رشی سنک ہندوستان کی خوشبو

0

انجینئر خالد رشید علیگ

27 اکتوبر کو رشی سنک نے برطانیہ کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا اور ہندوستان میں جشن منایا جانے لگا۔ یہ جشن رشی سنک کی ہندوستانیت کا تھا یا برطانیہ کی فراخ دلی کا یا اس احساس کا کہ رشی سنک اس ملک کے پہلے سیاہ فام وز یراعظم بن گئے جس نے ہندوستان پر دوسوسال حکومت کی وجہ جو بھی رہی ہو سے جشن تو ہونا ہی چاہیے حالانکہ رشی سنک کا تعلق صرف نام کی حد تک ہندوستان سے ہے نہ تو وہ اور نہ ان کے والدین ہندوستان میں پیدا ہوئے اور نہ ہی انہوں نے ہندوستان میں حامد قرزئی کی طرح تعلیم حاصل کی رشی سنک 1980 میں برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین مشرقی افریقہ کے ملک کینیا سے انگلینڈ آئے تب جہاں وہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے حجرت کر کے جا بسے تھے پھر بھی ہندوستانیوں کے لیے خوشی کا موقع تو ہے ہی بالکل اسی طرح جیسے براک حسین اوبامہ کے امریکی صدر بننے پر سیاہ فام افریقی عوام اور کچھ سر پھرے مسلمانوں کے سینے فخر سے پھول گیے تھے۔ کینیا کے لوگ سمجھ رہے تھے کہ اوبامہ کے صدر بنتے ہی ان کی غربت کافور ہو جائے گی ان کے ملک میں شہد کی ندیاں بہنے لگیں گی اور راتوں رات کینیا کی جی ڈی پی میں اظافہ ہو جائے گا کچھ جذباتی قسم کے مسلمان بھی خوش فہمی کا شکار تھے کہ ایک مسلمان براک حسین اوبامہ امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا ہے، حالانکہ اوبامہ نے کبھی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہا لیکن وہ جذباتی مسلمان ان کے نام میں حسین لگا دیکھ کر ہی خوش تھے ان کو یہ خوش فہمی ستانے لگی تھی کہ اوبامہ اسرائیل کی من مانی کو لگام لگا کر عربوں کے قدیم مطالبات کو منوانے میں مددگار ثابت ہوںگے مگر حقیقت یہ ہے کہ اوبامہ کے دور حکومت میں نہ توکینیا کو کوئی خاطرخواہ اقتصادی مدد ملی اور نہ ہی عرب ممالک کے مسائل کا کوئی حل تلاش کیا جاسکا اور نہ ہی امریکہ کی اسرائیل پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی۔ ہاں براک حسین اوبامہ کا صدر منتخب ہونا انصاف پسند دنیا کے ان جمہوریت پسندوں کے لیے ضرور ایک تاریخی موقع تھا جو اقلیتوں کے حقوق کی وکالت اور پیر و کاری کا دعویٰ کرتے ہیں، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے ملک میں ایک ایسا شخص صدر بن گیا تھا جو رنگ اور تعداد کے لحاظ سے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بعد دنیا کے جمہوریت پسند عناصر نے ایک بار پھر اس وقت جشن منایا جب کملا ہیرس امریکہ کی نائب صدر منتخب ہوئیں یہ دوسرا موقع تھا جب ایک اور سیاح فام ا مریکی کسی اہم عہدے پہ فائض ہوا تھا۔ ہندوستان میں بھی جشن کا ماحول تھا ملک کی سیاسی قیادت نے کملا ہیرس کو مبارک باد دی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کملا ہیرس کے دور اقتدار میں ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کافی تشویش ناک صورت حال اختیار کر چکے ہیں اب برطانیہ میں رشی سنک کے وزیر اعظم بننے سے ہندوستان میں خوشی کا ماحول ہے۔ نام نہاد قوم پرستی پہ فخر کرنے والے لوگ رشی سنک کو ہندوستانی ثابت کرنے پہ تلے ہیں جس رشی سنک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے ملک کی تشویش ناک اقتصادی صورت حال کو سنبھالنا ہے ان سے یہ امید لگائی جا رہی ہے کہ وہ ہندوستان کے بگڑتے حالات کو بدل ڈالیں گے حالانکہ انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہوںگی جس کا ثبوت ہندوستان مخالف وزیرداخلہ کا تقرر ہے۔ انہوں نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ ان کو اپنے ملک کے مفادات مقدم ہیں جو ہر حکمراں کو ہونا بھی چاہیے۔ غرض یہ کہ نا تو اوباما کے صدر منتخب ہونے سے کینیا کی قسمت بدلی تھی نہ ہی کملاہیرس کے انتخاب سے ہندوستان کو کچھ حاصل ہوا اور نہ ہی رشی سنک سے ہندوستان کی گرتی کرنسی کو کوئی مدد ملے گی لیکن کچھ شدت پسند لوگ جو ہندوستان میں بنگلہ دیشی اور میانمار کے مہاجروں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے جو شاہ جہاں کو غیرملکی لٹیرا ثابت کرنے پہ تلے رہتے ہیں جبکہ شاہجہاں کی 5پشتیں ہندوستان میں پیدا ہوئیں اور ہندوستان میں ہی دفن ہوئیں جو اس خاتون کو ہندوستانی نہیں مانتے جس نے اپنا ملک اپنا تمدن اپنی زبان قربان کرکے ایک ہندوستانی سے شادی کی اور ہمیشہ کے لیے ہندوستان میں بس گئی وہی آج اس رشی سنک کو فخر ہندوستان ثابت کرنے پہ تلے ہیں جو نہ ہندوستان میں پیدا ہوا اور نہ ہی ان کی تربیت ہندوستان میں ہوئی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2005 میں جب سونیا وزیراعظم کی کرسی کے قریب پہنچیں تو ان کے لیڈران کس طرع پنجوں پر کھڑے ہو گئے تھے بعض نے تو سر منڈوانے تک کا عہد کرلیا تھا۔ آج وہی لوگ ہیں جنہیں رشی سنک سے ہندوستان کی خوشبو آرہی ہے۔ کس ز اویہ سے ر شی سنک ہندوستانی ہیں اس کاجوا ب تو ا نہیں انصاف پسندوں کے پاس ہوگا جو آج بھی سونیا کو اٹالین اور شاہجہاں کو غیر ملکی ثابت کرنے پہ تلے رہتے ہیں، لیکن کسی بھی جمہوریت پسند ذہن کے لیے براک اوباما کملا ہیرس اور رشی سنک کے انتخاب میں یہ حقیقت قابل فخر ضرور ہے کہ وہ ا پنے ملکوں میں ا قلیت سے تعلق رکھنے کے با وجود طاقتور عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ براک اوباما ایک سیاح فام افریقی امریکی تھے جن کے دادا ایک مسلمان تھے پھر بھی وہ اس ملک کے صدر بنے جس میں سفید فام امریکیوں کی تعداد 80فیصد ہے ۔یہاں دوسری بات یہ بھی سمجھنی ہوگی کہ اوباما کا الیکشن جیتنا کوئی اتفاق نہیں تھا ان کو پہلی بار 2008 میں 173کے مقابلہ 365 پاپولر ووٹ حاصل ہوئے اور دوسری بار بھی 206 کے مقابلہ 332 کی واضح اکثریت سے وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے اگر امریکی آئین اجازت دیتا تو یہ سیاہ فام تیسری بار بھی سفید اکثریت والے ملک میں انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو سکتا تھا۔
کیا اوباما کملا ہیرس اور رشی سنک کے انتخاب میں ہم ہندوستانیوں کے لیے کوئی سبق ہے جو اپنے ملک کو جمہوریت کی ماں کہتے ہیں ششی تھرور کا یہ سوال کہ کیا ہمارے ملک میں اقلیتی طبقہ کا کوئی فرد وزیر اعظم بن سکتاہے؟ شاید ان شدت پسندوں کو عجیب لگے جو سماج پہ صرف ایک مخصوص طبقہ کا تسلط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر موجودہ سیاسی منظر کو ذرا غور طلب نگاہ سے دیکھا جائے تو یقینایہ سوال جائز محسوس ہوگا۔ ملک کی 80 رکنی وزارت میں ملک کی 15فیصد مسلم آبادی کا ایک بھی نمائندہ نہ ہونا بر سر اقتدار جماعت کے ممبران پارلیمنٹ کی لسٹ سے مسلمانوں کا ندارد ہونا ملک کے سب سے بڑے صوبہ کے 254 بی جے پی ممبران میں ایک بھی مسلمان کا نہ ہونا ملک کے 28 صوبوں میں ایک بھی چیف منسٹر کا مسلمان نہ ہونا کم سے کم اس سوال کو جائز تو بنا ہی دیتا ہے کہ کیا واقعی ہمارا ملک دنیا کی سب بے بڑی جمہوریت ہے؟ کیا واقعی ہم اسی ملک میں رہتے ہیں جس کے وزیر اعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس کا دعوی کرتے نہیں تھکتے؟ کیا ہمارا ملک حقیقت میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جسے ہمارے وزیراعظم جمہوریت کی ماں قرار دیتے ہیں؟ رشی سنک کی فتح پر جشن منانے کے ساتھ ہمیں ان برطانوی عوام کی فراخ دلی کی بھی داد دینی چاہئے جنہوں نے اپنی 2فیصد آبادی والی اقلیت کے ایک سیاست داں کو ملک کا سب سے طا قتور عہدہ سونپ کر ملک کا وزیراعظم بنا دیا۔ امید کرنی چاہیے کہ رشی سنک برطانیہ کو موجودہ سنگین صورت حال سے نکالنے میں کامیاب ہوںگے۔
[email protected]