طالبان:نظریہ وہی، طریقہ کار میں تبدیلی!

0

صبیح احمد

افغانستان کے دیہی علاقہ سے تعلق رکھنے والی سالگی باران نے میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے ہونے والے ٹسٹ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں لیکن ان کے پاس اس خدشہ کا کوئی جواب نہیں ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر آگے کیا ہو گا؟ رواں ماہ طالبان کے قبضہ کے بعد سالگی باران سمیت بہت سے لوگوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا وہ مستقبل میں اپنے خوابوں کو پورا کر سکیں گے یا نہیں۔ باران کا ایک ہی سوال ہے کہ کیا طالبان انہیں تعلیم حاصل کرنے دیں گے یا نہیں؟ دوسری طرف طالبان کا الزام ہے کہ مغربی ممالک ڈاکٹروں، انجینئروں اور دیگر پروفیشنلز کو لالچ دے رہے ہیں جن کی خدمات جنگ سے تباہ حال ملک کی از سر نو تعمیر کے لیے درکار ہو سکتی ہیں۔ سالگی باران کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو ان لوگوں کو افغانستان میں قیام کرنا چاہیے۔ طالبان جب پہلے برسر اقتدار تھے تو خواتین کو اسکولوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ گھروں سے باہر کام کر سکتی تھیں۔ خواتین صرف اس صورت میں گھروں سے باہر قدم رکھ سکتی تھیں جب ان کے ساتھ مرد رشتے دار ہوں اور وہ بھی مکمل برقع میں۔ اب پھر خدشات لاحق ہیں کہ کہیں وقت کا پہیہ الٹا نہ چل پڑے۔
ادھر یونیسکو کی ایک رپورٹ میں بھی 2001 کے بعد سے افغانستان میں تعلیمی شعبے میں ہونے والی ترقی کے خطرے میں پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔افغانستان میں فی الحال بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، ان حالات میں تعلیم کے شعبے میں حاصل ہونے والے فوائد کو محفوظ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے والے طلبا کی کل تعداد 2001 میں تقریباً 10 لاکھ تھی جو بڑھ کر تقریباً ایک کروڑ ہو چکی ہے۔ اساتذہ کی تعداد میں 58 فیصد اضافہ ہوا اور خواتین کی شرح خواندگی تقریباً دوگنی ہو کر17 فیصد سے 30 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس دوران خواتین کے داخلوں کے حوالے سے پیش رفت بہت حوصلہ افزا رہی۔ پرائمری اسکول میں لڑکیوں کی تعداد 2001 میں تقریباً صفر تھی جو 2018 میں بڑھ کر 25 لاکھ ہوگئی۔ 2021 میں پرائمری تعلیم میں ہر 10 طلبا میں سے 4 لڑکیاں ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں لڑکیوں کی تعداد 2001 میں تقریباً 5000 تھی جو 2018 میں بڑھ کر 90 ہزار ہو گئی۔
افغانستان میں تعلیم کے شعبہ کو بہت سارے چیلنجز درپیش ہیں۔ یہ ملک دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے اور انسانی ترقی کے انڈیکس کی درجہ بندی میں یہ بہت نیچے ہے۔ پرائمری اسکول کی عمر کے آدھے بچے اسکول میں داخل نہیں ہوتے۔ کووڈ19- وائرس کے پھیلاؤ اور ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی بندش سے لاکھوں طلبا کے متاثر ہونے سے تعلیمی ترقی پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ اندازہ ہے کہ موجودہ حالات میں ملک کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں بچوں کے حصول تعلیم کے نقصان کا خطرہ بڑھے گا جس کا آنے والے برسوں میں ملک کی پائیدار ترقی پر منفی اثر پڑے گا۔ خواتین اساتذہ کی کمی، اساتذہ کی تنخواہوں کو ادائیگی میں درپیش شدید رکاوٹوں اور بین الاقوامی امداد کے رکنے سے تعلیم کے تسلسل کے حوالے سے فوری اور سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ افغانستان بین الاقوامی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جس کا نصف حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔

حقانی کا کہنا تھا کہ طالبان 20 سال پیچھے نہیں جانا چاہتا، ’ہم آج جو ہیں، اس پر آگے بڑھنا شروع کریں گے۔‘ بہرحال ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ طالبات کو حجاب پہننا ہوگا لیکن اس بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا گیا کہ اس کا مطلب صرف سر پر اسکارف پہننا ہے یا اس میں چہرہ ڈھکنا بھی لازمی ہوگا۔

انہی خدشات اور سوالات کے درمیان طالبان نے اب اپنی نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا کہنا ہے کہ خواتین پوسٹ گریجویشن کے کورسز کے ساتھ یونیورسٹیوں میں پڑھائی کر سکتی ہیں لیکن شرعی لباس پہننا لازمی ہوگا۔ وزیر تعلیم عبدالباقی حقانی نے 12 ستمبر کو باضابطہ ایک پریس کانفرنس کی اور اس میں اپنی نئی تعلیمی پالیسیوں کا خاکہ پیش کیا۔ اس بات پر دنیا کی باریک نظر ہے کہ 1990 کی دہائی کے اواخر میں پہلی بار اقتدار میں آنے والے طالبان اب کس حد تک الگ طریقے سے کام کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم سے محروم کر دیا گیا تھا اور عوامی زندگی سے انہیں باہر رکھا گیا تھا۔طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بدل گئے ہیں۔ اس تبدیلی میں خواتین کے حوالے سے ان کا نظریہ بھی شامل ہے۔ حقانی کا کہنا تھا کہ طالبان 20 سال پیچھے نہیں جانا چاہتا، ’ہم آج جو ہیں، اس پر آگے بڑھنا شروع کریں گے۔‘ بہرحال ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ طالبات کو حجاب پہننا ہوگا لیکن اس بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا گیا کہ اس کا مطلب صرف سر پر اسکارف پہننا ہے یا اس میں چہرہ ڈھکنا بھی لازمی ہوگا۔ ساتھ ہی ان کا صاف طور پر یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم لڑکے اور لڑکیوں کو ساتھ پڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم کوایجوکیشن (مخلوط تعلیم) کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
افغان طالبان کے خواتین کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کے عندیہ کے بعد انسانی حقوق اور خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق ان کے وعدوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ طالبان نے خواتین کو حکومت میں شامل نہ کیے جانے کی بات کہی ہے لیکن انہوں نے یقین دلایا ہے کہ خواتین اسلامی شریعت کے مطابق بعض سرکاری اداروں میں کام کر سکیں گی۔ گزشتہ برس امریکہ کے ساتھ دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدہ میں طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک طالبان کے وعدوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ فی الحال طالبان کی باتوں پر بھروسہ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ سب کچھ اچانک نہیں ہو سکتا۔ اپنے پچھلے دور اقتدار کے برعکس اس بار طالبان ابھی تک کافی اعتدال پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں کی حکومتوں میں خواتین کی نمائندگی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جمہوریت اور جنسی مساوات کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والے ملک امریکہ میں ابھی تک کسی خاتون کو صدر بننے کا موقع نہیں دیا گیا لیکن اس پر کوئی کچھ نہیں بولتا۔ اس حوالے سے ہلیری کلنٹن کی مثال دی جاتی ہے۔
بہرحال جہاں تک لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے، اپنی سابقہ سرکار میں اس پر طالبان نے پابندی لگا رکھی تھی لیکن اس بار مشروط طور پر ہی سہی، لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت تو دی ہے۔ طالبان کے نظریہ میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ شریعت کے مطابق ملک کا نظام چلانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بہرحال ان کے طریقہ کار میں اس بار کافی تبدیلی اور اعتدال پسندی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here