ریت کی کان کنی انسان کیلئے بھی مہلک

0

پنکج چترویدی

گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دریاؤں سے ریت نکالنے کے باعث ہمارے ملک میں کم از کم 418 افراد ہلاک اور 438 زخمی ہوئے۔ غیر سرکاری تنظیم ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آن ڈیمس، ریورس اینڈ پیپل (ایس اے این ڈی آر پی) کے مطابق دسمبر2020 سے مارچ2022 تک، 16 مہینوں میں ریت کی کان کنی کی وجہ سے ہونے والے حادثات اور تشدد کے معاملات کی میڈیا رپورٹنگ کی بنیاد پر کی گئی تحقیق کے مطابق، ان میں 49 اموات کانکنی کے لیے ندیوں میں کھودے گئے تالاب میں ڈوبنے سے ہوئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کان کنی کے دوران کان کے گرنے اور دیگر حادثات میں کل 95 اموات اور 21 افراد زخمی ہوئے۔ کان کنی سے وابستہ سڑک حادثات میں 294 لوگوں کی جان گئی اور 221 زخمی ہوئے ہیں۔ کان کنی سے متعلق تشدد میں 12 افراد کو جان گنوانی پڑی اور 53 زخمی ہوئے ہیں۔ غیر قانونی کان کنی کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں اور صحافیوں پر حملے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 10 ہے جبکہ سرکاری اہلکاروں پر مائننگ مافیا کے حملے میں دو افراد ہلاک اور 126 افسران زخمی ہوئے ہیں۔ کان کنی سے متعلق باہمی تنازع یا گینگ وار میں 7 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور اتنے ہی زخمی ہوئے ہیں۔
ندی ایک زندہ ڈھانچہ ہے اور ریت اس کے نظام تنفس کا ایک اہم حصہ ہے۔ شدید گرمی میں ندی کے خشک ہونے والے کناروں کو جس بے رحمی سے ادھیڑا جا رہا ہے وہ اس سال کے عالمی یوم ماحولیات کے نعروں- ’صرف ایک زمین‘اور ’فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں پائیدار زندگی‘ کے بالکل برعکس ہے۔ انسانی زندگی کے لیے پانی سے زیادہ ضروری پانی کی دھارائیں ہیں۔ ندی صرف پانی کے نقل و حمل کا ایک راستہ نہیں ہوتی، وہ زمین کے درجۂ حرارت اور پانی کے نظام کے دیگر حصوں جیسے آبی جانوروں اور پودوں کے لیے آسرا بھی ہوتی ہے۔ ندی کے کنارے انسانی ثقافت کی ترقی کے گواہ و مددگار رہے ہیں اور یہ کنارے ندیوں کے ذریعے بہا کر لائی گئی ریت کے ٹیلوں کی بنیاد پر آباد ہوئے ہیں۔
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے بھی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ریت کی کان کنی پر قابو نہ پایا گیا تو اس کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ ریت بننے میں سیکڑوں سال لگتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ تیزی سے اس کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ریت کی بے قابو کان کنی ندیوں اور سمندر کے ساحلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور چھوٹے جزیروں کو ختم کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا میں شیشے، کنکریٹ اور دیگر تعمیراتی مواد کی کھپت گزشتہ دو دہائیوں میں تین گنا بڑھ کر ہر سال 50 ارب ٹن ہوگئی ہے یعنی یومیہ فی شخص 17 کلو ریت خرچ ہو رہی ہے۔ کھپت بڑھنے کی وجہ سے ندی کے کناروں اور سمندری ساحلوں پر ریت کی کانکنی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے سنگین ماحولیاتی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ریت ماحول کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ کئی انواع (Species) کے لیے رہائش گاہ کا کام کرتی ہے۔ طوفانی لہروں اور کٹاؤ سے بچاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ریت کا بے تحاشہ استعمال ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کے لیے خطرہ پیدا کرے گا اور حیاتیاتی تنوع پر دباؤ ڈالے گا۔ سمندری ساحلوں کی کان کنی پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔
سمندر ہی نہیں زمین کے وجود کے لیے چھوٹی اور درمیانی ندیاں بھی ضروری ہیں اور ریت کی وجہ سے ان پر بحران اب اتنا سنگین ہو چکا ہے کہ ’سدانیر‘اکہلانے والی آبی دھاراؤں میں اب سال میں بیس دن پانی نہیں رہتا۔ دوسری طرف ریت کے بغیر حکومت کی ترقی، جی ڈی پی، پیداوار وغیرہ کو پر نہیں لگ سکتے۔ ترقی کا مطلب زیادہ پکی تعمیرات، اونچی عمارتیں اور سیمنٹ سے بنی ہموار سڑکیں ہو چکا ہے اور ان سب کے لیے بالو یا ریت کی ضرورت ہوتی ہے جو زندگی دینے والی ندیوںاور اس کے کنارے بسنے والی آبادی کے لیے موت کا پیغام ثابت ہو رہا ہے۔
تھوڑی سی برسات میں ندیوں کا اُفان پر آجانا، کناروں کے کٹاؤ کی وجہ سے سیلاب آنا، ندیوں میں حیوانات کم ہونے کی وجہ سے پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے سے پانی میں بدبو آنا، ایسی بہت سی وجوہات ہیں جو منمانی ریت کی کھدائی سے پانی کے ذخائر کے وجود پر خطرے کی طرح منڈلا رہی ہیں۔جمنا گنگا جیسی ندیوں سے ریت نکالنے کے لیے ندی میں بڑی بڑی مشینیں اتاری گئیں اور وہاں سے نکلی ریت کو ٹرکوں میں لوڈ کیا گیا۔ اس کے لیے ندی کے راستے کو باندھ کر عارضی سڑکیں اور پل بنادیے گئے۔ صورتحال یہ ہے کہ کئی دریاؤں میں نہ پانی کا بہاؤ ہے اور نہ ہی ریت۔
آج یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریت کی کان کنی خود ایسے ماحولیاتی سانحہ کا سبب ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اگرچہ ملک میں ریت کی کوئی کمی نہیں ہے- بڑے سمندری ساحل ہیں اور کئی ہزار کلومیٹر پر پھیلا ریگستان بھی لیکن سمندری ریت میں کھارا پن ہوتا ہے جبکہ ریگستان کی بالو بے حد گول اور چکنی، تب ہی ان کا استعمال تعمیراتی کام میں نہیں کیا جاتا۔ بہتی ندیوں کی اندرونی سطح میں ریت کی موجودگی دراصل اس کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی رکاوٹ، پانی کو صاف رکھنے کے لیے فلٹر اور ندی میں کیچڑ روکنے کے لیے دیوار بھی ہوتی ہے۔ کناروں تک ریت کا پھیلاؤ ندی کو سانس لینے کا حصہ ہوتا ہے۔ ندی صرف بہتے پانی کا ایک ذریعہ نہیں ہوتی، اس کا اپنا ایکو سسٹم(ماحولیاتی نظام) ہوتا ہے جس کے تحت اس میں پرورش پانے والے جاندار، اس کے کناروں کے خوردبینی بیکٹیریا سمیت کئی عناصر شامل ہوتے ہیں اور ان کے درمیان ہم آہنگی کا کام ریت کا ہوتا ہے۔ ندیوں کی کوکھ غیر قانونی اور غیر سائنسی طریقے سے ہونے والی کان کنی کی وجہ سے یہ سارا نظام درہم برہم ہو رہا ہے۔
قانون تو کہتا ہے کہ نہ تو ندی کو تین میٹر سے زیادہ گہرائی میں کھودیں اور نہ ہی اس کے پانی کے بہاؤ کو روکیں لیکن لالچ کے لیے کوئی بھی ان کی پروا نہیں کرتا۔ ریت ندی کے پانی کو صاف رکھنے کے ساتھ ہی اپنے قریبی علاقوں کے زیر زمین پانی کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔ کئی بار این جی ٹی اور سپریم کورٹ ہدایات دے چکے ہیں اور ریاستوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے۔ این جی ٹی کا کہنا ہے کہ ریت کی نقل و حمل کرنے والی گاڑیوں میں جی پی ایس نصب ہونا ضروری ہے تاکہ انہیں ٹریک کیا جا سکے لیکن زرعی کاموں کے لیے منظور شدہ ٹریکٹروں کے ذریعے ریت ڈھوئی جاتی ہے۔ اجازت شدہ گہرائی سے دو -تین گنا گہرائی تک پہنچ کر ریت کی کان کنی کی جاتی ہے۔ جن نشان زد علاقوں کے لیے ریت کی کانکنی کا پٹّہ ہوتا ہے، ان سے باہر جاکر بھی کان کنی ہوتی ہے۔ پوک لینڈ جیسی مشینوں کو دریا کے بیچ میں لگانا عام بات ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے ملک میں ضلعی سطح پر ایک جامع مطالعہ کیا جائے کہ ہر چھوٹی اور بڑی ندی میں ریت کے سالانہ آنے کی گنجائش کتنی ہے اور اس میں سے کتنی کی بغیر کسی نقصان کے کان کنی کی جا سکتی ہے۔ پھر اس کے مطابق، تعمیراتی کام کی پالیسی بنائی جائے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انجینئرس کو ریت کا متبادل تلاش کرنے پر بھی کام کرنا چاہیے۔ اسی کے مطابق ریاستی حکومتیں اس ضلع میں ریت کے ٹھیکے دیں۔
[email protected]