ایک قربانی پہ موقوف نہیں قربانی۔۔۔

0

امسال کعبۃ اللہ میں لبیک اللھم لبیک کی گونجتی صدائوں نے تو اپنے معبود کے سامنے صرف اپنی خود سپردگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ دنیا میں فیل بے مہار کی طرح قہر ڈھاتی کورونا وائرس پر انسانی عقل و فہم کی فتح کا اعلان بھی کیا ہے۔ کورونا وائرس پر کنٹرول حاصل کرنے کی تدبیر میں دنیا نے لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی دی ہے تب یہ موقع نصیب ہوا ہے کہ ہمیں عیدالاضحی پر کچھ سکون حاصل ہوا ہے اور سنت ابراہیمی ؑادا کررہے ہیں۔
کورونا وائرس کی وجہ سے ہندوستان جہاں ہر تہوارعید بن کرآتا ہے ہم کسی بھی تہوار پر خوشی منانے سے قاصر رہ گئے ہیں۔ گزشتہ عید الاضحی بھی نہایت سادگی اورمحرومی سے منائی گئی تھی۔اس بار بھی بندشیں اور نہایت محتاط طریقے سے عید قرباں منائی جارہی ہے۔ اپنے وطن عزیز میں عیدا لاضحی پر صرف کورونا سے ہی محتاط رہنا کافی نہیں ہے بلکہ ایسے عناصر سے بھی محتاط رہنا اشد ضروری ہے جو کسی نہ کسی بہانے سے امن و اما ن میں خلل ڈالنے کا موجب بنتے ہیں۔ ملک میں حکمراں طبقہ کی نظر میں سوائے سیاسی کیڈروں کی بھیڑ بھاڑ کے ہر بھیڑ وائرس کے پھیلائو کا ذریعہ نظرآتی ہے، اس لیے سیاسی ریلیوں پر قدغن نہیں لگائے جاتے ہیں بلکہ مذہبی اجتماع پر پابندی ہوتی ہے حالانکہ طبی نقطہ نظر سے مذہبی اجتماع ہو کہ سیاسی ہر جگہ خطرہ برقرا ر ہے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں نے عیدگاہ کی جماعتیں موقوف کرادی ہیں اور کم تعداد میں جماعت قائم کرکے مسجدوں میں عیدا لاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت ملی ہے۔ جس سے عام مسلمانوں میں ناراضگی اور مایوسی کا پایا جانا فطری بات ہے لیکن قربانی کی اصل روح تو یہی ہے کہ ہم انسانیت کی فلاح کیلئے اپنے نفس کو قربان کردیں اور ہمارے علمانے اسی عقیدے پر قائم رہ کر تمام مسلمانوں کو عیدا لاضحی منانے کی تلقین بھی کی ہے۔
قربانی،رضائے الٰہی کا ایک وسیلہ ہے اس لیے ہر لمحہ قربانی کے اس اصول سے مسلمان ہر جگہ شرعی حد کے اسیر رہتے ہیں۔ کورونا کی وبا نے شرعی حدود کے ساتھ کچھ ملکی ضابطے کا بھی پابند بنادیا ہے جس کی مثال مسلمان عیدا لفطر، یوم عاشورہ اور گزشتہ برس کے عیدا لاضحی کے تہوار پر دے چکے ہیں پھر بھی مسلمانوں پر ذمہ داریاںزیادہ عائد ہوتی ہیں اور ہر موقع پر مزید قربانی کی حدیں عائد کردی جاتی ہیں۔ ملک بھر میں کبھی این آر سی، کبھی سی اے اے اور کبھی خاندانی فلاح و بہبود کے نام پر یکساں سول کوڈ، انٹر فیتھ میریج اور محدود زچگی کے نت نئے شوشے چھوڑ کر امتحان لینے کیلئے مزید قربانی کا مطالبہ جاری رہتا ہے حالانکہ اس سے پوری قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ملک وقوم سے بے لوث محبت کرنے والے لوگ بھی اپنی اٹوٹ چاہت کے تعلق سے تذبذب کے شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں ایسے لوگوں کی کثرت ہے جو وفاداری اور مسلمانوں کی قربانی کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ ان کی ضرورت اور اہمیت کو ملک کی ضرورت و اہمیت سمجھتے ہیں۔ یو م قربانی پر مسلمان بھی اپنے ان برادران وطن کے خلوص و محبت کے عقیدت مند نظرآتے ہیں اور جانوروں کی قربانی میں اعتدال ملحو ظ رکھتے ہیں۔
جانوروں کی خریداری سے لے کر قربانی تک عید الاضحی کے موقع پر مسلمانوں کے شوق اور صبر کی قربانی سے ان کی عبدیت اور نفس کشی کا اعلیٰ اظہار ہونا چاہیے کیوں کہ اللہ پاک کے حضور اسی کو ارفع مقام حاصل ہے۔ لیکن بعض جگہوں پر نفس کے تابع ہوکر مسلمانوں میں ہی کچھ لوگ خلیل اللہ کی عبدیت اورذبیح اللہ کے صبر و ایثار کو بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے تاک میں بیٹھے کوے کو کائیں کائیں کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور پھر کوئی اپنا کان نہیں دیکھتابلکہ کوے کے پیچھے دوڑ لگادیتا ہے جس سے افراتفری پھیلتی ہے۔
ملک کے موجودہ حالات اور کورونا وبا کی روک تھام کیلئے عائد پابندیوں کے پیش نظر عیدا لاضحی مسلمانوں سے صرف جانوروں کی قربانی نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنیٰ کی پابندی کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔ عیدا لاضحی حکمراں طبقہ اور حکومتی انتظامیہ سے بھی قانون کی پاسداری اور ملک کے شہریو ں کے مذہبی و انسانی حقوق کے آزادانہ استعمال کی فضا قائم رکھنے کی ذمہ داری نبھانے کا اہم موقع ہوتا ہے۔کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے دنیا جن کوششوں میں مصروف ہے عیدا لاضحی جیسا عالمی دن اس کوشش کی کامیابی کو عیاں کرنے کا بہترین دن ہے۔عید قرباں پہ عہد کریں کہ کورونا کو شکست دینے کیلئے ہر ممکنہ قربانی دینے کو تیار ہیں۔ عالمی طور پرحج بیت اللہ کی ادائیگی کرتے ہوئے مزدلفہ سے عرفہ تک اس کا اظہار ہوچکا ہے، اب گائوں گائوں شہرشہر میں مسلمان اپنی ذمہ داریاں نبھاکر اس کا اظہار کریں اور حکومت ان کی سعی میں شامل ہوکر اعتماد بحال کرے یہی اس کوشش کا بہترین اظہار ہوگا۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here