شام اورحماس:خرطوم اعلامیہ سے آج تک

0

زیر نظر صفحہ کے گزشتہ شمارے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدرمحمودعباس اور روس کے صدر ویلادیمیر پتن کے درمیان ملاقات اور مذاکرات نے دنیا کے پیچیدہ ترین مسئلہ کو حل کرنے میں روس کے رول کو اہمیت دلادی ہے تو وہیں فلسطینیوں کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیمیں حماس کے لیڈر وںکے شام کے صدربشار الاسد سے ملاقات نے مفاہمت کا ایک اوردریچہ کھول دیا ہے۔ حماس کے کئی اہم لیڈروں نے ایران، حزب اللہ کی مداخلت کے بعد دمشق کا دورہ کیا ہے۔ خیال رہے، جن عرب ممالک کی زمین پراسرائیل نے قبضہ کررکھاہے، ان میں شام بھی شامل ہے۔شام کی جولان کی پہاڑیاں (جن کو ’گولان‘ بھی کہتے ہیں)پراسرائیل نے قبضہ کرکے اپنے ملک کا حصہ بنالیا تھا، جولان کی پہاڑیاں پانی کی دولت سے مالامال اوراس وجہ سے سرسبزوشاداب علاقہ ہے۔ اسرائیل اس مقام پر قبضہ کرکے عسکری نقطہ نظر سے اہم پوزیشن حاصل کرچکا ہے۔ خیال رہے کہ 1967میں عرب اسرائیل جنگ میں نومولود ریاست کوختم کرنے کے لیے عربوںنے مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس میں ان تمام ملکوں کو اپنی زمین کے کافی بڑے حصوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
جون1981کے اوائل میں اسرائیل کی پارلیمنٹ نے قانون پاس کرکے اپنی سرزمین ملانے اور اپنے اقتدار اعلیٰ کااعلان کردیاتھا۔ لہٰذا مسئلہ فلسطین میں مصر، اردن، لبنان کے ساتھ ساتھ شام کا رول کافی اہم ہے اورشام نے دوسرے ملکوں کی طرح اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
اس 6روزہ جنگ جس کو Six Days Warنام سے پکارتے ہیں۔ اس معرکہ میں صہیونی ریاست نے دوتہائی علاقے پر قبضہ کرلیاتھا جب کہ مشرقی حصہ کا تیسرا حصہ شام کے پاس ہی رہا۔ لہٰذا اس قدر نقصان اور زمینیں گنوانے کے بعد اس سال یعنی1967 میں سوڈان کی راجدھانی خرطوم میں عرب لیگ کی چوٹی کانفرنس ہوئی، جس میں تین نکات پراتفاق رائے ہوا:
٭اسرائیل کے ساتھ امن قائم نہیں کیاجاسکتا۔
٭اسرائیل کوتسلیم نہیں کیاجائے گا۔
٭اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں۔
عرب اسرائیل تنازع میں شام کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ شام کا موقف خرطوم قرارداد کی روشنی میں سخت ہے۔ وہ اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتا ہے اور نہ ہی مذاکرات یااس کے سمجھوتے کاحامی ہے۔ اس کے علاوہ شام کی حکومت، لبنان کی سیاسی اور دفاعی امور میں اہمیت کی حامل حزب اللہ اور حماس نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے مشترکہ دشمن کوناکام بنانے کی کوشش کی ہے۔
حماس اورشام کے درمیان تعلقات میں کڑواہٹ 2011میں آگئی تھی۔ جب دوسرے عرب ملکوں کی شام میں بھی جمہوری نظام کے قیام کے لیے تحریک شروع ہوئی تھی، حماس نے اس تحریک کی حمایت کی تھی ظاہر ہے کہ یہ تحریک بشار الاسد حکومت کے خلاف تھی۔
اسی طرح پرانی تلخیوں کو ترک کرکے دونوں فریقوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا محور Axis of Resistance قائم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ ان ہی صفحات میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ کس طرح حماس اور الفتح تلخیوں کو بھلا کر متحد ہوتے ہیں اور دو فلسطینی علاقے مغربی کنارہ اورغزہ پٹی کی حکمراں جماعتوں کے ایک ساتھ آنے سے علاقے میں قیام امن کے امکانات ظاہر ہونے شروع ہوتے ہیں۔n