حضور اکرم ؐ پہ لاکھوں سلام

0

حافظؔ کرناٹکی

کسی بھی ملک، سماج، قوم، ملّت اور معاشرہ کی پاکیزگی، سلامتی بھائی چارا، صلہ رحمی اور امن و آشتی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے سبھی افراد و اشخاص کے باہمی تعلّقات، آپسی رشتے، ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ اور سلوک کس نوعیت کے ہیں، بھائی چارے اور امن و امان اور مساوات کے لئے ان کی کوششیں کس قدر مخلصانہ اور ایثار پر مبنی ہیں اور ہر طرح کی رنگا رنگی، تنوع، اور اختلافات کے باوجود ان کی معاشرتی زندگی میں کس قدر اشتراک اور یکجہتی پائی جاتی ہے، یہ وہ سوالات ہیں جن کو سمجھے بغیر اور جن کو حل کئے بغیر کوئی بھی سماج اور معاشرہ خوشگوار نہیں بن پائے گا۔
یہ بات تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ نفرت و عداوت انتشار و افتراق اور تنازع و اختلاف اور دنگا وفساد اور آپسی منافرت ترقی اور استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگر کسی سماج اور معاشرے اور ملک و ملّت میں امن و سکون مفقود ہوجائے تو پھر ذہنی طور پر انسان الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس طرح نہ وہ خود کے لئے کوئی عمدہ لائحہ عمل مرتب کرپاتا ہے اور نہ دوسروں کو فیضیاب کرنے کے بارے میں سوچ پاتا ہے لہٰذا ترقی کے راستے مسدود نظر آنے لگتے ہیں۔ آپس کے رابطے ٹوٹنے لگتے ہیں اور پھر مستقبل کا روشن سورج نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔
حضورؐ کی زندگی پر نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ جب مکہ کی زندگی مشکل سے مشکل ترین ہوگئی، مذہبی منافرت اور تنگ نظری و عصبیت اپنی انتہا کو پہونچ گئی، صورت حال یہ ہوگئی کہ مکہ کے لوگوں نے شمع رسالت کو ہی بجھا نے کی ٹھان لی تو اللہ کی طرف سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم آگیا۔ لہٰذا آپؐ نے بغیر کسی قسم کے بدلے کی خواہش کے اور کسی سے بھی انتقام لینے کی آرزو کے اپنے رفیق حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مدینہ کا سفر اختیار کیا۔ جہاں مسلمانوں نے آپؐ کا دل سے پر جوش استقبال کیا اور آپؐ کی آمد کو اپنی کامیابی کی ضمانت جانا۔ آپؐ نے مدینہ سے باہر قبا میں قیام فرمایا اور خدائے واحد کی عبادت کے لیے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ جو اس بات کا اشارہ تھی کہ انشاء اللہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔ آپؐ نے تین دنوں تک قبا میں قیام فرمایا اس کے بعد آپؐ مدینہ منورہ تشریف لائے اور پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر میں چھ ماہ تک قیام فرمایا۔ یہاں پر ذرا دیر رک کر غور کریں گے تو ایک بات سمجھ میں آئیگی کہ مکہ کے حالات بھلے سے مسلمانوں کے لئے کتنے ہی برے اور صبر آزما رہے ہوں اور مذہبی منافرت کی آگ کتنی ہی تیز کیوں نہ بھڑک رہی ہو اس کے باوجود اگر حضورؐ چاہتے تو انتقامی کارروائی کرسکتے تھے۔ کیوں کہ قریش خاندان کے لوگ بھلے سے اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئے تھے مگر وہ بہرحال آپؐ کے ساتھ تھے،اگر ایسا نہیں ہوتا تو شعب ابی طالب میں آپؐ کے ساتھ مصیبتیں جھیلنے پر آمادہ نہیں ہوتے لیکن آپ نے نہایت خاموشی سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
حضورؐ جب مدینہ تشریف لا ئے تو آپؐ نے کئی بنیادی کاموں کی طرف توجہ مبذول کی۔ آپؐ نے مکہ سے آنیوالے مسلمانوں کے لئے رہنے سہنے کے لئے گھر اور روزگار و معاش کے لئے انصار سے ان کا مواخات یعنی بھائی بھائی کا رشتہ قائم کیا۔ دنیا کی تاریخ میں آج تک اس ایثار اور قربانی کی مثال نہیں ملتی جو انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے پیش کی۔ اللہ اکبر اس نبی ؐاس پیمبر ؐپہ لاکھوں سلام۔
رسول اکرمؐ نے جب مکہ میں لوگوں کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا اور ایک خدا کی عبادت کا پیغام سنایا تو اس وقت سیکڑوں بت لوگوں کے گھروں اور معبدوں میں موجود تھے۔ لیکن آپ نے مذہبی منافرت اور براہ راست حملے سے سراسر گریز کیا اور اعتدال اور تدبر سے کام لیتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی میں لگے رہے۔ اور خاص طور سے مسلمانوں کو قرآن کے اس حکم پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی تلقین کی کہ جس میں دوسرے مذاہب کے معبودوں کو براکہنے سے منع کیا گیا تھا۔
اسلام کی فراست اور حکمت و دانائی پر جس قدر غور کیجئے گا حضورؐ پر سلام بھیجنے کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ ہجرت کے بعد مسلمان مکہ سے مدینہ آگئے، بہ ظاہر ایک بڑی مصیبت سے جان چھوٹ گئی مگر سچ یہ ہے کہ مدنی زندگی میں مسلمانوں کے لئے منافقین کی شکل میں ایک بہت بڑی مصیبت موجود تھی۔ مکہ میں دشمن کھلے اور صاف نظر آرہے تھے۔ مگر یہاں صورت حال بالکل الگ تھی۔ یہ چھپے ہوئے دشمن کھلے دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک تھے۔ جنہوں نے مسلمانوں کی طاقت اور اتحاد کو کمزور کرنے کے لئے خفیہ طور پر ہر حربہ استعمال کیا۔ اور طرح طرح کی سازشیں اور شرارتیں کیں۔ وہ مسلمان بن کر سارے فائدے تو حاصل کرنا چاہتے تھے اور کرتے بھی تھے، مگر جب ان کی ضرورت کسی کام میں آپڑتی تھی تو وہ پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جو غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں سے الگ ہوگئے یہ تعداد میں تین سو تھے جنہوں نے جہاد کرنے سے صاف منع کردیا۔ چوں کہ مکہ کے کفار بدر کا بدلہ لینے کے لئے بہت بڑی تعداد میں مدینہ پر چڑھ دوڑے تھے اور بہت زبردست تیاری کے ساتھ آئے تھے تو ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت افراد کی بہت سخت ضرورت تھی مگر منافقین نے ایسے نازک موڑ پر مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کے انہیں مصائب کے روبہ رو کردیا۔ اللہ کے رسولؐ کو منافقین کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا علم تھا۔ ان کے عقیدوں اور ان کے ایمان کے بارے میں بھی آپؐ خوب جانتے تھے لیکن اس کے باوجود آپؐ نے ان کے خلاف جہاد نہیں کیا اور نہ کوئی سخت قدم اٹھایا اور نہ نامور اور بدنام زمانہ منافقین کے نام ظاہر کئے، کیوں کہ آپؐ ہرحال میں مدینہ میں امن و امان قائم رکھنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ صرف زبانی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ لیکن دل سے کافر کے کافر ہی تھے ان کی سازشوں کا علم صرف چند لوگوں کو تھا اگر ان کے خلاف قتال کیا جاتا تو ایک تو یہ ہوتا کہ گھر میں ہی فساد پھیل جاتا۔ اور وہ لوگ جو دل ہی دل میں مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے ان کی نفرتیں کھل کر سامنے آجاتیں اور ماحول یکسر تبدیل ہوجاتا۔ نہیں کچھ تو یہ تو ضرور ہوتا کہ لوگوں میں یہ بات پھیل جاتی کہ ذراسی طاقت اور سکون ملتے ہی محمدؐ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتال شروع کردیا۔ حالاں کہ ان سب کے مومن نہ ہونے کا قرآن نے اعلان کردیا تھا۔ان کی سازشیں ، ان کی شرانگیزیاں اور ان کی ریشہ دوانیاں سب آپؐ پر واضح تھیں لیکن آپ ؐنے ان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی حکمت و دانائی کے منبع ایسے رسول ؐاور پیمبر ؐپہ لاکھوں سلام۔
ہم جانتے ہیں کہ حضورؐ کی مکی زندگی کس قدر مصائب سے بھری ہوئی تھی، ظالموں نے حضورؐ پر اور اللہ کے نیک بندوں پر کتنے ظلم ڈھائے اور حضورؐ کے خاندان والوں کو بھی نشانہ بنایا اور حضورؐ کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان سبھی طرح کے مظالم کا ایک ہی مقصد تھا کہ محمدؐ اپنے دین کی تبلیغ سے باز آجائیں، جو لوگ کفر چھوڑ کر مسلمان بن چکے ہیں وہ پھر سے کافر ہوجائیں لیکن جس کے دل میں ایک بار خدا کی اور اس کے رسولؐ کی محبت بس جائے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کسی جھوٹے خدا کو مان لے، اس لئے جب مشرکین مکہ کولگا کہ ان کے ظلم و جبر کا مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے تو انہوں نے بنو ہاشم کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا اور اعلان کردیا کہ اس خاندان کے ساتھ مکہ کا کوئی بھی فرد کسی بھی طرح کا رشتہ و تعلق نہ رکھے گا۔ نہ لین دین کرے گا نہ خریدوفروخت کرے گا۔ ابوطالب اپنے خاندان والوں کے ساتھ شعب ابی طالب میں پناہ گزیں ہو گئے۔ یہ حضورؐ کی سیرت اور سچائی کی بہت روشن دلیل ہے کہ اس مقاطعہ میں بنو ہاشم کے سبھی افراد شامل تھے۔ کافر، مومن اور مشرک سب ایک ساتھ تھے۔ یہ تین سال کس قدر مصائب اور دکھوں سے بھرے تھے اس کے تذکرے سے ہی دل چھلنی ہوجاتا ہے، آخر کار تین سال کے بعد اللہ کے غیبی مدد سے یہ مقاطعہ ختم ہوجاتاہے۔ پھر آپ ؐدین کی تبلیغ کے لئے طائف تشریف لے جاتے ہیں وہاں آپؐ پر اور بھی بڑے مصائب کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ اور آپؐ نہایت صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ لیکن جب آپؐ مکہ کے فاتح بن کر واپس مکہ تشریف لاتے ہیں تو آپؐ سراپا عفو و درگزر بن جاتے ہیں۔ رحمت للعالمینؐ کی زندہ جاوید تصویر بن جاتے ہیں۔ آپؐ انتقام اور مذہبی منافرت کے بجائے خلق عظیم کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کرتے ہیں اور اعلان فرمادیتے ہیں کہ آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم آزاد ہو۔ اللہ اکبر ایسے رسول ؐاور پیمبر ؐپہ لاکھوں سلام۔ کیا عفو و درگزر کی اس سے بھی بہتر کوئی مثال ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ جو آپ ؐ کو قتل کردینے پر تلے ہوئے تھے، جنہوں نے مدینہ تک آپ کا پیچھا کیا۔ جنہوں نے ہر حال میں یہ کوشش کی کہ آپؐ کو مدینہ میں بھی نہ رہنے دیا جائے۔ جن لوگوں نے آپ ؐپر جنگیں مسلط کیں۔ جن لوگوں نے آپؐ کے اپنوں کو قتل کیا۔ ان کا کلیجہ چبایا، آپؐ نے ان سب کی جان بخشی کا اعلان فرمادیا۔ جن لوگوں نے آپؐ کو آپؐ کے گھر سے نکال دیا، آپ ؐنے فرمایا کہ جو بھی اپنے گھروں میں ہے سب مامون ہے۔ محفوظ ہے ، کسی کی زبان سے نکل گیا کہ آج بدلہ کا دن ہے، تو آپؐ نے اسے روک دیا اور اعلان فرمایا کہ آج بخشش کا دن ہے۔ آج کسی سے کوئی انتقام نہیں لیاجائے گا۔ یہ اخلاق و کردار کا کونسا معجزہ تھا کہ پتھردل اہل مکہ موم کی طرح پگھل کر شمع رسالت پر قربان ہونے کے لیے بے تاب ہوگئے۔ آپؐ نے اپنے اخلاق و کردار سے ان پر ایسا مؤثر وار کیا کہ وہ اپنے آپ اسلام کے دامن میں پناہ لینے کے لیے بے تاب ہوگئے۔ ایسے رسولؐ اور پیمبرؐ پر کون ہے جو دل سے لاکھوں سلام اور درود نہیں بھیجے گا۔ اللہ ہم سبھی لوگوں کو رسول پاک صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS