روپے کی گرتی قدر باعث تشویش!

0

کسی ملک کی اقتصادی حالت کو مستحکم رکھنے کے لیے کئی چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ایک چیز پر بھی توجہ نہ دی جائے تو اس کا اثر اقتصادیات پر پڑتا ہے۔ کئی بار توجہ دینے کے باوجود وہ نتائج برآمد نہیں ہوپاتے جو ہونے چاہئیں، خاص کر گلوبلائزیشن کے اس دور میں کسی ملک کے اقتصادی استحکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کے اقتصادی اقدامات اس کے حق میں ہوں، اس کے علاوہ وہ جن ملکوں سے تجارت کرتا ہے وہاں کے حالات بھی اچھے ہوں۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کورونا نے امریکہ اور دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ملکوں کو اقتصادی طور پر دھچکا پہنچایا ہے اور ان کی اقتصادی سرگرمیاں دنیا بھر کے ملکوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ یہ بحث کا موضوع ہے کہ ہمارے ملک کے روپے کی قدر کس حد تک عالمی اقتصادی حالات کی وجہ سے گر رہی ہے اور کیا اس کی وجہ وزیر خزانہ کے غیر موثر اقدامات بھی ہیں مگر یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ رواں سال کی ابتدا سے اب تک ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر 6 روپے سے زیادہ گر چکی ہے۔ یکم جنوری، 2022 کو ایک ڈالر کی قدر 75.43 روپے تھی۔ اگلے ماہ ڈالر کچھ کمزورہوا، روپے کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔ یکم فروری کو ایک ڈالر کی قدر 74.39 روپے ہوگئی۔ اگلے ماہ روپیہ کچھ کمزورہوا۔ یکم مارچ کو روپے کی قدر میں 55 پیسے کی کمی ہوئی، ایک ڈالر کی قدر 74.96 روپے ہو گئی۔ اپریل کی ابتدا تک روپیہ اور زیادہ کمزورہو چکا تھا۔ یکم اپریل کو ایک ڈالر کی قدر 76.21 روپے ہوگئی۔ ایسا نہیں ہے کہ روپے کی قدرہی گر رہی تھی، پاکستانی کرنسی کی حالت بھی خستہ تھی۔ گزشتہ برسوں میں ترکی کی خستہ ہوتی اقتصادی حالت کے لیے لیرا کی گرتی قدر بھی ذمہ دار ہے مگر بھارت جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس کی کرنسی کی گرتی قدر باعث تشویش ہونی چاہیے اور یہ باعث تشویش بھی تھی۔ اسی لیے روپے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے اقدامات کیے گئے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ عالمی حالات کے منفی اثرات سے کرنسی کوبہت زیادہ نہیں بچا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی کوششوں سے مئی کی ابتدا میں روپیہ کچھ مضبوط نظر آیا، کیونکہ روپے کی قدرمیں 12 پیسے کا اضافہ ہوا تھا اور یکم مئی کو ایک ڈالر کی قدر 76.09 روپے ہو گئی تھی مگراگلے ماہ پچھلے ماہ کی کسر پوری ہوگئی۔ روپے کے مقابلے ڈالر پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا۔ اس بار اس کی قدر میں ایک روپے، 12 پیسے کا اضافہ ہوا۔ اس طرح یکم جون کو ایک ڈالر کی قدر 77.21 روپے ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے ابھی تک روپیہ سنبھل نہیں پایا ہے۔ اس کی حالت میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اگر روپیہ یکم جنوری، 2022 والی قدر بھی حاصل کرلیتا ہے تویہ حکومت کی بڑی کامیابی ہوگی، کیونکہ بات جون سے اب تک کی ہی کی جائے تو مایوسی ہی مایوسی نظر آتی ہے، کیونکہ یکم جولائی کو ایک ڈالر کی قدر 77.95 روپے، یکم اگست کو 79.54روپے اور آج یعنی 26 ستمبر کو ایک ڈالر کی قدر 81.63روپے ہو گئی۔
روپے کی حالت خستہ ہونے کا فائدہ ان لوگوں کو ہوگا جو بیرون ملک کام کرتے ہیں مگر ملک کے لیے روپے کی گرتی قدر اس حالت میں بہتر نہیں ہے جبکہ بڑھتی بے روزگاری اورمفلسی کا اثر پروڈکشن پر پڑ رہا ہے۔ بھارت کا امپورٹ، ایکسپورٹ کے مقابلے زیادہ ہے۔ 2021-22 میں بھارت نے 421.894 ارب ڈالر کا ایکسپورٹ جبکہ 612.608 ارب ڈالر کا امپورٹ کیا تھا۔ روپے کی قدرگرے گی تو بھارت کی اقتصادیات پر بوجھ بڑھے گا، اس کا اثر اس کے زرمبادلہ کے ذخیرے پر پڑے گا جبکہ پہلے ہی اس کا زرمبادلہ بڑی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میںبھارت کو امپورٹ کے مقابلے ایکسپورٹ بڑھانا ہوگا۔ گھریلو محاذپر بے روزگاری کم کرنے اور مفلسی ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی تاکہ لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہو اور اس کا مثبت اثر پروڈکشن پر پڑے۔ ان کاموں کو کرنے میں وقت لگے گا جبکہ روپے کو مضبوط بنانا فوری ضرورت ہے۔ روپیہ جتنا کمزور ہوگا، باہر سے اشیا منگوانا اتنا ہی مہنگا ہوگا۔ بھارت بڑی مقدار میں تیل کا امپورٹ کرتا ہے، اس مد میں زیادہ خرچ کرنے سے اندرون خانہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا مجبوری ہوگی، یہ مجبوری کئی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گی، چنانچہ روپے کی گھٹتی قدر واقعی تشویش کی بات ہے۔ حکومت کی صلاحیتوں کا اندازہ اس سے بھی ہوگا کہ وہ روپے کو مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اورنئے اقتصادی چیلنجز کا مقابلہ کیسے کرتی ہے۔
[email protected]