عام انتخابات اورآبادی میں اضافہ

0
The Times of India

ایم اے کنول جعفری
اُتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور آر ایس ایس کے قومی سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کے درمیان20؍اکتوبرکو پریاگ راج میں جن موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوااُن میں آبادی کے عدم توازن کا مدعا بھی تھا۔ ایک روز قبل بھاگوت کی صدارت میں آل انڈیاایگزیکیوٹو بورڈ کی میٹنگ میں سنگھ کے سرکاریہ واہ دتا تریہ ہوس بالے نے آبادی کے عدم توازن کو سنگین قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل اور ارتکاز کے ساتھ غور وفکر کرنے اور تعین آبادی پالیسی کو سب پرلاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کہا تھاکہ گزشتہ 40-50 برسوں سے آبادی پر قابو پانے میں زور دینے کے سبب ہر خاندان کی اوسط تعداد 3.4 سے کم ہوکر1.9 پر آگئی ۔ ایک دن ایسا آئے گا،جب ملک میںنوجوانوں کی تعداد میں کمی اور بزرگوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ تشویش ناک ہے۔ چین اور جاپان اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ہندوستان نوجوانوں کا ملک ہے، ملک کو جوان رکھنے کے لیے آبادی کو متوازن کرنا ہوگا۔عام انتخابات کے قریب آتے آتے اس مدعے کو گرم رکھنے سے یہی اشارہ مل رہا ہے کہ آئندہ پارلیمانی الیکشن میں بڑھتی آبادی کے مدعے کو ووٹوںکو بانٹنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
11جولائی2022کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آبادی پر کنٹرول کے لیے مخصوص طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ کسی ایک طبقے کی آبادی بڑھنے کی رفتار زیادہ ہو اور جو مقامی آبادی ہے،اُس کی آبادی کوبیداری مہم سے کنٹرول کرلیاجائے۔ اس منافرت بھرے لہجے کی گونج ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ پانچ اکتوبر 2022 کوآر ایس ایس سپریمو کا نیابیان آگیا ۔اُنھوں نے بڑھتی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رُکاوٹ اور مذہبی اعتبار سے غیر متوازن آبادی کو ملک تقسیم کی راہ استوار کرنے والابتایا۔ ناگ پور میں وجے دشمی پر ہونے والی سالانہ تقریب میں مذہب کی بنیاد پر بڑھتی آبادی پر قدغن لگانے کے لیے مجموعی جامع پالیسی بنانے پر زور کے ساتھ اسے سب پر نافذ کرنے اور کسی کو چھوٹ نہ دینے کی بات کہی گئی۔انتباہ دیا گیا کہ جب کبھی کسی ملک میں آبادیاتی عدم توازن پیداہوتا ہے،تب وہاں کی جغرافیائی حدود تبدیل ہوجاتی ہے۔ اسی بنیاد پر 1947 میں ہندوستان تقسیم ہوا۔ مشرقی تیمور، جنوبی سوڈان اور کوسوو جیسے نئے ممالک آبادی میںعدم توازن کی بدولت ہی دنیا کے نقشے پر اُبھرنے میں کامیاب ہوئے۔
موہن بھاگوت نے جولائی 2022میں کہا تھا کہ صرف زندہ رہنا ہی زندگی کا مقصد نہیں ہے۔جانور بھی کھانے پینے اور آبادی بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ آبادی میں عدم توازن کے لیے شرح پیدائش میں نابرابری کے علاوہ لالچ ، بہکاوے ، مبینہ جبری تبدیلی مذہب اور ملک میں دراندازی وغیرہ کو بڑی وجوہات بتاتے ہوئے ان پر سنجیدگی سے غورکرنے کو لازم قرار دیا ۔کہا کہ بڑھتی آبادی پر قدغن لگانے کے ساتھ فرقہ پرستی پر مبنی مذہبی آبادی کا توازن بھی اہمیت کا حامل معاملہ ہے،جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دوران تقریر آر ایس ایس کے سربراہ نے سوال کیا کہ50برس بعد ہندوستان کا کیا ہوگا؟ کیا ہمارے پاس اپنی آبادی کا پیٹ بھرنے کے لیے ضروری مقدار میں خوراک موجود ہو گی؟ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرناہوگا۔انھوں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد واضح طور پر بہت سے عوامل پر منحصر ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے اس میں زچگی کی صحت ، تعلیم اور اقتصادی حالات وغیرہ کو شامل بتایا ۔ انھوں نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ہر کنبے کی ضروریات کیاہیں؟ چونکہ ، آبادی کا اثرماحول پر پڑتا ہے ، اس لیے پالیسی بناتے وقت تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔برتھ کنٹرول پالیسی پر عمل کے لیے طرز فکر میں تبدیل کرنے کے ساتھ عوامی بیداری مہم کی بھی ضرورت ہے۔تب ہی آبادی پر قابو سے متعلق قوانین کے بہتر اور خاطر خواہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں آبادی کنٹرول کرنے کے لیے دو بچوں کے فارمولے کو عملی جامہ پہنانے کے مطالبے والی درخواست داخل کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ بڑھتی آبادی کئی مسائل کی جڑ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پٹیشن کی سماعت میں دلچسپی نہیں دکھاتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ صفر مسئلہ والا نہیں ہو سکتا۔اس مسئلہ پر حکومت کو پالیسی کے مطابق فیصلہ لینا چاہئے ۔ اس مسئلہ پر وزرا کی جانب سے ملے جلے تاثرات آئے۔ گزشتہ مہینے وزیر خارجہ ایس جے شنکرنے کہا تھا کہ جبری آبادی کنٹرول کے بہت خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں ۔ اس سے جنسی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے ۔سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے بڑھتی آبادی کو ملک کی مصیبت قرار دیا،جبکہ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے آبادی کنٹرول کے لیے قانون کی ضرورت بتائی۔
حال ہی میںاقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2023 تک بھارت آبادی کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتی آبادی کا اثرزمینی آبی وسعت(Ground water capacity) پر پڑے گا۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ دُنیا کے قریب دو اَرب لوگ اُن ممالک میں رہ رہے ہیں،جہاں ضرورت کی تکمیل کے مطابق پانی موجود نہیں ہے۔اگر آبادی پر قابو نہیں پایا گیا ، تو دو دہائیوں میں دنیا میں چار میں سے ایک بچے کو پانی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ہندوستان کی آبادی پر غور کریں،تو سب سے مستند اعدادوشمار2011کی مردم شماری کے ہیں۔ان کے مطابق ملک میں کل شادی شدہ خواتین کی تعداد 33,96,21,277 تھی۔ ان میں 18,19,74,153 عورتوں کے دو یا دو سے کم بچے تھے، جبکہ15,76,47,124 مستورات کے تین یا زیادہ بچے تھے ۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار میں بھارت کی آبادی142کروڑ ہونے کااندازہ لگایا جارہا ہے۔
دراصل، آر ایس ایس اور اس سے جڑی بھگوا تنظیموں کے ذریعہ غلط بیانی کے ساتھ آبادی کے مسئلہ کو بار بار اُٹھاتے رہنے کا مقصد ہندوؤں کے اذہان میں یہ بات ڈالنا ہے کہ ان کے مقابلے مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔ اگر اقلیتوں کی آبادی اسی طرح بڑھتی رہی،تو آئندہ کچھ دہائیوں میں ہندو اقلیت میں آ جائیں گے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق بھارت کی آبادی 1.21 اَرب ہے۔ اس میں ہندوؤں کی تعداد قریب80فیصد ہے،جبکہ مسلمانوں کی آبادی14.2فیصد ہے۔ دوسری جانب عیسائی، سکھ،بودھ اور جین وغیرہ ملک کی آبادی کا چھ فیصد ہیں۔ ان اعدادوشمار کی خاص بات یہ بھی ہے کہ قریب30ہزار لوگوں نے اپنے آپ کو خدا کی ذات میں یقین نہیں رکھنے والا لا مذہب درج کرایا ۔ 80 لاکھ افراد ایسے بھی رہے،جنھوں نے ملک کے چھ بڑے مذاہب کے ساتھ اپنا تعلق ہونے سے انکار کیا۔ ہندوستان کی آبادی میں ہر مہینے قریب 10لاکھ لوگوں کا اضافہ ہوتا ہے ۔ اس وقت بھارت کی آبادی قریب 1,398,902,101 ہے،جو دنیا کی کل آبادی کا17.7فیصد ہے ۔ آبادی کے اعتبار سے ہندوستان چین کے بعد دوسرے مقام پر ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آبادی بڑھنے کی رفتار اسی طرح جاری رہی تو 2030 کے بعد بھارت چین کوپیچھے چھوڑکر دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ اس وقت چین کی آبادی 1.41اَرب ہے۔اسی سوچ کے مدنظر آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسواشرما نے جون 2021 میں دو بچوں کی پیدائش کے فارمولے کو نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد یو پی کی یوگی حکومت نے جولائی 2021میں اسی طرح کی آبادی پالیسی پیش کی،جس کا مقصد صوبہ میں خواتین کے درمیان کل شرح پیدائش (ٹی ایف آر) کو 2026 تک2.1 اور 2030 تک 1.9 پرلانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد واضح کرتے ہوئے یو پی کے وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بتایا کہ صوبہ میں24کروڑ افراد رہتے ہیں،جو ہندستان کی آبادی کا16فیصد ہے۔اگر یوپی کو الگ ملک تصور کیا جائے توآبادی کے لحاظ سے اس کا مقام چین ، بھارت،امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد پانچویں نمبر پر آتا ہے۔
چونکہ کووڈ19-کی بنا پر 2021میں آبادی سے متعلق اعدادوشمار جمع نہیں ہوپائے تھے ، اس لیے موجودہ اعدادوشمار آبادی اور نیشنل فیملی ہیلتھ سروے(این ایف ایچ ایس) کے ذریعہ جمع کئے گئے اعدادوشمار سے اخذ کئے گئے ہیں۔ این ایف ایچ ایس کسی بھی صوبے میں پیدائش کی شرح، خاندانی منصوبہ بندی ، موت کی شرح اورزچہ بچہ کی صحت سے جڑے تازہ اعداودشماردستیاب کرانے کے کام کو انجام دیتا ہے۔ امریکہ کے تھنک ٹینک ریسرچ سینٹرنے ستمبر2021میں الگ الگ مذاہب کے لوگوں سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ ماہرین کاخیال ہے کہ کسی سرکاری یاتسلیم شدہ ادارے کے اعدادوشمار کو اخذکیا جائے،تواُس سے یہ واضح جاتا ہے کہ کسی بھی صورت میں بھارت میںمسلمان ہندوؤں سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ این ایف ایچ ایس 5- کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ہر دہائی میںآبادی بڑھنے کی شرح کم ہونے کے ساتھ شرح پیدائش میں بھی کمی درج کی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال کسی ایک میں نہیں،بلکہ سبھی مذاہب میں دیکھی جا رہی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میںقومی سطح پر کل شرح پیدائش 2.1 (فی جوڑا دو بچے) سے کم ہو گئی ہے،جو قائم مقامی نسبت سے کم ہے ۔گزشتہ چار دہائیوں کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس دوران مردم شماری کی اضافی شرح میں کمی آئی ہے ۔این ایف ایچ ایس کی پچھلی پانچ رپورٹوں کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بچے کی پیدائش کا فرق ایک بچے سے زیادہ کا کبھی نہیں رہا۔ 1991-92میں یہ فرق1.1کا تھا،جواس بار گھٹ کر0.3کا رہ گیا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم خواتین تیزی سے فیملی پلاننگ کے طریقے اپنارہی ہیں۔اسی بنا پر مسلمانوں میںمردم شماری اضافے میں کمی ہندوؤں کے مقابلے زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2030تک ہندو اور مسلمانوں میں شرح پیدائش قریب قریب برابر ہو جائے گی ۔ 1951میںبھارت کی آبادی36کروڑ تھی،جو 2011میں بڑھ کر 121.01 کروڑ ہو گئی۔اس دوران ملک میں شرح پیدائش اور شرح اموات دونوں میں اہم کمی درج کی گئی۔نمونہ اندراج نظام کے اعدادوشمار کے مطابق کروڈ شرح پیدائش جو1951میں 40.8 فی1000درج کی گئی تھی ، 2016 میں کم ہوکر20.4پر آ گئی۔ کل شرح پیدائش 1951 میں 6.0 سے گھٹ کر 2.3 ہو گئی۔ 2001 اور 2011کی دہائی میں آبادی کی اضافی شرح1.97فیصدسے گھٹ کر 1.64 فیصد ہو گئی۔
مردوں کے غلبہ والے معاشرے میںآبادی کنٹرول کی مناسبت سے بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی گئی ۔ چین میں100لڑکیوں پر106 لڑکوں سے بڑھ کر یہ فرق130تک پہنچ گیا۔دنیا میں سب سے بڑی آبادی کے ملک چین نے بڑھتی آبادی پر قدغن لگانے کے لیے حکومت نے1980کی دہائی سے بچوں کی پیدائش کی حد مقرر کی تھی۔ 1988 میں ’ ہم دو ہمارا ایک‘ کے فارمولے کا سختی سے نفاذ کیا۔اس سے نہ صرف مردوزن کی آبادی کا توازن بگڑا،بلکہ عمررسیدہ کے افراد میں اضافے سے معیشت بھی بُری طرح متاثر ہوئی ۔ اس کے بعد بچوں کی پیدائش پر عائد پابندیوں میں نرمی برتی گئی۔جنوری2016میں چینی حکومت نے متنازع’ون چائلڈ‘پالیسی ختم کر دو بچے( حکومت کے اجازت نامے کے بعد) پیدا کرنے کی اجازت دی۔اب چینی حکومت نے1960کے بعد سے آبادی میں اضافہ کی سست رفتار دیکھتے ہوئے 31مئی 2021 سے عام جوڑوں کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آبادی پر قدغن لگانے سے معیشت پر اثر پڑتا ہے،جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
( مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں۔)
[email protected]