ضمنی اسمبلی انتخابات کے نتائج کا پیغام

0

گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل 6ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوںکے ضمنی انتخابات کے نتائج اگرچہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات یا انتخاب والی ریاستوں کے انتخابی منظرنامہ کے تناظر میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے ، لیکن جہاں انتخابات ہوئے ، وہاں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اورکچھ نہ کچھ پیغام پورے ملک میںضرور جاتا ہے۔کیونکہ ملک میں سیاسی اورانتخابی منظر نامہ پر بحث ہوگی تو ان ضمنی انتخابات کے نتائج کا ذکر ضرور ہوگا ۔ 7 سیٹوں کے انتخابات میں نقصان میں کوئی پارٹی رہی تو وہ صرف کانگریس ہے اورفائدہ کسی کو ہوا تو وہ بی جے پی اورٹی آرایس ہیں ۔ 7میں سے3سیٹیں بی جے پی کے پاس تھیں اورپارٹی نہ صرف ان سیٹوں پر جیتی،بلکہ ہریانہ کی آدم پور سیٹ کانگریس سے چھینی ، جوکلدیپ بشنوئی کے بی جے پی میں شامل ہونے سے خالی ہوگئی تھی۔اس طرح مجموعی نتائج میں بی جے پی کا دبدبہ رہا ۔ٹی آرایس کو بھی ایک نئی سیٹ حاصل ہوگئی۔ ان کے علاوہ جو سیٹ راشٹریہ جنتادل کے قبضہ میں تھی ،اس پر اس کا قبضہ برقرار رہا ۔ البتہ مہاراشٹرکی اندھیری سیٹ سے شیوسینا(ادھو) کو تقویت اورنئی توانائی حاصل ہوگی ۔ بی جے پی اورشندے گروپ نے امیدوار نہ کھڑا کرکے ادھو ٹھاکرے کیلئے راہ کیوں آسان کی ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ بہرحال پارٹی کی تقسیم اور اقتدار ہاتھوں سے جانے کے بعدشیوسینا ادھو گروپ کے حوصلے کافی پست ہوگئے تھے اوریہ سمجھاجارہا تھا کہ اب پارٹی پھر سے کھڑی نہیں ہوپائے گی لیکن یہ جیت بی ایم سی انتخابات میںپارٹی کے حق میں نتائج پر اثر اندازہوسکتی ہے۔ اس سے زیادہ چونکادینے والے نتائج تلنگانہ کے مونوگوڑے اور بہار کے گوپال گنج کے رہے ۔مونوگوڑے سیٹ کانگریس کے پاس تھی ، اوروہ مقابلہ میں کہیں بھی نہیں تھی ۔ بی جے پی کی جڑیں ریاست میں اتنی مضبوط ہوگئی ہیں ، اس نے حکمراں ٹی آرایس کو زبردست چیلنج پیش کیا اوربڑی مشکل سے حکمراں جماعت جیتی ۔ اسی طرح گوپال گنج میں بی جے پی مشکل سے جیتی ہے ۔اگر وہاں ووٹ تقسیم نہیں ہوتے اور مجلس اتحاد المسلمین و بہوجن سماج پارٹی کے امیدوارووٹ نہیں کاٹتے تو آرجے ڈی کی جیت ہوتی ۔جس طرح مونوگوڑے سیٹ سے تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجی ہے ، اسی طرح گوپال گنج میں بی جے پی کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ اگلی بار بھی ایم آئی ایم اوربہوجن سماج پارٹی جیسی پارٹیاں ووٹ حاصل کرکے بی جے پی کی راہ آسان کردیں گی ۔
6ریاستوں کی 7اسمبلی سیٹوںگوپال گنج ، موکاما، گولاگوکرناتھ، آدم پور،دھام نگر، اندھیری اور مونوگوڑے پر ضمنی انتخابات ہوئے تھے ۔ان میں 5سیٹیں ممبران اسمبلی کی موت کی وجہ سے خالی ہوئی تھیں جبکہ ایک سیٹ مونوگوڑے کانگریس کے ممبراسمبلی کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔کانگریس کو الیکشن سے پہلے بھی جھٹکا لگا اورالیکشن میں بھی ۔ اسے ایک تو ایک بھی سیٹ پر کامیابی نہیں ملی اورجو2سیٹیں قبضہ میں تھیں ، وہ بھی چلی گئیں ۔ اس طرح کانگریس کو کہیں بھی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ نئے صدر کا انتخاب بھی ووٹروں کے موڈ کو تبدیل نہیں کرسکا۔ تلنگانہ میں جس طرح ٹی آرایس کو کامیابی ملی ، اس سے یقیناوہاں کی حکمراں جماعت نے راحت کی سانس لی ہوگی، بی جے پی مسلسل اقتدار کے حصول کیلئے کوششیں کررہی ہے۔ضمنی الیکشن میں موصولہ ووٹوں سے صاف صاف پتہ چلتاہے کہ ریاست میں پارٹی کے قدم تیزی سے مضبوط ہورہے ہیں ۔ اگر یہی حال رہا تو اگلے اسمبلی الیکشن تک حالات کافی بدل سکتے ہیں۔ اسی طرح بہار میں بی جے پی اور جنتا دل متحدہ کے رشتے ختم ہونے کے بعد پارٹی کو وہاں کچھ پریشانی ہورہی ہے۔ سیدھے مقابلہ میں آرجے ڈی اور جنتادل متحدہ سے جیتنا آسان نہیں ہوگا ۔
بہرحال ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور دیگر 3پارٹیوں کو ایک ایک سیٹ پر قناعت کرنی پڑی ۔ایسے میں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ غیربی جے پی پارٹیاں تیسرے محاذ کیلئے جو کوششیں وقفہ وقفہ سے کرتی رہتی ہیں ، وہ کیامتحد ہوکر بھی بی جے پی کا متبادل رائے دہندگان کے سامنے پیش کرسکتی ہیں۔جب پارٹی اکیلے ہی سب پر بھاری پڑرہی ہے تو کوئی بھی علاقائی پارٹی اپنے مفادات سے سمجھوتہ نہیں کرسکتی ہے اوروہ تنہابی جے پی کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔ماضی میں بھی غیربی جے پی پارٹیوں کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہوسکا، گجرات اورہماچل پردیش میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے ۔تو آگے کیا امید کی جاسکتی ہے۔
[email protected]