سوڈان: اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

0
Image: USA Today

شاہنواز احمد صدیقی
سوڈان میں فوج اور جمہوریت پسند سیاستدانوں کے درمیان اختلافات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ حکمراں سوڈان Sudanese Sovereign Council(ایس ایس سی) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتح البرہان نے ابھی حالیہ تقریر میں جو حکمت عملی ظاہر کی ہے وہ فوج کی منشا اور نیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تقریر سے بالکل ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ اقتدار سے اپنی گرفت ڈھیلی کرنے پر راضی ہیں۔
سوڈان میں جتنے فریق آئین سازی اور جمہوری عمل شروع کرنے والی جتنی تنظیموں اورپارٹیوں کے افراد مشاورتی اجلاسوں میں دکھائی دیتے ہیں ان میں اصل امور پر اتفاق رائے نہیں دکھائی دیتا ہے۔ سول سوسائٹی اور سیاسی پارٹیوں میں آپس میں اختلاف رائے ہے۔ سول سوسائٹی اور سیاسی پارٹیوں کا فوجی انتظامیہ سے شدید اختلاف ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں ہر طرز ، ہر مکتب فکر کے رضاکار ،سیاست دان شامل ہیں۔
بین الاقوامی ادارے بھی سوڈان کے داخلی خلفشار کو ختم کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ان میں اقوام متحدہ، افریقی یونین (اے ایف) اور انتظامیہ اتھارٹی ان ڈیولپمنٹ Intergovernmental Authority on Development (آئی جی اے ڈی) شامل ہیں۔ سوڈان کے فوجی حکمرانوں نے اس سہ رخی مذاکراتی عمل سے نکلنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح فوج نے گیند شہریوں یا سیاستدانوں کے پالے میں پھینک دی ہے کہ وہ اس میں تبادلہ خیال کریں اورکسی فریم ورک پر متفق ہوجائیں۔ خیال رہے کہ سول لیڈرشپ میں میں کئی شیڈز ہونے اور سخت اختلافات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں یا کسی عبوری نظام Transitional Government پر راضی ہوجائیں۔
فوج نے اپنے آپ کو مشاورتی سرگرمیوں اورکسی متبادل عبوری نظام حکومت سے علیحدہ رکھنے کے علاوہ فوج کی اعلیٰ ترین کمانڈ قیادت کو مضبوط بنالیا ہے اور سوڈان آرمڈ فورسیز Sudan Armed Forces اور ریپڈ سپورٹ فورسیز (Rapid Support Forces) کو ایک اعلیٰ کونسل کے تحت رکھ دیا ہے۔ یہ کونسل اندرون ملک اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے ذمہ دار ہوگی۔
فوجی حکمرانوں کی منشا صاف دکھائی دیتی ہے۔ اولاً وہ منتشر سول انتظامیہ کے مقابلے متحد دکھائی دیںگے۔ فوج کے کام کاج میں مرکزیت پیدا ہوگی مگر سول سوسائٹی کے منتشر ہونے کا قوی امکان ہے۔ خیال رہے کہ فوج نے جمہوریت پسندوں اور سول سوسائٹی کے درمیان اختلافات کو بہانہ بناکر عبوری حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرکے پورے انتظامیہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ ایک بارپھر سوڈان میں فوج کی سپریم کمانڈ سپریم اتھارٹی کام کرے گی اور مستقبل میں ایک جمہوری جوابدہ حکومت کا قیام مشکل ہوجائے گا۔ سوڈان کی فوج پر غیرملکی دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ اقتدار کو جمہوری سرکار کومنتقل کرے۔ مگرفوج کے مطالبات بڑھتے جارہے ہیں۔ مثلاً فوج سرکاری تقاریب، خارجہ پالیسی اورجوڈیشیل تقرریوں اوریہاں تک کہ مرکزی بینک پر بھی اقتدار چاہتی ہے۔ فوج کے مطالبات سے نہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو دفاعی امور تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ خارجی اور بین الاقوامی امور اور معیشت کے ساتھ ساتھ جوڈیشیری پر کنٹرول رکھنے کے وسیع تر مقاصد کے تحت کام کر رہی ہے۔ ملک کے سرمایہ اور معیشت پر کنٹرول رکھنے کی منشا فوج کے عزائم کوبہتر طریقہ سے واضح کرتی ہے۔