پندرہ روزہ” تعمیر حیات،، کے نائب مدیر مولانا محمودحسن حسنی ندوی کا انتقال : ملت کا عظیم نقصان

0

پریس ریلیز ( لکشمی پور، مہراج گنج)
ہندوستان کے مشہور ومقبول عالم دین وپندرہ روزہ” تعمیر حیات ،، کے نائب مدیر مولانا محمود حسن حسنی ندویؒ کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کیلئے عموماً وعلمی حلقوں کے لئے خصوصاً ایک دل دوز سانحہ ہے، مرحوم میں تمام تر علمی کمالات کے باوصف زہد وتقوی، تواضع وخاکساری، جیسے ملکوتی اوصاف بھی اعلیٰ درجہ کے تھے، انتقال کے بعد امت غم وسوگ میں ہے یقینا ایسا غم ہے، جو ایک دولمحہ کا نہیں بلکہ صدیوں کا غم ہے، کیوں کہ امت نے ایک چراغ شب تاب کھویا ہے مذکورہ خیالات کا اظہار دارالعلوم فیض محمدی میں بعد نماز جمعہ منعقدہ ایصال ثواب کی مجلس میں امام جمعہ مولانا محمد انتخاب ندوی نے کیا۔
مولانا محمود حسن ندویؒ کی شخصیت پرروشٹی ڈالتے ہوئے ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمدطیب قاسمی نے اپنے ٹیلیفونک تعزیتی بیان میں کہا :کہ اللہ نے مرحوم کو گونا گوں صلاحیتوں سے نوازا تھا، اپنی تصنیفی وتالیفی کاوشوں ، نیزخطیبانہ ومفکرانہ قوت کے وجہ سے عوام سمیت علمی حلقوں میں بڑی مضبوط پکڑ اور مقبولیت انہیں حاصل تھی، درس وتدریس کے علاوہ تحریرات ونگارشات کی دنیا میں بھی صلاحیت کچھ کم نہ تھی یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو¿ سے نکلنے والا اردومجلہ ” تعمیر حیات،، کے آپ نائب مدیر کے عہدہ پر رہتے ہوئے اپنا فریضہ بہ حسن وخوبی انجام دیتے رہے ، اللہ نے اس کام کے لئے آپ کو بہترین سوجھ بوجھ عطا کیا تھا، جس پر ندوة العلماءکو فخر حاصل تھا۔مرحوم ” تعمیرحیات ،، کیلئے ایک مخلص ذمہ دار کی حیثیت سے اپنی گراں قدر خدمات تادم واپسیں انجام د یتے رہے، مولانا کوا ردو ادب میں یدطولیٰ حاصل تھا ہی، عربی ادب کے بھی وہ بہترین شہسوار تھے، انہوں نے اپنے نوک قلم سے دسیوں کتابوں کا گلدستہ سجایا ، جسمیں سب سے مشہور تصنیف ” تذکرہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، ہے۔
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر گہرائی سے د یکھا جائے تو مرحوم کی مجاہدانہ زندگی ، سرگرمی عمل ، اخلاص واحتساب کی دولت بے بہا نے آپ کو خلق خدا کا محبوب بنادیا تھا۔شاید یہ کہنا قطعاً مبنی بر مبالغہ نہ ہوگا کہ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپ نے اس مستعار والی مختصر زندگی میں متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں تاریخ اصلاح وتربیت اور کئی علمی ، دعوتی ، اور اصلاحی شخصیات کے تذکرے شامل ہیں۔بلاشبہ مولانا مرحوم کے انتقا ل سے ندوة العلماءکاجو علمی وادبی خسارہ ہواہے اس کا پر ہونا نا ممکن تو نہیں ، البتہ مشکل ضرور دکھائی دے رہا ہے۔ ، دعاءہے کہ اللہ رب العزت بہترین جانشیںورجال کار ندوہ اور تعمیر حیات کے لئے میسر فرمائے۔آمین تعزیتی نشست میں مصلیان مسجد کے علاوہ مفتی احسان الحق قاسمی نائب مدیر ماہ نامہ احیاءاسلام ، مولانا محمد صابر نعمانی، مولانا محمد سعید قاسمی، ڈاکٹرمولانا محمد اشفاق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی،، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا ظل الرحمان ندوی، حافظ محمد وسیم ، مولانا محمد یحیٰ ندوی،حافظ ذبیح ا للہ ، ماسٹر محمد عمر ، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر فیض احمد ، ماسٹر شمیم احمد ، ماسٹر صادق علی، ماسٹر عصب الدین ، محمد قاسم وغیرہ موجودتھے۔