قانون کاصحیح استعمال ضروری

0

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے قانون اورعدلیہ کے بارے میں بہت ہی اہم بات کہی ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ قانون انصاف کا ذریعہ بھی ہوسکتا ہے اورجبرکابھی، آج بھی قانون کی کتابوں میںایسے قوانین موجود ہیں جنہیں جبر کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ قوانین نوآبادیاتی دور سے رائج ہیں ۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ قانون جبرکا آلہ نہ بنے بلکہ انصاف کا آلہ بنے ۔اس کو یقینی بنانا نہ صرف ججوں بلکہ تمام قانون سازوں کی ذمہ داری ہے ۔چیف جسٹس نے یہ بات ’ہندوستان ٹائمز لیڈر سمٹ ‘ میں کہی ۔انہوں نے کہا کہ انصاف تک ہر کسی کی رسائی ہے ، اس کیلئے کوئی بھی عدالت جاسکتا ہے ،یہی ہماری طاقت ہے ۔اسی طرح جو چیز عدالتی اداروں کوطویل مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے، وہ ہے ہمدردی کا احساس اورشہریوں کی فریاد سننے کی صلاحیت ۔اپنے پیش روکی طرح موجودہ چیف جسٹس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ عدلیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج زیرالتوامقدمات کا انبار ہے۔غورطلب امر ہے کہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے ، جس کا اعتراف عدلیہ بھی کرتی ہے اورسرکاربھی لیکن کوئی مؤثر حل تلاش نہیں کیا جاتا ۔یہی وجہ ہے کہمقدمات کے بوجھ میں وقت کے ساتھ کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے ۔ روزانہ جتنے مقدمات کا تصفیہ نہیں کیا جاتا ،اس سے کہیں زیادہ درج ہوکر عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں ، جس سے صورت حال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے ۔ اس کا خمیازہ سب سے زیادہ عام شہری بھگت رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ مقدمات کابوجھ کم کیسے ہو ؟ جب نچلی عدالتوں،ہائیکورٹوں اورسپریم کورٹ میں ججوں کی اسامیاں وہی پہلے سے منظور شدہ تعداد میں ہیں جبکہ مقدمات میں اضافہ کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اگر منظورشدہ ججوںکی اسامیاں بھی پر ہو ں توبھی غنیمت ہے ۔لیکن وہ بھی خالی رہتی ہیں ۔مثال کے طور پر سپریم کورٹ میں منظور شدہ ججوں کی تعداد 34ہے جبکہ اس وقت صرف 27جج کام کررہے ہیں ۔ اسی طرح ہائیکورٹوں میں ججوں کی کل منظورشدہ 1108سیٹیں ہیں ، ان میں سے 30فیصد یعنی 335سیٹیں خالی ہیں اور773جج کام کررہے ہیں ۔نچلی عدالتوں کا تو اوربھی برا حال ہے ۔ وہاں توایسی خالی سیٹوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اوراصل میں مقدمات کا انباربھی وہیں پر ہے ۔کیونکہ ابتدا میں لوگ نچلی عدالتوں میں جاتے ہیں ۔وہاں سے فیصلہ ہونے کے بعد ہائیکورٹ اورسپریم کو رٹ جاتے ہیں ۔
یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ملک کے شہری سب سے زیادہ بھروسہ کسی پر کرتے ہیں تووہ عدلیہ ہے ۔ جب ہرطرف سے لوگ مایوس ہوجاتے ہیں تو امید کی آخری کرن عدلیہ ہی ہوتی ہے ،لوگ آخر میں اسی کا رخ کرتے ہیں اوریہ امید کرتے ہیں کہ وہاں ان کے ساتھ انصاف ضرور ہوگا، ہوتا بھی ہے ۔اس لئے لوگوں کی نظروں میں عدلیہ کی جو شبیہ بنی ہوئی ہے ،اسے محفوظ وبرقراررکھنا بہت ضروری ہے۔چیف جسٹس نے ایک اور اہم نکتہ بیان کیا ہے ، وہ یہ کہ قانون انصاف کا آلہ یا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اورجبرکا آلہ بھی ۔بس قانون کے استعمال کا فرق ہے ۔اگر صحیح سے استعمال کیاگیاتو کسی شہری کو انصاف مل سکتا ہے اوراگر غلط طریقے سے استعمال کیا گیا تو وہی قانون جبر کا آلہ اورذریعہ بن سکتاہے ۔توجس شہری کے ساتھ جیسا سلوک کیا جاتا ہے ،وہ قانو ن کے بارے میں اسی طرح کی رائے ظاہر کرتاہے ۔جن کا تجربہ اچھاہوتا ہے ، وہ اسے اچھا بتاتے ہیںاور جن کا تجربہ تلخ ہوتا ہے ، وہ اچھی رائے نہیں پیش کرتے ہیں۔اس لئے جیساکہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ قانون انصاف کا ذریعہ بنے ۔اس سے کوئی پریشان نہ ہو یا کسی کوکوئی پریشانی نہ ہو۔اس کا صحیح طریقے سے صرف غلط لوگوںکے خلاف استعمال ہواورصحیح لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بنے ۔
ہرچیز کو عدلیہ کے بھروسہ نہیں چھوڑنا چاہئے ، کچھ لوگوں کی اورکچھ سرکار کی بھی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی معاملہ میں انصاف یقینی بنے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسا مہذب سماج بنے ، جس میں کسی کے ساتھ حق تلفی ، نہ ہو، کسی پر ظلم نہ ہو،کسی کے ساتھ تفریق نہ ہو،کوئی کسی پر حاوی نہ ہو، سب کے ساتھ مساوات ہو،اگر کہیں کوئی گڑبڑی یا خامی ہے تو قانون کے استعمال کے ذریعہ اسے دور کیا جائے اورہرایک کیلئے انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔اسی میں سب کی بھلائی ہے ، امن وامان قائم ہوگا ، لوگ سکون سے زندگی گزارسکیں گے، مسائل کم پیداہوں گے اورملک ترقی کرے گا ۔
[email protected]