قربانی کے بغیر ترقی کا تصور محال

0

کلیم الحفیظ

قربانی کا نتیجہ ہمیشہ ہی اچھا رہا ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھئے، ہر ترقی اور عروج کے پیچھے کسی نہ کسی کی قربانی چھپی ہوگی۔معاملہ فرد کی خوش حالی کا ہو یا قوم اور ملک کی ترقی کا، قربانی کے بغیر اس کا تصورہی محال ہے۔جو شخص قربانی کے بغیر ترقی کے خواب دیکھتا ہے، وہ احمقوں کی دنیا میں رہتا ہے اسی لیے تمام آسمانی مذاہب میں قربانی کی تعلیم دی گئی ہے اور آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ عیدالاضحی میں جانور کی قربانی صرف کباب، بریانی، قورمہ اور پائے کھانے کے لیے نہیں ہے بلکہ فلسفۂ قربانی کی تذکیر و تفہیم کے لیے ہے۔بدقسمتی سے ہم نے اپنے دین کو بھی محض رسم و رواج کا دین بنا لیا اور اس کی روح کو فراموش کردیا۔ آپ میں سے ہر شخص اگراپنے گھر اور خاندان کے خوش حال اور ترقی یافتہ افراد کا گہرائی سے جائزہ لے گا تو دیکھے گا کہ اس کی ترقی میں اس کے اجداد کی کتنی قربانیاں پوشیدہ ہیں۔
ایک فرد اگر چاہتا ہے کہ وہ بام عروج پر پہنچے تو اسے اول روزسے ہی بہت سی چیزیں چھوڑنا پڑتی ہیں۔طالب علمی کے زمانے میں وہ محلے کے عام لڑکوں کی طرح کھیل کود میں اپنا وقت برباد نہیں کرتا، وہ عزیزوں کی شادی بیاہ کی تقریبات میں نہیں جاتا،بلکہ وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ اپنی تعلیم پر صرف کرتا ہے، بچپن میں اس کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی موج مستی کرے،وہ اپنے گھر کے بڑوں کو تقریبات میں جاتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ اگر ان کاموں میں وقت برباد کرکے اس نے اسکول اورکالج سے غیر حاضری کی تو اس کا رزلٹ اچھا نہیں آئے گا۔اس کے ساتھ ہی با شعور والدین بھی اپنے بچے کی تعلیم کی خاطر بہت سی تقریبات میں نہیں جاتے۔طالب علمی کے زمانے میں خواہشات اور جذبات کی یہ قربانیاں ہی اس کے مستقبل کو تابناک بنا تی ہیں۔امام الحدیث امام بخاری ہو ں یا فقہ کے امام اعظم ابو حنیفہ ہوں ،طب کے امام بو علی سینا ہوںیا فلسفے کے امام غزالی ہوں، بابائے قوم سرسید ہوں، میزائل مین اے پی جے عبد الکلام ہوں یا بابائے تعلیم ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ہوں، ان کے ناموراور عظیم ہونے کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے بڑی سے بڑی قربانیاں دیں۔
فرد کی طرح گھر اور خاندان کو ترقی دینے اور خوشحال بنانے کے لیے قربانیاں دی جاتی ہیں۔گھر کا مکھیا اگر لہو لعب میں مشغول رہے،عیاشیاں کرے،غلط عادات اپنائے اور فضولیات میں وقت اور پیسہ برباد کرے تو وہ گھر برباد ہوجاتا ہے۔فقر و فاقہ اس گھر کا مقدر بن جاتا ہے۔ذلت و رسوائی اس گھر کو گھیر لیتی ہے۔جو لوگ دن کا چین اور راتوں کا آرام قربان کرکے محنت کرتے ہیں، زبان کے ذائقوںکو لگام دے کر کفایت شعاری اختیار کرتے ہیں،نام و نمود اور ریاکاری سے بچتے ہیں، خوش حالی ان کے قدم چومتی ہے۔ ترقی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔گھر اور خاندان کی ترقی کے لیے بڑوں کو اپنے جذبات اور خواہشات کی قربانی دینا ہی پڑتی ہے۔مشترکہ خاندان میں اپنی پسند و ناپسند اور اپنی رائے کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔جو لوگ یہ قربانیاں نہیں دیتے وہ بہت دنوں تک ایک ساتھ نہیں رہ پاتے اور نتیجتاً گھر کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں ،کاروبار اور وسائل تقسیم ہوجاتے ہیں ،انجام کار بعض اوقات خوش حال خاندان بھی غربت کا شکار ہوجاتا ہے۔ والدین کی قربانیاں اولاد کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیںاور اولاد کی قربانیاں بوڑھے والدین کے لیے راحت اور رحمت کا سامان ہیں۔

قـربـانـی کا نـتـیـجـہ ہـمـیـشـہ ہـی اچـھـا رہـا ہـے۔ عـیـدالاضـحــیٰ کا مـقـدس اور مبارک تـہـوار نـیـز سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ہم ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔ اس لیے کہ فرد کا مستقبل اس کی قوم کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ قوم ذلیل اور غلام ہو اور اس قوم کا فرد باعزت اور آزاد ہــو۔ آئیــے اس عـیـد پر ہـم عـہـد کریں کہ ہـم اپنـے گـھـر اور قـوم کـی خوش حالـی کے لیـے ہـرممکن قربانی دیں گے۔

فرد اور گھر کی طرح قوموں کے عروج و زوال میں قربانی کا اہم رول ہے۔قوموں کی ترقی اور خوش حالی میں قوم کے رہنمائوں کی قربانیاں کارفرما ہوتی ہیں۔جس قوم کے رہنما قربانیاں دیتے ہیں وہ قومیں عروج حاصل کرلیتی ہیں۔ تاریخ قوم کے رہنمائوں سے جس چیز کی قربانی چاہتی ہے وہ خواہش عزو و جاہ ہے۔ یعنی وہ چاہتی ہے قوم کے رہنما منصب اور عہدے کے لالچ میں قوم کا سودا نہ کریں،ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی مفاد قربان نہ کیے جائیں۔وہ کردوغلو کا کردار ادا نہ کریں، ایمان فروشی کا کاروبار نہ کریں۔ آپ ہر قوم کی تاریخ پڑھ لیجیے،جب جب اس قوم میں کردوغلو کی تعداد زیادہ ہوگئی، اس قوم کو غلام بنتے دیر نہیں لگی اور جب جب اس قوم کے رہنمائوں نے قوم سے وفاداری برتی اور قوم کے مفاد کی خاطر خود کو صلیب و دار تک پہنچادیا ،ان کو بھی عزت ملی اور ان کے بعد ان کی قوم کو بھی عروج حاصل ہوا۔ ہندوستان میں ہماری ہمسایہ قوم کو جو اس وقت عروج حاصل ہے، اس کے پیچھے ان کے بزرگوں کی عظیم قربانیاں ہیں۔
اگر ہم ہندوستان کے مسلمانوں کی موجودہ صورت حال میں تبدیلی چاہتے ہیں تو قربانی دینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ عہدے اور مناصب کی خواہش سے خود کو پاک رکھنا ہوگا۔اس دوڑ میں خود کو شامل کرکے اجتماعیت کو برباد نہیں کرنا چاہیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر فرد اپنی اجتماعیت کا سربراہ بننا چاہتا ہے۔خدمت کے نام پر عہدے کی تمنا رکھتا ہے۔اس کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔سفارشیں کرواتا ہے۔ چاپلوسی کرتا ہے۔نااہل ہوتے ہوئے بھی ذمہ داریوں کا تاج پہننا چاہتا ہے۔ہماری یہ روش دین اور دنیا دونوں معاملوں میں ہے۔جب تک یہ رویہ نہیں بدلے گا قوم کی تقدیر نہیں بدلے گی۔جب تک ہم اپنے جذبات،اپنی خواہشات،اپنی آرزؤں اور تمنائوں کا خون نہیں کریں گے کسی انقلاب کی امید پیدا نہیں ہوگی۔اس لیے کہ کوئی بھی انقلاب قربانی کے بغیر نہیں آتا۔عیدالاضحی کا مقدس اور مبارک تہوارنیز سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ہم ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔اس لیے کہ فرد کا مستقبل اس کی قوم کے مستقبل سے وابستہ ہے۔یہ ہرگز ممکن نہیں کہ قوم ذلیل اور غلام ہو اور اس قوم کا فرد باعزت اور آزاد ہو۔آئیے اس عید پر ہم عہد کریں کہ ہم اپنے گھر اور قوم کی خوش حالی کے لیے ہر ممکن قربانی دیں گے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here