
نئی دہلی، ۸ اکتوبر: مرکزی کابینہ نے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو بڑھنے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے ایس ایم ای گروتھ فنڈ کے لیے ۱۰ ہزار کروڑ روپے کی سرکاری وابستگی کو منظوری دی ہے۔ فیصلہ ۶ اکتوبر کو ہوا اور اس کی تفصیل اس ہفتے حکومت اور اخبارات نے جاری کی۔ فنڈ کا مقصد ایسے کاروبار کو لمبے وقت کا سرمایہ دینا ہے جو اپنی پیداوار، ٹیکنالوجی اور بازار کا دائرہ بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ہر چھوٹی دکان کے لیے فوری نقد امداد یا سب کے لیے قرض معافی کا اعلان نہیں ہے۔
وزیر اعظم دفتر کے بیان کے مطابق حکومت رقم ایک متبادل سرمایہ کاری فنڈ کے ڈھانچے میں فراہم کرے گی۔ اس کے ذریعے کاروبار میں براہ راست ایکویٹی سرمایہ لگانے کا ارادہ ہے۔ سادہ لفظوں میں ایکویٹی کا تعلق کاروبار میں ملکیت یا حصے کے بدلے سرمایہ سے ہوتا ہے، جبکہ قرض کی صورت میں رقم واپس کرنے کی الگ ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے نئی اسکیم کو عام بینک قرض کے ساتھ پوری طرح یکساں نہیں سمجھا جا سکتا۔ کسی کاروبار کی اصل شرائط متعلقہ فنڈ کے طریقہ کار اور معاہدے سے طے ہوں گی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ حصہ چھوٹے اور درمیانے پیداواری کاروبار کی طرف رکھا جائے گا۔ خدمات، ٹیکنالوجی، نئی اختراعات اور اہم سپلائی چین سے جڑے ادارے بھی اس وسیع مقصد میں شامل ہیں۔ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے صنعتی کلسٹر پر بھی غور ہوگا۔ اس پہلو کی اہمیت یہ ہے کہ سرمایہ صرف بڑے شہروں کے کاروبار تک محدود نہ رہے۔ تاہم کسی خاص شہر، صنعت یا مالک کے انتخاب کی خبر ابھی نہیں دی گئی، اس لیے اس اعلان سے مقامی فائدے کی یقینی تعداد نہیں نکالی جا سکتی۔
پریس انفارمیشن بیورو کے پس منظر کے مطابق اپریل ۲۰۲۵ سے نافذ معیار میں چھوٹے کاروبار کے لیے مشینری یا آلات میں سرمایہ کاری کی حد ۲۵ کروڑ اور سالانہ کاروبار کی حد ۱۰۰ کروڑ روپے ہے۔ درمیانے کاروبار کے لیے متعلقہ حدیں ۱۲۵ کروڑ اور ۵۰۰ کروڑ روپے ہیں۔ یہ درجہ بندی کی حدود ہیں، ہر درخواست گزار کو ملنے والی رقم نہیں۔ انتہائی چھوٹے ادارے کی الگ درجہ بندی بھی موجود ہے۔ کسی کاروبار کو اپنی اہلیت سمجھنے کے لیے صحیح زمرے اور عملی ہدایات کا فرق دیکھنا ہوگا۔
پی آئی بی نے فنڈ کا مقصد قابل عمل اور بڑھنے کی صلاحیت رکھنے والے اداروں کو ایسا سرمایہ دینا بتایا ہے جس سے وہ مشین، پیداواری صلاحیت اور نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگا سکیں۔ اس میں چھوٹے شہروں کی صنعتی سرگرمی اور مقامی سپلائی چین کی مضبوطی بھی ہدف ہے۔ حکومت ان اقدامات سے روزگار اور برآمد میں مدد کی امید رکھتی ہے۔ یہ مقاصد ہیں، حاصل ہو چکے نتائج نہیں۔ نئے روزگار کی حقیقی تعداد، سرمایہ کی تقسیم اور کاروبار کی کارکردگی عمل درآمد کے بعد ہی زیادہ واضح ہوگی۔
اکنامک ٹائمز نے کابینہ فیصلے پر اپنی رپورٹ میں مرکزی وزیر اشونی ویشنو کے بیان کا ذکر کیا ہے کہ یہ فنڈ بھارت کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع استعمال کرنے میں کاروبار کی مدد کرے گا۔ چھوٹے ادارے کے لیے بیرونی بازار میں جانا صرف پیسہ حاصل کرنے کا معاملہ نہیں ہوتا؛ معیار، سامان کی مسلسل فراہمی اور انتظامی صلاحیت بھی اہم ہوتی ہے۔ اس لیے لمبے وقت کا سرمایہ اور پیشہ ورانہ مدد ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ البتہ ابھی ہر کاروبار کی کامیابی یا برآمد بڑھنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
پس منظر میں اس فیصلے کا عوامی امتحان شفاف انتخاب اور عملی رسائی ہوگا۔ سرمایہ ایسے کاروبار تک پہنچنا چاہیے جو قابل عمل ہوں، جبکہ چھوٹے شہروں کے اداروں کو معلومات اور درخواست کے عمل تک مناسب رسائی ملے۔ اقلیتی یا دوسرے کم وسائل والے کاروباری خاندانوں کے لیے بھی واضح شرائط اہم ہیں؛ دستیاب اعلان میں مسلم کاروبار کے لیے الگ کوٹا یا مخصوص امداد نہیں بتائی گئی۔ اسے اس طرح پیش کرنا غلط ہوگا۔ فی الحال خبر فنڈ کی منظوری اور اس کے مقصد کی ہے۔ درخواست کے طریقے، منتخب اداروں اور تقسیم کی تصدیق آنے پر اس کے عملی فائدے کا بہتر اندازہ ہوگا۔
حوالہ جات
- وزیر اعظم دفتر، کابینہ کا ۶ اکتوبر ۲۰۲۶ کا فیصلہ
- پریس انفارمیشن بیورو، ۶ اکتوبر ۲۰۲۶ کا پس منظر
- اکنامک ٹائمز، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
تصویر: کاروباری منصوبہ بندی کی علامتی تصویر، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ نئی اسکیم کی تقریب کی تصویر نہیں۔





