فلسطینیوں میں مصالحت کادور

0

مقبوضہ اسرائیل میں فلسطینیوں کے درمیان شدید اختلافات1993کے اوسلو سمجھوتے کے بعد پوری طرح ابھر کر سامنے آگئے تھے، حماس نے پی ایل او اور الفتح کی قیادت والی سیاسی پارٹی کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ حکومت چلانے کے فیصلہ کو قبول کرلیا تھا جبکہ حماس نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار جاری رکھا اور وہ آج بھی اسی موقف پرسختی سے قائم ہے۔
بہرکیف، مقبوضہ اسرائیل کے دوخطوں مغربی کنارے اور غزہ میں 2006میں انتخابات ہونے تھے اور اس کے بعد آج تک وہاں جمہوری عمل شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ دراصل اس الیکشن کے بعد دونوں فلسطینی سیاسی پارٹیوں میں اختلافات کے بعد اختلافات اس قدر شدید ہوگئے تھے کہ اسرائیل کو فلسطینی لیڈرشپ کو مزید تقسیم اور منتشر کرنے کا موقع مل گیا۔غزہ میں حماس کی قیادت میں انتظامیہ برسراقتدر آیاجبکہ مغربی کنارے میںپی ایل او ’صدارتی‘ عہدے پر قابض ہوکر مطمئن بیٹھارہا، اسرائیل مختلف حیلوں اوربہانوںسے غزہ میں انتظامیہ پرقابض حماس کو اہمیت دینے کی پاداش میں وہاں کے فلسطینیوں پربم باری کرتا رہا، جنگیں تھوپتارہا، حدتو یہ ہوگئی کہ غزہ کو چاروں طرف سے اونچی دیوار کھڑی کرکے اور پورے خطے کو ایک کھلی جیل میںتبدیل کردیا۔
سعودی عرب کے مرحوم حکمراں شاہ عبدالعزیز مسلسل ان دونوں متحارب گروپوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرتے رہے مگردونوں فریق آپسی اختلافات میں اس قدرالجھے رہے کہ کعبۃ اللہ کے سامنے حاضری اور تمام تر واسطے ان کو متحدنہ کرسکے۔جبکہ صہیونی ریاست اسرائیل ہر5 سال پرمسلسل باقاعدہ انتخابات منعقد کراتی رہی جبکہ گزشتہ 4سال میں اس مرتبہ پانچویںانتخابات یکم نومبر کو ہورہے ہیں اوراب فلسطینیوں نے بھی آپس کے اختلافات کوبھلا کر کم ازکم محدود اختیار والی آٹونومی فلسطینی اتھارٹی کو ایک جمہوری ادارہ بنانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ الجیریا نے فلسطینی گروپوں کے درمیان مذاکرات کرکے ایک سمجھوتے پر دستخط کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مغربی کنارے غزہ کی پٹی میں بالترتیب الفتح اورحماس کی بالادستی ہے اور دوچھوٹے چھوٹے خطوں میں اس قدر شدید اختلافات ایک آزاد ملک کے قیام میں بہت بڑی رکاوٹ بنے رہے۔
عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے بنتا جارہا ہے کہ اس مسئلہ فلسطین کا دیرپاامن تلاش کرلیا جائے اوراسرائیل کے اندر بھی یہی خبریں اور تبصرے ہورہے ہیںکہ شایدفریقین اس معاملہ پر گفتگو کریں۔ شاید فلسطینی قیادت اسرائیل اور دیگر عالمی مصالحت کاروں کے ساتھ مذاکرات میں متحد ہوکر شامل ہوں۔پچھلے دنوں فلسطینی اتھارٹی کے صدرمحمودعباس سرگرم ہوئے ہیں اور انھوں نے یوروپ کے کئی اہم ملکوں بشمول فرانس اور جرمنی کا دورہ کیا ہے۔ اسرائیل کے عام انتخابات کی مہم میں بھی ان امکانات پربحث ہورہی ہے مگر اسرائیلی مذہبی جنونی اور نسل پرست یہودی اس مدت میں زیادہ سے زیادہ انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بدتمیزیاں اور پرتشدد کارروائیاں تیز کرچکے ہیں۔ ہر روز پرتشدد واقعات میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی لگاتار خبریں آرہی ہیں۔ 2006کے انتخابات میںغزہ میں حماس نے کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے بعد سے آج تک صورت حال جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔غزہ اور مغربی کنارے کے علاوہ اسرائیل کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کی تعداد بہت کم ہے اور ملک کے مجموعی ووٹروں کی تعداد کا صرف 20فیصد ہی رہ گئے ہیں اوران کا ووٹ اس طریقہ سے منتشر ہے کہ وہ ایک قابل قدر ووٹ طاقت بن ہی نہیں سکتے ہیں۔n