کووڈ: تعلیم کا شعبہ خصوصی توجہ کا طالب

0

صبیح احمد

ابھی گزشتہ ہفتہ اترپردیش کے بلیا ضلع کے ایک پرائمری اسکول کو ایک باورچی کے ذریعہ چلائے جانے کا ایک ویڈیوسامنے آنے کے بعد ضلع کے بیسک ایجوکیشن آفیسر فوری طور پر حرکت میں آگئے اور ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے ہیڈماسٹر سمیت تمام ٹیچروں کی تنخواہ روکنے اور معاملے کی جانچ کے احکامات صادر کر دیے۔ تحقیقات کے بعد کیا سامنے آتا ہے اور پھر کیا کارروائی ہوتی ہے، یہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مذکورہ اسکول کے اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی سے مسئلہ کا حل نکل جائے گا؟ یہ صرف ایک اسکول کا معاملہ نہیں ہے، پورے ملک میں ایسے سیکڑوں یا ہزاروں اسکول ہوں گے جہاں بچوں کی تعلیم کے نام پر ضمیر فروشی عام بات ہے۔ زیر غور معاملہ سے ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بیسک ایجوکیشن آفیسر کو اپنے ّضلع کے اسکولوں کے بارے میں یہ معلوم کیوں نہیں تھا کہ ہیڈ ماسٹر اسکول آتے ہیں یا نہیں؟ یا پھر اسکولوں میں پڑھائی ہو رہی ہے یا نہیں، اگر ہو رہی ہے تو کیسے ہو رہی ہے؟ اتفاق سے ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آفیسر فوراً حرکت میں آ گئے اور اب پورے معاملے کیلئے مورد الزام اسکول کے اساتذہ کو ٹھہرا دیا جائے گا۔ کیا محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں جو انہی چیزوں کی نگرانی کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں؟
ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ایسے اساتذہ کو معمولی کارروائی کے بعد چھوڑ دیا جائے۔ ان کے خلاف عمومی کارروائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں عبرت ناک سزا ملنی چاہیے۔ ایک صاف ستھرا اور انتہائی ذمہ دارانہ پیشہ سے وابستہ اساتذہ سے اس طرح کی حرکتوں کی قطعی امید نہیں کی جاسکتی۔ ملک و قوم کے مستقبل کی بنیاد کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی ذمہ داری انہی اساتذہ پر ہوتی ہے۔ خاص طو ر پر بنیادی سطح پر بچوں کی تعلیم اور تربیت جس معیار کی ہوگی، بچے آگے چل کر اسی حساب سے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکیں گے۔ جب بنیادی تعلیم کا یہ حال ہو گا تو پورے نظام کا کیا حشرہوگا۔ حیرت کی بات ہے کہ درس و تدریس جیسے پیشے سے وابستہ لوگوں کا ضمیر کیسے انہیں اس طرح کی بے ایمانی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پرائمری اسکولوں میں اکثر اسی ضلع کے اساتذہ کی تقرری ہوتی ہے جس ضلع میں اسکول ہوتا ہے۔ ایک استاذ جب اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا نہیں کرتا اور اسکول کے بچوں کو ٹھیک سے نہیں پڑھاتا ہے تو اس سے آس پاس کے بچے ہی متاثر ہوتے ہیں۔ انہی بچوں کے ماں باپ یا رشتے دار ضلع کے دوسرے اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا بھی رویہ اسی طرح کا ہوتا ہے۔ یعنی مذکورہ بالا استاذ کا بچہ بھی اسی طرح تعلیم سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور اس کا خمیازہ انہی اساتذہ کے بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے جس کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ جن کے بچوں کو صحیح طریقے سے تعلیم نہیں دیتے، وہ بھی ضلع کے ہی کسی اسکول میں اساتذہ ہیں جہاں آپ کے بچے تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔

موجودہ حالات میں لڑکیوں کی تعلیم سب سے زیادہ داؤ پر لگی ہے لیکن سرکار کی جانب سے ملک کی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے بھی اب تک کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں صحت کے بعد اگر کوئی شعبہ ہے جس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تو وہ تعلیم کا شعبہ ہے کیونکہ اگر یہی صورتحال رہی اور تعلیم پر خاص توجہ نہیں دی گئی تو اس کا اثر ایک دو سال میں نہیں بلکہ دہائیوں بعد سامنے آئے گا اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

ان تمام حالات کے لیے بہرحال ذمہ دار سرکار ہے۔ سرکاریں خواہ کسی کی بھی ہوں، بلند بانگ دعوے تو سبھی کرتے ہیں اور نئی نئی پالیسیوں کا اعلان بھی کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر تعلیم کے حوالے سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ دیگر باتوں کے علاوہ اس اہم ترین شعبہ کے لیے مختص کردہ بجٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے تقریباً تمام اسکول بند ہیں۔ بچے اپنے گھروں پر ہی آن لائن تعلیم حاصل کرنے کو مجبور ہیں۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ہندوستان میں کتنی آبادی ہے جن کے پاس آن لائن تعلیم کی سہولتیں دستیاب ہیں۔ اور اگر جن کے پاس اسمارٹ فون، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ جیسی سہولتیں ہیں بھی تو نیٹ ورک کا اتنا برا حال ہے کہ ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔ جب کووڈ19- وبا کا سلسلہ دراز ہو کر اس سال بھی جا رہا اور بچوں کو اپنے اپنے گھروں پر رہ کر ہی آن لائن کلاسیں کرنے کو مجبور ہونا پڑا اور اس سلسلہ کے مزید دراز ہونے کی بات کی جا رہی ہے تو یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب سرکار آن لائن تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے تمام بچوں کو کم از کم بنیادی سہولت ضرور دستیاب کرائے گی اور تعلیم کے لیے مختص فنڈ میں اضافہ کیا جائے گا لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے بند اسکولوں کو بجٹ سے بھی مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ کووڈ19- سے پیدا ہونے والی منفی صورتحال، ڈیجیٹل تعلیم پر انحصار اور نئی ایجوکیشن پالیسی کے پیش نظر اس سال اسکولی تعلیم کے بجٹ میں خاصا اضافہ کی توقع کی جا رہی تھی۔ حق تعلیم کے لیے سرگرم کارکنان خصوصی کووڈ پیکیج کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال بھی تعلیم کے شعبہ کے لیے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ 2020-21 کے اصل بجٹ میں اعلان کردہ رقم سے کم ہی ہے۔ یکم فروری 2020 کو جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2020-21 کا بجٹ پیش کیا تھا تو وزارت تعلیم کو 99,311.52 کروڑ روپے الاٹ کیے گئے تھے لیکن ترمیم شدہ تخمینوں میں اس رقم کو کم کر کے 85,089کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اب اس سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبہ کو 93,224.31 کروڑ روپے کا بجٹ ملا ہے جو 2020-21 کے بجٹ سے تقریباً 8 ہزار کروڑ روپے زیادہ تو ہے لیکن یہ 2020-21 کے اصل بجٹ سے 6ہزار کروڑ روپے کم ہے جو تعلیم کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مایوس کن ہے۔ اگر اس سال کے اسکولی بجٹ کی بات کی جائے تو محکمہ اسکولی تعلیم کے لیے اس سال کے بجٹ میں 54,873 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ 2020-21 کے بجٹ میں یہ رقم 52,189 کروڑ روپے تھی جبکہ فروری 2020 میں پیش ہونے والے بجٹ میں اس کے لیے 59,845 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ یعنی ترمیم شدہ تخمینوں میں اسے تقریباً 7 ہزار کروڑ روپے کم کر دیا گیا جبکہ 2019-20 میں اس مد پر 52,520 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کووڈ19- وبا کے سبب تعلیم کے شعبے پر بے حد منفی اثر پڑا ہے۔ وہیں نئی ایجوکیشن پالیسی نافذ ہونے کے سبب بھی کئی طرح کی نئی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور آگے بھی ہونی ہیں۔ کووڈ لاک ڈائون اور اس کے سبب اسکولوں کے بند ہو جانے سے لڑکیوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں سرگرم کئی تنظیموں کے مشترکہ سروے کے مطابق کووڈ19- کے سبب اسکولی لڑکیوں کی پڑھائی پر بہت ہی منفی اثر پڑا ہے۔ گھر پر کمپیوٹر یا خاطر خواہ تعداد میں اسمارٹ فون نہ ہونے کے سبب جہاں آن لائن پڑھائی میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی گئی، وہیں لاک ڈائون کے سبب مالی تنگی سے بھی لڑکیوں کی پڑھائی چھوٹنے کا خوف شامل ہو گیا۔ ’بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو‘ کے نعرہ کے باوجود موجودہ حالات میں لڑکیوں کی تعلیم سب سے زیادہ دائو پر لگی ہے لیکن سرکار کی جانب سے ملک کی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے بھی اب تک کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں صحت کے بعد اگر کوئی شعبہ ہے جس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تو وہ تعلیم کا شعبہ ہے کیونکہ اگر یہی صورتحال رہی اور تعلیم پر خاص توجہ نہیں دی گئی تو اس کا اثر ایک دو سال میں نہیں بلکہ دہائیوں بعد سامنے آئے گا اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here