پروفیسرمحسن عثمانی: مفکر قوم مولانا آزاد کی ایک تقریر جونشان راہ ہے

0

پروفیسرمحسن عثمانی

ہندوستان کی مسلم تاریخ میں جب ایسی شخصیات کو تلاش کیاجائے گا جنہوں نے بہترین رہنمائی کی تو ان میں ایک اوراہم نام ملے گا اور یہ نام مولانا ابو الکلام آزاد کا ہے جو آزادی سے پہلے سے گونچ رہا تھا، اور آجٰ ان کے نام اور ان کے کام کا تذکرہ ہر طرف ہوتا ہے ، مولانا ابو الکلام آزاد کو عربی، فارسی، اردو، انگریزی اور فرینچ زبانوں کے علاوہ اسلامی علوم و فنون، قرآن و حدیث تاریخ و سیر و سوانح، تصوف و تاریخ عالم میں یدطولی حاصل تھا، تذکرہ،غبار خاطر، ترجمان القران، خطبات آزاد اور India Wins Freedomان کے وہ کارنامے ہیں جو ان کے نام کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے کافی ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد ۱۱؍نومبر۸۸۸۱ء کو مکہ میں پیدا ہوئے، والد کے نام خیر الدین اور والدہ کا نام عالیہ بیگم تھا، انہوںنے بچپن میں نثر نگاری کے ساتھ شاعری بھی کی ہے اور آزاد تخلص رکھا جو بعد میں ان کے نام کا جز بن گیا، مولانا مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی مادری زبان عربی تھی، بعد کی زندگی میں انہوں نے شاعری ترک کردی اور اردو نثر کی طرف پوری توجہ کی یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب حسرت موہانی جیسے بلند مرتبہ غزل گو شاعر کوکہنا پڑا
جب سے دیکھی بولکلام کی نثر
نظم حسرت میں بھی مزا نہ رہا
مولانا ابو الکلام آزا نے شروع میں ’’المصباح‘‘ کے نام سے ایک ہفتہ روزہ جاری کیا تھا پھر کلکتہ سے ماہ نامہ ’’لسان الصدق‘‘ جاری کیا اور آخر میں انہوں نے الہلال اور البلاغ نکال کر اردو صحافت میں دھوم مچادی، آزادی فکر، رعنائی خیال اور سحر انگیز اسلوب سے ہزاروں تعلیم یافتہ مسلمان متاثر ہوئے علامہ شبلی نے ان کو لکھنو بلا یا اور ’’الندوہ‘‘ کا سبب ایڈیٹر بنایا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے نوجوانی کے زمانہ میں حزب اللہ قائم کی اور مختلف علاقوں میں اس کے لئے داعی مقرر کئے جو ان کی امامت کی دعوت دیتے تھے۔بعد میں وہ اس فکر سے دستکش ہوگئے،اس احیاء کلمۃ اللہ کے مقصد کے لئے بعد میں مولانا ابو علی مودودی نے جماعت اسلامی قائم کی ۔ڈاکٹر اسرار احمد نے لکھا ہے کہ جماعت اسلامی کی فکر کے پس پردہ وہی حزب اللہ کی جماعت تھی جسے مولانا آزاد نے قائم کیا تھا ۔
مولانا ابو الکلام آزا متفقہ طور پر ایک متبحر عالم دین تھے، اسی کے ساتھ ان کے مطالعہ کی وسعت، عربی ، فارسی ادبیات پر ان کی گہری نظر ان کو اسلامی شخصیات میں ایک بہت اہم مقام عطا کرتی ہے، علماء کی مجلس میں انہوں نے اکثر ایسے عالمانہ خطبے دیئے جو ان کی اعلی مقامی اور عمق علمی کے شاہد ہیں، قدیم کے ساتھ جدید پر بھی ان کی نظر تھی، انہوںنے ہندوستانی مسلمانوں کی رہبری کی اور فرقہ پرستانہ سیاست کی مخالفت کی اور ہندوستان کو صحیح راستہ دکھایا ۔مولانا اپنے متحدہ قومیت کے نظریہ سے کبھی دست بردار نہیں ہوئے ۔سردار پٹیل جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی نے ہندوستان کی فرقہ وارانہ بنیاد پرتقسیم قبول کرلی لیکن مولانا آزاد آخر تک اپنے موقف پر قائم رہے،اگر ہنوستان کے دبگر لیڈروں نے مولانا آزاد کا موقف قبول کیا ہوتا اورپاکستان نہ بنتا تو یہ مسلمانوں کے حق میں بھی بہت اچھا ہوتا اور پورے ہندوستان کے حق میں بہتر ہوتا یہ افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت مولانا حسین احمد مدنی اور جمیعۃ علماء کا ساتھ دینے کے بجائے محمد علی جناح کی ہمنوا بن چکی تھی ۔ آزادی کے بعد ابھی نصف صدی بھی نہیں گذری تھی کہ پاکستان دولخت ہوگیا اور ہندوستانی مسلمانوں کی مشکلات اور بڑھ گئیںہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں کا آتش فشاں بھڑک اٹھا کشمیر کا مسئلہ ناسور بن گیا یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا آزاد کی جو رہنمائی تھی وہی مسلمانوں کے لئے درست تھی اور وہی پورے ہندوستان کے لئے درست تھی۔
اسوقت صورت حال یہ ہے کہ ہندوئوں کی بعض احیائی تحریکوں نے مسلمانوں کو معاشی سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ مسلمانوں کا وجود بھی انہیں برداشت نہیں‘ مذہب اورتہذیب کو برداشت کرنے کا سوال تو بعد میں آتاہے‘ مسلم مکت بھارت ان کا نعرہ ہے بابری سے دادری تک اور دادری سے دھرم سنسد تک افسوسناک واقعات کا جانگسل سلسلہ ہے، گجرات کے فسادات حکومت کی نگرانی میں کرائے گئے تھے اور آج وہ حکومت مرکز میںبھی حکمراں ہے جس کی تشکیل کا بنیادی عنصر مسلمان دشمنی ہے ۔ اس ملک میں مسلمانوں کے مسائل کا تعلق بڑی حد تک اسی رویہ سے ہے جوانتہا پسند ہندتوا کی احیائی تحریک نے اختیار کر رکھا ہے‘ اور اس تحریک کے علم بردار مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جب ہم ہندووں کی احیائی تحریکوں کانام لیتے ہیں تو اس سے ہماری مراد پوری ہندو قوم نہیں ہوتی ہے‘ ہندو قوم کی اکثریت احیائی ذہنیت نہیں رکھتی اور تمام ہندو مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتے‘لیکن سیکولر طاقتوں کی ناکامی نے اور غلط سیاست نے اب فرثہ پرستی کو عروج عطا کیا ہے یاد رہے کہ بہت سے غیر مسلم ادیبوں نے دادر ی کے مسلم کش حادثہ پر احتجاج کرتے ہوئے ساہتیہ اکیڈمی کا اوارڈ اور پدم شری اوارڈ واپس کردیا ، یہ اہم واقعہ مرغ بادنما کی حیبثیت رکھتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انصاف اور شرافت اس ملک میں زندہ ہے ، فرقہ پرستوں کو ادھر کچھ عرصہ سے فربہی ملی ہے لیکن یہ موٹاپا جسم کا ورم ہیٍ جو صحت مندی کی علامت نہیں، فرقہ پرستی کے غبارہ کی ہوا کچھ عرصہ میںنکل جائے گی اگر سکولر طاقتوں نے اتحاد کا ثبوت دیاافسوس کی بات ہے کہ سیکولر طاقتیں الکشن کے موقعہ پر متحد نہیں ہوپاتی ہیں اور سیکولر ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ، زیادہ تر ہندواور اس ملک کی اقلیتیں اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہندوستان کی سرزمین مختلف نسلوں اورتہذیبوں اور مذہبوں کے قافلہ کی منزل رہی ہے‘ سیکڑوں سال سے ہندوستان کا وجود اس تکثیریت کے سانچہ میں ڈھل چکاہے اور اس سانچہ کو نہ توڑا جاسکتاہے اور نہ بدلا جاسکتاہے‘ صدیوں سے ہندوستان کی تقدیرمیں یہی رنگا رنگی اور یہی بوقلمونی لکھ دی گئی ہے ۔‘ ہندووں کی ایک اقلیت نے، اس حقیقت کو نہیں سمجھا جس طرح سے مسلمانوں کی ایک اقلیت نے اس صورت حال سے خود کو ہم آہنگ نہیں کیا‘ حال کے اس مجمل اور مختصر تجزیہ کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتاہے مذہب اسلام کی روح ان حالات میںکیا رہنمائی کرتی ہے اور اس تہذیبی اور مذہبی بو قلمونی میں ہندوستانی مسلمانوں کو کیا پیغام دیتی ہے‘ میرا خیال یہ ہے کہ مولانا آزاد کی بصیرت نے ان حالات میں اسلام کی روح کو سمجھتے ہوئے اور ہندوستان کے مخصوص مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے بہتر رہنمائی کی ہے اور یہ رہنمائی مولانا آزادکی ایک تقریر میں زیادہ صاف نظر آتی ہے‘ مولانا آزاد کہتے ہیں:
’’میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں ‘ اسلام کی تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثہ میں آئی ہیں‘ میں تیار نہیں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں۔ اسلام کی تعلیم،اسلام کی تاریخ، اسلام کے علوم وفنون ‘ اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں‘ بحیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں ایک خاص ہستی رکھتا ہوں‘ اور میں برداشت نہیں کرسکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے‘ لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں‘ اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی‘ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے‘ میں فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ میں ہندوستانی ہوں‘ میں ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ‘ میں اس کی تکوین کاایک ناگزیر عامل ہوں‘ میں اس دعوی سے کبھی دست بردار نہیں ہوسکتا‘‘۔
(خطبات آزاد مرتبہ شورش کا شمیری)
کیا ہندوستانی مسلمانوں کے لئے یہ صحیح ترین رہنمائی نہیں ہے جو اسلام کی روح سے واقفیت کے ساتھ حالات کے شعور اور تجزیہ پر مبنی ہے‘ کیا آج کے حالات میں ایک محب وطن مسلمان کا بعینہ یہی موقف نہیں ہونا چاہئے جس کا مولانا آزاد نے اپنے خطبہ میں ذکر کیا ہے ؟
اگر مولانا آزاد کی تقریر کا یہ اقتباس اہم ہے تو اس کی اہمیت کا احساس کتنے لوگوں نے کیاہے‘ یہ اقتباس اس قابل ہے کہ خوبصورت طریقہ سے اسے لکھوایا جائے‘ چھپوایا جائے ، تقسیم کیا جائے ، آسمان سے برسایا جائیٍ اور گھروں میں اور ڈرائنگ روم میں دیوراروں پر فریم کرواکے اسے آویزاں کیا جائے تاکہ صحیح راستہ کا تصور ذہن اور دماغ میں واضح رہے اور پورے طور پر راسخ ہوجائے‘ مولانا آزاد نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسلام کے چھوٹے سے چھوٹے جز سے وہ دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ۔ مسلمانوں کے لئے کسی ملک کی طرف ہجرت نہ کرنے اور ہندوستان میں قیام کرنے کے فیصلہ کی یہ نظریاتی اسا س ہے۔ یعنی مسلمانوں نے اس ملک میں رہنے کا فیصلہ اس یقین دہانی پر کیا ہے کہ کوئی ان سے ان کا عقیدہ نہ چھینے گا اور کوئی ان پر اپنی مشرکانہ تہذیب مسلط نہ کرے گامسلمانوں کو مذہب پر عمل کنے کی اور مذہب کی تبلیغ کی اجازت ہوگی۔ ہندوستان کے دستور نے اس کی یقین دہانی کی ہے۔مسلمانوں نے طے کیا ہے کہ وہ جارحیت کاہر طریقہ سے مقابلہ کریں گے اور ہر حال میں دستور کی حفاظت کریں گے وہ اس کے لئے اگر ضرورت پیش آئے گی تو اپنی جان بھی دینے کے لئے تیار ہیں ۔ ہندوستان کی غالب اکثریت بھی یہی چاہتی ہے اوروہ فرقہ واریت اور جارحیت سے نفرت کرتی ہے۔دستور کو بچانے کی جدوجہد میں دیگراقلیتیں بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ شریک ہوں گی اور اکثریتی طبقہ کے لوگ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں گے ۔تمام مسلمانوں کے لئے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ غیر مسلم اکثریت کے ساتھ ان کی زندگی نوشتہ تقدیر بن چکی ہے‘ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ان کو اس ملک میں اسی حال میں رہنا ہے‘ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی طرح وہ اس ملک کی آبادی کا ناقابل انکار حصہ ہیں‘ یہی قدرت کا فیصلہ ہے‘ اور اسلامی علوم کے ایک معمولی طالب علم کی حیثیت سے میں یقین کے ساتھ کہتاہوں کہ قدرت کا یہ فیصلہ عظیم امکانات کا حامل ہے‘ بشرطیکہ مسلمان اپنے اندر وہ صفت پیدا کرلیں ان کامذہب جس سے متصف ہونے کی انہیں دعوت دیتا ہے‘ مسلمانوں کو حیرانی اور برگشتگی کے عالم سے بلاتاخیر باہر آجانا چاہئے ‘ اور ایک محب وطن مسلمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے‘ مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ اور جارحانہ رویہ معلوم‘ بلکہ واقعات سے ثابت، اور روز روشن کی طرح عیاں ،لیکن مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ مسلمان اپنے مسلمان ہونے کی ذمہ داریوں کو اس ملک میں ادا نہیں کر رہے ہیں اور انہوںنے پہلے بھی اس ذمہ دای سے اعراض کیا ہے اور غفلت برتی ہے غور کیجئے ‘ کیا مسلمانوں نے رکاوٹوں کے باوجود تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے؟کیا مسلمانوں نے متحدہ قومیت کے مفہوم میں ایک لازمی عنصر کی حیثیت سے متحدہ لسانیت کے مفہوم کوداخل کیا ہے اگر ہر پیغمبر لسان قوم میں گفتگوکرتا تھا اورتوحید کی دعوت دیتا تھا تو کیوں ایسا ہوا کہ ایسے علماء سامنے نہیں آئے جو لسان قوم میں قوم کو دین کی دعوت دیں، آخر لسان قوم کے ماہر علماء پیدا کرنے کئے مدارس وجود میں کیوںنہیں آئے اگر علماء لسان قوم میں گفتگو کرنے سے قاصر ہیں توکیا مسلمانوں نے تمام دینی مدارس کے نصاب میں انقلابی تبدیلی کی تیاری کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے علماء سامنے آئیںجو لسان قوم میں قوم کو اور برادران وطن کو خطاب کرسکیں ۔ کیا مسلمانوں نے اس ملک کے دوسرے مظلوم اور محروم طبقہ کے ساتھ خیر خواہی خیرسگالی اور خدمت ، اور توحید اور مساوات کے عقیدہ کے تعارف کے لئے روابط قائم کئے ہیں کیا مسلمانوں نے مساوات کا عملی نمونہ ان کے سامنے پیش کیا ہے ، کیا مسلمانوںکے اعمال وکردار میں وہ خوبصورتی پیدا ہوگئی ہے اسلام نے جس کا مطالبہ کیاہے ؟کیاہمارے اندر وہ اخلاقی خصوصیات موجود ہیں جن کا تجربہ کرکے برادران وطن یہ محسوس کریں کہ مسلمان ایک شریف انسان اوربہتر پڑوسی اور اچھا شہری ہوتاہے‘ اس کا پڑوسی ہونامحلہ کے لوگوں کے لئے اطمینان کی بات ہوتی ہے‘ اس کو اپنے کارخانہ میں اور اپنی کمپنی میں ملازم رکھنا کا رخانہ اورکمپنی کی ترقی کی ضمانت ہوتی ہے‘ کیونکہ وہ دوسروں سے زیادہ فہیم‘ مخلص ‘ محنتی‘ کارگذار اور امانت دار ہوتاہے‘ کیا ہم مسلمانوں نے خدمت ایثار اور قربانی اوراخلاقی بلندی کا کوئی نقش قائم کیاہے؟ ‘ ہم مسلمانوں کا حال بحیثیت مجموعی اقبال کے اس شعر کے مرادف ہے:
جس کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
کاش کہ ایسا ہوتاکہ برادران وطن کے سامنے مسلمانوں کی بہت اچھی تصویر ہوتی‘ وہ سمجھتے کہ مسلمان بے ایمانی اور کام چوری نہیں کرسکتاہے‘ انصاف اور سچائی کا راستہ اسے پسند ہے‘ انسانی اخلاقی اور ورحانی اقدار کے اعتبار سے وہ دوسروں سے بلند ارو زیادہ ممتازہے‘ وہ مسجد میں عبادت بھی کرتاہے اور ایمان داری کے ساتھ کام کرنے کو بھی عبادت کا درجہ دیتاہے‘ وہ کمزوروں کا مددگار اور غریبوں کا غم خوار ہوتاہے۔خدمت خلق اس کی پہچھان ہے، وہ شریف بااخلاق اور تعلیم یافتہ ہوتا ہے ۔وہ مذہبی تنگ نظری سے دور ہوتا ہے اور تمام انسانوں کو خدا کا کنبہ سمجھتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اسے اپنی مذہبی شناخت پر اصرار بھی ہے، اوراس سے بھی زیادہ یہ کہ وہ اپنے مذہب کو اپنے ہم وطنوں کے لئے سوغات نجات سمجھتا ہے ۔ اور حکومت میں ان لوگوں کو بر سراقتدار لانے کی کوشش کرتا ہے جو منصف مزاج ہوں اور مذہبی تنگ نظری سے دور ہوں اور ہندوستان کے دستور کی روح سے متفق ہوں۔مسلمانوں کو اس ملک میں اپنی یہ تصویر بنانی ہوگی اور مولانا آزاد کے مبنی بر اعتدال اور مبنی بر روح اسلام پیام کو ہر گھر ،ہر دیوار ود ر تک پھیلانا ہوگا ۔آئے ہم عہد کریں کہ ہمیں اس کام کو کرنا ہے کیونکہ ہمیں ہندوستان میں رہنا ہے۔
مولانا آزاد کا جو اقتباس اوپر نقل کیا گیاہے وہ مسلمانوں کے لئے اس ملک میں صحیح ترین راستہ ہے جو اسلام کے گہرے مطالعہ پر مبنی ہے‘ اوراسی کے ساتھ گرد وپیش کے حالات کے گہرے تجزیہ پر اس کی اساس ہے‘ مولانا آزاد کے اس پیغام کو ملک اور ملت میںعام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان کا دستور بہت اچھا دستور ہے ۔ اسی دستور کی روح ہے جس کی بدولت بہت دیر سے سہی آزاد ہندوستان میں مولانا آزاد کے نام سے اردو کی ایک یونیورسیٹی قائم ہوسکی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اس ملک میں دیر سویر باہمی رواداری کی فضا عام ہوگی‘ تلخیوں اور کدورتوں کا خاتمہ ہوگا ، بشرطیکہ سیکولر طاقتیں متحد ہوجائیں اور ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوں مسلمانوں اور برادران وطن کے درمیان اٖچھے تعلقات قائم ہوں مولانا آزاد اور جواہر لال نہروکے طرز فکر کو ملک کی سیاست میں بلند مقام عطا کرنے کی ضرورت ہے ہندوستان میں رہنا ہے اورملک کی ترقی کے ساتھ دینی کام بھی انجام دینا ہے تو اس کے سوا دوسرا راستہ نہیں ، آزاد اور نہرو دو علامتی نام ہیں جو سیکولرزم کے تانے بانے کی حیثیت رکھتے ہیں ، یہ تار حریر دورنگ ہیں جس سے خوبصورت قبائے وطن تیار ہوتی ہے اور اس خوبی اور خوبصورتی کے بغیر ہندوستان کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہی نہیںہے اور نہ امن وآشتی کا ماحول بن سکتا ہے اور مسلمان اس کے بغیر اپنے دینی لفرائض بھی انجام نہیں دے سکتے ہیں‘ فیض احمد فیض کی طرح ہمیں بھی انتظار ہے
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مدارتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے