حضور ؐ کی آمد انسانیت کیلئے سراپا رحمت

0

خواجہ مقصود احسن ، فرخ آباد

در نایاب ، گوہر یکتا،شافع المذنبین، رحمت ِ عالم، محسن انسانیت ،آقائے دوجہاںکی ذات گرامی کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس پر مفسرین نے اپنی تفسیروں میں ،محدثین نے اپنے دروس میں ، مصنفین نے اپنی تصانیف میں، مقررین نے اپنی تقریروںمیں ، شاعروں نے اپنے اشعار میں ہنر آزمائی نہ کی ہو۔اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک چلتا رہے گا۔ یہ طبع آزمائی اسلئے نہیں کی گئی کہ آپ ؐ کی شان گرامی میں کچھ بڑھوتری ہوگی، بلکہ صرف اسلئے کہ جب آمنہ کے لعل، عبداللہ کے لخت جگر، عبدالمطلب کے نور نظر کے نام لیواؤں میں اس کا بھی نام جڑ جائے جیساکہ شاعر رسول حضرت حسان ابن ثابت ؓ نے کہا
ماان مدحت محمدا بمقالتی
و لٰکن مدحت مقالتی بمحمد
کہ میں نے اپنے اشعار سے حضور اقدس ؐکی تعریف نہیں کی ، بلکہ آپؐ کے ذکر سے میرے اشعار کی تعریف ہوگئی ہے ، اور آپ کی حیات طیبہ سے موتی چننے والے غوطہ خوروں نے آپ کی مدحت میں ہزاروں صفحات لکھنے کے بعد وہ بس یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ۔
بقول شیخ سعدی ؒ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
اور کسی سیرت نگار نے آج تک یہ دعوی نہیں کیا کہ اس نے آپ ؐ کی سیرت نگاری کا حق ادا کردیا ، کیونکہ آپ ؐ کی ذاتی گرامی کے جس پہلو کو جتنا مفصل ذکر کردیا جائے وہ اتنا ہی تشنہ لگنے لگتا ہے ۔
ولادت با سعادت سے لے کر نبوت ملنے تک آپ ؐ نے کبھی کوئی کام قانون الٰہی کے خلاف نہیں کیا اور آپ ؐ کے کردار کی بنا پر اہل مکہ آپ کو نام لے کر نہیں پکارتے تھے بلکہ صادق و امین کہہ مخاطب ہوتے تھے، اس عرصہ میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے جن میں سے ایک اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر مبارک تقریباً 35؍ برس تھی جب کعبۃ اللہ کی دیواروں کے بوسیدہ ہوجانے کی وجہ سے قریش نے کعبہ کی از سر نو تعمیر کی جس میں تمام قبیلوں نے شرکت کی ، لیکن جب حجر اسود کو کعبہ کی دیوار میں نصب کرنے کا وقت آیا تو ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ یہ شرف اسے حاصل ہو ، اور یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ تلواریں تک نکل آئیں ، اور پھر مشورہ سے یہ طے پایا کہ اگلے روز حرم میں داخل ہونے والا شخص یہ فیصلہ کرے گا کہ حجر اسود کو نصب کرنے کا شرف کسے حاصل ہوگا چنانچہ اگلے روز حرم میں داخل ہونیوالا شخص کوئی اور نہیں بلکہ جناب محمد ؐ تھے جن کو دیکھ کر تمام لوگ پکار اٹھے ـ’’ھٰذا الامین رضیناہ‘‘ کہ یہ تو امین ہیں ہم سب ان کے فیصلہ پر راضی ہیں ، چنانچہ آپ ؐ نے ایک چادر میں حجر اسود کو رکھا اور ہرقبیلہ کے سردار کو کہا کہ چادر اٹھائیں اور پتھر کو تمام سردار اس مقام تک لے گئے جہاں حجر اسود کو نصب کرنا تھا ، پھر آپ ؐ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو کعبہ کی دیوار میں نصب فرمادیا ، اور یہ معاملہ جو سالہا سال کی جنگ میں تبدیل ہوسکتا تھا آپ کی تدبیر سے یہ امن و سلامتی کے ساتھ ختم ہوگیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہر مومن کے لئے ایک نمونہ ہے جس کی پیروی کرنا ہر مومن پر فرض ہے ، حضرت مولانا رابع حسنی ندوی نے مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کی کتاب ’’سیرت رسول اکرمؐ ‘‘ کے مقدمہ میں تحریر کیا ہے کہ حضور اکرم ؐ کے اسوہ کو سمجھنے اور پیروی کرنے کے لئے دو شرطیں ہیں ، پہلی شرط یہ کہ آپ ؐ سے اس قدر وفادارانہ اور محبانہ تعلق ہو کہ آپ ؐ پر اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہو ،جیساکہ صحابہ کرام ؓ کو تھا کہ اسلام کی وفاداری میں قتل کئے جا رہے ہیں ۔ طرح طرح سے ستائے جا رہے ہیں ، اور ان سے پوچھنے والا پوچھتا ہے کہ : بتاؤ کیا تم اس بات کو قبول کروگے کہ تمھاری جگہ اس وقت تمھارے نبی ؐ محمد ہوتے اور تم بچ جاتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ میں تو اس کے لئے بھی تیار نہیں کہ آپ کے قدم مبارک میں کانٹا چبھے اور اس کے عوض میں بچ جاؤں، ایک جنگ سے واپس آنے والے لوگوں سے ایک خاتون دریافت کرتی ہیں کہ : ہمارے حضور خیریت سے ہیں ؟ جواب دینے والا کہتا ہے کہ مگر تمھارے والد شہید ہوگئے ، وہ پھر پوچھتی ہیں کہ ہمارے حضور خیریت سے ہیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ : تمہارے شوہر بھی کام آگئے، وہ پوچھتی ہیں کہ : یہ بتاؤ کہ : حضور ؐؐ خیریت سے ہیں ؟
وہ کہتے ہیں کہ ہاں حضور ؐ خیریت سے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ’’ حضورؐرہیں تو ہر مصیبت کمتر ہے‘‘ اگر مومن کے اند رایسی محبت نہ ہو تو حضور ؐ کی سچی اور مخلصانہ پیروی ، تابعداری اوروفاداری نہیں ہوسکتی۔ اور دوسری شرط یہ کہ آپ ؐ کی سیرت طیبہ ، آپ کے اوصاف و اخلاق ، بندگان خدا سے آ پ کی ہمدردی، آپ کا حسن معاملہ ، اپنے سے برا چاہنے والوں کے ساتھ آپ کا حسن سلوک، رضائے الٰہی کی آپ کی طلب، آخرت کی فکر، ہر ایک کے لئے خیر طلبی ، دنیا و دین میں کامیابی کی فکر، ان کے صلاح و فلاح کا خیال کو اپنی زندگی میں اتارنے کا جذبہ اور داعیہ ہو ۔جب یہ دوشرطیں ہونگی تو یقینا آپؐ کی زندگی سے ہمیں بیشمار فوائد حاصل ہونگے۔