اسرائیل پرمغربی ممالک کی عنایات اور مظلوم فلسطینی

0

امریکہ کا پچھ لگوبناہواہے۔ مغربی ایشیا میں امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی تقریباً ایک جیسی ہے، عراق، لیبیا، شام، ایران ہرمحاذ پرا مریکہ کی پیروی کرتا ہوا نظر آتا ہے برطانیہ۔ پچھلے دنوں امریکہ کے صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے ڈونالڈٹرمپ نے اپنے داماد اوریہودی نسل پرستوں کے دباؤ میں مشرقی یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرلیا اور اپنا سفارتی عملہ تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا اعلان کردیا۔ ٹرمپ کا رویہ قدرے غیرجمہوری، قانون شکنی والا کا رہاہے، اس سے کون واقف نہیں ہے۔ انھوں نے یہ حرکت بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار داد اوراصولوں کے خلاف کی ہے جس کی پوری دنیا نے کھل کر مذمت کی مگر اس کے باوجود موجودہ صدر جوبائیڈن اوران کی پوری انتظامیہ اس غلطی کا ازالہ کرنے یا اس فیصلہ کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ برطانیہ جوخود سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے، باربار وزیراعظم بدلنے پر مجبور ہے اور وزیراعظم لزٹریسا (جومستعفی ہوچکی ہیں) نے اندرون ملک اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے اعلان کردیاہے کہ وہ بھی اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کی تجویز پرغور کررہی ہیں،یہودیوں کی ایک تقریب میں اپنی نوازشوں کی بارش کرتے ہوئے یہ اعلان کیاہے۔ اپنی سیاسی جماعت اورملک میں نکتہ چینی کا سامنا کررہی لزٹریسا کا یہ اعلان بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور ایک ’ایسا ذمہ دار ملک‘ جو سیکورٹی کونسل کا مستقل ممبر ہے، اس کی وزراعظم کی طرف سے کیا جانے والا اعلان اورزیادہ شرمناک ہے۔
ایک طرف توبرطانیہ پوری دنیا پوری انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین کی دہائی دیتا ہے تو دوسری طرف وہی دنیا کے حساس ترین مسئلہ فلسطین کے تصفیہ میں روڑے اٹکا رہاہے۔ یروشلم پراسرائیل کے موقف کی غیرمنصفانہ حمایت سے ظالم قابض صہیونی ریاست کے حوصلے بلندہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ حوصلہ افزائی مظلوم فلسطینیوں کے حقوق پرڈاکہ زنی کی بنیاد پر ہوگی۔یروشلم دنیا بھر کے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ فلسطین میں عیسائیوں کی آبادی اس قدر نہیں ہے مگر پوری دنیا جانتی ہے کہ ارض فلسطین ان کے لیے کس قدر اہمیت کاحامل خطہ ہے، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش عمل میں آئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور دنیابھر کے عیسائی مذہبی اداروں اور شخصیات نے برطانیہ کے اعلیٰ ترین جمہوری عہدیدار کے اعلان کی مذمت کی ہے۔ برطانیہ کے ایک معتبر پادری نے واضح کیا کہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ عالمی سطح پر برطانیہ کے وقار کو ٹھیس پہنچائے گا۔ دنیا بھر کے کئی حلقوں نے مسئلہ فلسطین کے حل میں خاصی دلچسپی دکھائی ہے۔ پچھلے دنوں امریکی صدرجوبائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور مغربی ایشیا اس سمت کوششوں کی طرف اشارہ کرنے والا قراردیاگیا تھا۔ کیونکہ اسرائیل میں خود میں سیاسی عدم استحکام ہے اور وہاں یکم دسمبر کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔اس معاملہ میں اسرائیل کی بدنیتی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اس وقت اسرائیل میں عام انتخابات کی مہم چل رہی ہے اور عرب اور اسلامی مذہبی مقامات بیت المقدس کی بے حرمتی کھلم کھلا کی جارہی ہے۔ موجودہ کارگزاروزیراعظم دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کررہے ہیں اوراس کے لیے شدت پسندوںکو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ آسٹریلیا نے اس بابت اپنا موقف بدلا ہے جو کہ اس کی غیرجانبداری کی طرف اشارہ کررہاہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا کے سفارت خانے کو یروشلم میں منتقل کرنے کا شوشہ چھوڑاتھا۔وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے اس معاملہ میں معزول صدر ٹرمپ مذموم موقف کے سرمیں سر ملاتے ہوئے اگرچہ برطانیہ کا یہ رویہ اس کے پرانے موقف سے جدا نہیں ہے۔ برطانیہ ہمیشہ سے اسرائیل کے تئیں نرم رویہ اختیار کرتا رہا ہے اور ارض فلسطین میں ریاست اسرائیل کے غیرمنصفانہ قیام میں اس کا رول انسانی ظالمانہ ہے اور برطانیہ ابھی تک اپنے اس رول پر فخر کرتارہاہے۔
لزٹریسا کے اس رویہ پربرطانیہ کی اہم مذہبی شخصیات نے بڑا مثبت رول اداکیا ہے۔ ویسٹ منسٹرکے آربشپ کارڈینال ونسٹ نیکولس Cardinal Vincenalنے کہا ہے کہ اگر آپ نے برطانوی سفارت خانہ کو منتقل کرنے کااقدام کیاتواس سے خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو جھٹکا لگے گا اور دنیا میں برطانیہ کے وقار کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے دلایا کہ پاپ فرانسس اور مقدس سرزمین کے گرجاگھروں کے اکابرین نے یروشلم کی موجودہ حیثیت کو برقراررکھنے کی وکالت کی ہے۔ یروشلم کی یہ حیثیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں برقرار رکھی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلسطینی گروپس آپسی تصادم کوختم کرنے کے لیے تیارہوگئے ہیں۔ اس سمجھوتہ کی رو سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر اور سربراہ کی حیثیت سے محمودعباس کی قیادت پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ اس طرح پی ایل او کی بھی حیثیت اپنی جگہ مستحکم ہوگئی ہے اور فلسطینی لیڈر کی حیثیت سے محمودعباس کا رتبہ بھی تسلیم کرلیا گیا ہے۔ آئندہ ماہ عرب سربراہ کانفرنس الجیریا میں ہونے جارہی ہے، اس اہم کانفرنس سے قبل الجیریا کا فلسطینیوںکے آپس کے جھگڑوں کوختم کرانے میں کامیابی کافی اہمیت کی حامل ہے۔n