھی اٹھتے ہیں کہ ہم تشدد کے تئیں اتنے راغب کیوں ہورہے ہیں؟ محض کسی افواہ کی بنیاد پر اپنی برداشت صفر کرکے ایسے واقعات کو انجام دے کر ہم ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
ایسے واقعات پر قانونی طور پر قدغن لگانے کے لیے سب سے پہلی کوشش منی پور نے لنچنگ کی روک تھام کے لیے قانون بناکر کیا تھا۔ اس کے بعد راجستھان اور پھر مغربی بنگال کی حکومتیں بھی ہجومی تشدد کے واقعات کو سنگین تسلیم کرتے ہوئے ان کی روک تھام کے لیے قانون پاس کرچکی ہیں۔ مغربی بنگال(ہجومی تشدد روک تھام)بل، 2019میں کسی شخص کو زخمی کرنے والوں کو 3سال سے عمرقید تک کی سزا کا التزام کیا گیا ہے اور اگر اس میں کسی کی موت ہوجاتی ہے تو سزائے موت یا سخت عمرقید کا التزام بھی ہے۔ وہیں راجستھان میں ہجومی تشدد پر عمرقید اور پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانہ کا التزام کیا گیا ہے، لیکن ایسا کردینے سے بھیڑ تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے کیا؟
ہجومی تشدد کتنا سنگین مسئلہ ہے، اس بات کا اندازہ سپریم کورٹ کے ذریعہ ظاہر کی گئی تشویش کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ 2018میں سپریم کورٹ نے لنچنگ پر قدغن لگانے کے لیے ڈی ایس پی سطح کے افسر کے ذریعہ ہجومی تشدد کی جانچ کرنے کے احکامات دیے تھے۔ ساتھ ہی خصوصی ٹاسک فورس، جو ایسے لوگوں کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کریں، جو اس طرح کی واردات کو انجام دینا چاہتے ہیں یا افواہ پھیلا رہے ہیں، کی تشکیل کرنے کو کہا تھا۔ یہ سب باتیں سننے میں انتہائی اچھی لگتی ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ عدالت نے اس وقت تبصرہ کیا تھا کہ ’کوئی بھی شہری اپنے آپ میں قانون نہیں بن سکتا ہے۔ جمہوریت میں بھیڑتنتر(ہجومی نظام) کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھیڑ کس طرح قانون سے اوپر ہوتی جارہی ہے۔

نیشنل کرائم بیورو کے مطابق 2001 سے 2014 تک ملک میں 2,290 خواتین کا قتل ڈائن بتاکر پیٹ پیٹ کر کیا گیا۔۔۔ اس لیے سب سے پہلے ہجومی واقعات کو مذہبی نظر سے دیکھنے کے بجائے معاشرتی بگاڑ اور آئین کی بنیادی روح کے برعکس قبول کیا جانا چاہیے۔ یہ تمام اعداد و شمار بے حد سنگین اور تشویشناک حالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

عالمی تناظر میں بات کی جائے تو ’لنچنگ‘ لفظ امریکہ سے آیا ہے۔ امریکی انقلاب کے دوران ورجینیا کے بیڈفرڈ کاؤنٹی کے چارلس لنچ اپنی ذاتی عدالتیں لگانے لگے اور مجرمین کو بغیر کسی قانونی عمل کے سزا دینے لگے۔ وہاں لوگوں کی بھیڑ کے سامنے پیڑوں یا پلوں سے لٹکا کر اعضا کاٹنے اور زندہ جلا کر غیرانسانی طریقہ سے قتل کیے جاتے تھے۔ امریکہ میں واقع ’نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل‘ کے اعدادوشمار کے مطابق 1882سے 1968 تک امریکہ میں 4,743لوگوں کا قتل بھیڑ کے ذریعہ کیا گیا۔ لنچنگ کے شکار لوگوں میں جہاں 3,446سیاہ فام افریقی امریکی تھے، وہیں ان میں 1,297 سفیدفام لوگ بھی تھے۔
ہمارے ملک میں ہجومی تشدد یعنی ماب لنچنگ کا رجحان ہر دور میں دیکھا گیا ہے۔ بھیڑ نے سب سے پہلے ڈائن بتاکر خواتین کو اپنا شکار بنایا، پھر یہ رجحان بدلا اور گئوکشی کی افواہوں پر بھیڑ گئورکشک بن کر میدان میں کود پڑی۔ کچھ وقت بعد بچہ چوری کے شک میں بھیڑ کے ذریعہ پیٹنے کا تیسرا رواج سامنے آگیا۔
5اپریل2017کو راجستھان کے الور میں 200 لوگوں کی گئورکشک بھیڑ نے دودھ کا کاروبار کرنے والے پہلوخان کو ماردیا۔ اس معاملہ کو سب سے زیادہ سرخیاں ملیں، لیکن اس واقعہ کو بھی مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ انڈیا اسپینڈ ویب سائٹ کے مطابق برس 2010سے 2017کے درمیان درج63معاملات میں سے 97فیصد معاملات گزشتہ تین برسوں کے دوران درج ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2012سے اب تک فرقہ وارانہ منافرت سے ترغیب پاکر ایسے 128واقعات ہوچکے ہیں، جن میں 47لوگوں کی موت ہوئی اور 175لوگ سنگین طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ جنوری 2017سے 5جولائی، 2018کے درمیان درج 69معاملات میں صرف بچہ چوری کی افواہ کے سبب 33لوگ ہجومی تشدد میں مارے جاچکے ہیں اور 99لوگ شدید طور پر زخمی ہوچکے ہیں۔
نیشنل کرائم بیورو کے مطابق 2001سے 2014تک ملک میں 2,290خواتین کا قتل ڈائن بتاکر پیٹ پیٹ کر کیا گیا۔ ان میں 464قتل اکیلے جھارکھنڈ میں ہوئے۔ اڈیشہ میں 415اور آندھراپردیش میں ایسے 383قتل ہوچکے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ہریانہ میں 209قتل ہوئے ہیں۔ اسٹیپس فاؤنڈیشن کے مطابق 28ستمبر 2015 سے 7جون2019تک وقوع پذیر ہوئے ایسے واقعات میں 141لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ ان میں مرنے والوں میں 70مسلم اور 71غیرمسلم ہیں۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ہجوم کی نظر میں نہ تو کوئی ہندو ہوتا ہے، نہ ہی کوئی مسلمان، بھیڑ مساوی طور پر سبھی کو اپنا شکار بناتی ہے۔ 2018میں سب سے زیادہ 61لوگوں کا قتل ہوا۔ اس لیے سب سے پہلے ان واقعات کو مذہبی نظر سے دیکھنے کے بجائے معاشرتی بگاڑ اور آئین کی بنیادی روح کے برعکس قبول کیا جانا چاہیے۔ یہ تمام اعداد و شمار بے حد سنگین اور تشویشناک حالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
(بشکریہ: جن ستّا)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here