رشی سنک: برطانیہ میں بڑی تبدیلی

0

پروفیسر نیلم مہاجن سنگھ
برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی، ہمیشہ شاہی خاندان کے مفادات کو فروغ دیتی رہی ہے اس کی اہم پالیسیاں برطانیہ کی سرمایہ داری کی پالیسیوں پر منحصر ہیں اور اس کی پالیسی میں مزدوروں کی فلاح وبہبود کی پالیسیوں سے متصادم ہیں، ہندوستان میں برطانوی سامراج کی حامی پارٹی کے لیڈر رشی سنک کو باقاعدہ لیزٹریس کے استعفیٰ کے بعد برطانیہ کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ یہ بات ابتدا میں ہی واضح ہوجانی چاہیے کہ یہ بے گانے کی شادی میں عبداللہ دیوانے والی بات ہندوستان میںہورہی ہے۔ رشی سنک کو ہندو وزیراعظم کہنا انتہائی قابل مذمت ہے ، لندن کے میئر پاکستانی مسلمان ہیں اور بادشاہ چارلس عیسائی ہیں ۔ پھر کسی بھی طرح سے رشی سنک کسی بھی طرح ہندوستانی نہیں ہیں۔ 1947کی تقسیم سے قبل ہی سنک کے دادا اور پورا خاندان رام داس سنک گجرانوالہ ، پاکستان سے نیروبی، کینیا، 1935میں ہی چلے گئے تھے۔ 1937میں سہاگ رانی سنک بھی کینیا چلی گئیں ۔ رام داس ایک کلرک کا کام کرتے تھے ، پھر رشی سنک کا جنم 12مئی 1980کو سائوتھمیٹن شہر یوکے میں ہوا تھا۔ وہاں 2009میں ان کی شادی انفوسس کے مالک نارائن مورتی کی بیٹی سے ہوئی بعد میں اے پوٹریٹ آف مارڈن برٹین۔ A potrait Of Modern Britainدی فری پورٹرس آپور چیونٹی ‘The Free Porters Opportunityہائو برکسٹ کڈ بوسٹ ٹریڈ How Britexit Could Boost Tradeمینو فیکچرنگ اینڈ دی نارتھ Manufacturing And North ‘A New era far HowRetail New Bondsہائو اور سیونگ اینڈ دی نارتھ، Over Saving and the North اے نیو ایرا فار ریٹل نیو بانڈز A New Era For Retail New Bondsوغیرہ رشی سنک کی اقتصادیات پر بہت مقبول کتب میں سے کچھ ہیں۔ رشی کی تعلیم اسٹیفن فورڈ گریجویٹ اسکول آف برٹش (2006)لنکن کالج (2001)سے ہوئی ۔ ہندوستان کے مفاد میں رشی سنک نے کبھی بھی کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا۔ یہ قابل ذکر ہے کہ 42سال کے دور جوانی میں رشی برطانیہ کے وزیراعظم بنے ہیں۔ دنیا کی سیاسی تاریخ میں یہ حیران کن جست ہے۔ ہندوستان میں بھی نوجوانوں کو اسی طرح سے مواقع ملنے چاہئیں۔ رشی برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے اعلیٰ ترین لیڈر ہیں۔ 24اکتوبر کو پارٹی کے لیڈر کے طور پر منتخب ہونے، سابق ایم پی لینر ٹرس صرف 45سال کی عمر کی ہیں۔
1834سے 1922تک کی کنزرویٹو پارٹی کی باقاعدہ موجودگی نہیں تھی، پارلیمنٹ ایکٹ آف 1911کے ذریعہ اس پارٹی کے لیڈر باقاعدہ طور پر ہائوس آف لارڈز اور لوور ہائوس میں عوام کی نمائندگی کرنے والے لوگوں میں شامل ہوئے۔ مارگریٹ تھیچر، ٹریسامے، لیز ٹریس کنزرویٹو پارٹی کی خاتون وزیراعظم ہوئیں۔ رشی سنک ایک برطانوی سیاسی لیڈر ہیں جو اکتوبر 2022سے یونائیٹڈ کنگ ڈم کے وزیراعظم اور کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر کے روپ میں کام کررہے ہیں۔ وہ 2020سے 2022تک فرانہ کے چانسلر تھے اور 2019سے 2020تک ٹریژیری کے چیف سکریٹری رہے جس کو ہم وزیرخزانہ کہتے ہیں۔ وہ 2015سے ریجمنڈ کے ممبر پارلیمنٹ ہیں اس وقت برطانیہ میں ان کے سامنے کئی چیلنجز آئے تھے جن کو رشی سنک کو جھیلنا پڑسکتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھا کر 65سال تک کرنا ہے۔ بین الاقوامی انوسٹمنٹ کو لانا ہے۔ سماجی تحفظ میں تبدیلی، ٹیکنیکل اور صنعتی ترقی، روزگارمیں تحفظ، ہیلتھ انشورنش وغیرہ بڑے چیلنجز کا ان کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پھر آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے مسائل سے نجات پانے کے لیے رشی کو کئی قدم اٹھانے ہوں گے۔ بریکزیٹ میں تو برطانیہ کی کرکری ہوچکی ہے، ویسے ایک بات اور ہے کہ پاکستانی لوگ برطانیہ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ رشی سنک پاکستانی نژاد ہیں۔ کیونکہ ان کے اجداد گجرانوالہ سے تھے جو پاکستان میں ہے۔ پھر ہندوستانی غیر ہندوستانی ، رشی سنک کے وزیراعظم بننے پر زیادہ پرجوش نہ ہو کر اپنے ہی ملک کے مسائل کی طرف اور دھیان دیں تو بہتر ہوگا۔
انسانی حقوق کے تحفظ کا ایشو بھی رشی سنک کو دیکھنا ہوگا۔ کووڈ-19سے ہونے والا انسانی اقدار کا نقصان بھی اہم ایشو ہے۔ کیونکہ ابھی بھی یہ وباباقی ہے۔ مہاجرین کا برطانیہ میں داخلہ ، غذا کا حق، پرتشدد واقعات میں اضافہ، گرین فیلڈ، ٹاورزفائر خواتین کے بچوں کی پیدائش کو لے کر حقوق لڑکے اور لڑکیوں کا تحفظ اور ان کے حقوق، ابھی رشی سنک کو خاص طور پر توجہ دینی ہوگی۔ سماج میں طبقاتی تعصب ، بہت سنگین ایشو ہے ۔ رشی سنک کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔ جس کا انہیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا، نوجوان اور بزرگ دونوں ہی رشی کے حامی ہیں، ویسے تو برٹس سامراج واد سے جمہوریت کی طرف آئے ہیں ۔ برطانیہ میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ لیکن ابھی بھی ’ دی تھیوری آف ڈیوائن راٹس‘ The Theory of Divine Rights اور دی کنگ کین ڈونو رانگ The king Can Do No Wrong کو برطانیہ کے سرمایہ داری نظام کی بنیاد مانا جاتاہے۔ ہندوستان کے سیاسی مبصرین رشی سنک کو نیک خواہشات دیتے ہیں اور ان سے یہ امید کرنی چاہیے کہ پارٹی سے اوپر اٹھ کر رشی سنک بین الاقوامی تعلقا ت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ ہندوستان پہلے ہی وزیراعظم رشی سنک کو مبارک باد دے چکا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی اسٹیج پر ایک اور ستارے کے طور پر ان کو آگے بڑھنا چاہیے۔
(مضمو ن نگار سینئر صحافی اور سالیٹسر برائے انسانی حقوق ہیں)
[email protected]