راہل کی تپسیا کامیاب:ایک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آگیا

0

عبیداللّٰہ ناصر

ایک سو آٹھ دن اور تقریباً ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ آج دہلی میں داخل ہوگئی۔پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ یاترا تقریباً دس دن موقوف رہے گی، اس درمیان اگلے سفر کی تیاریاں مکمل کی جائیں گی اور مستقل مسافروں کو لمبے وقفہ کے بعد اپنے گھر جاکر بال بچوں کے درمیان کچھ وقت گزارنے کا موقع بھی ملے گا۔یاترا کا دوسرا مرحلہ 3جنوری سے شروع ہوگا جو تین دنوں تک اترپردیش میں سفر کرنے کے بعد پنجاب ہوتا ہوا اپنے آخری پڑاؤ سری نگر کے لیے روانہ ہو کر 26جنوری کو لال چوک پر قومی پرچم لہرا کا اختتام پذیر ہو جائے گا۔اس درمیان راہل کی اس تاریخی یاترا نے تمل ناڈو، کیرالہ، آندھراپردیش، تلنگانہ، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، ہریانہ ریاستوں کی خاک چھانی اور ہر جگہ جس والہانہ انداز میں جوق در جوق اس میں مقامی باشندوں کے علاوہ سماج کے اعلیٰ دانشور طبقہ کے لوگوں نے شرکت کی جس میں اڈمرل رام داس اور عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات رگھو رام راجن جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ راہل گاندھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور بڑے ہی شاعرانہ اور ادبی لہجہ میں انہوں اپنا مقصد واضح بھی کر دیا۔ ’’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘‘یہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پورے ہندوستان کے سماجی ماحول اور اس کے خلاف راہل کے سنگھرش کو یوں بیان کر دیا جس پر پورا ایک مضمون بھی ہلکا پڑسکتا ہے۔جس ماحول کو بنانے میں آر ایس ایس سو سال سے محنت کر رہا ہے، جس کے لیے مودی کے ہندوستان میں پوری سرکاری مشینری، پورا نظام پورے آٹھ سال سے تمام جمہوری روایات، سماجی اقدار اور حکمرانی کے اصولوں کو با لائے طاق رکھ چکا ہو، اس ماحول کو راہل گاندھی کی اس تپسیا نے ریت کے محل کی طرح ڈھا دیا ہے۔ بھلے ہی میڈیا میں کچھ بھی پرچار کیا جارہا ہو، بھلے ہی ٹی وی چینلوں کے بیہودہ، غیر معیاری مباحثوں میں اس یاترا کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہو، بھلے ہی بی جے پی رسوائے زمانہ آئی ٹی سیل کوئی بھی افواہ اڑا رہا ہو، حقیقت یہ ہے کہ اس یاترا نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اور ملک میں نفرت، تشدد، باہمی عدم اعتماد کا جو ماحول بنایا گیا ہے، وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے اسی احساس نے مودی حکومت اور بی جے پی کے دوراندیش نیتاؤں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور کل تک جس یاترا کو وہ بچوں کا کھیل سمجھ کر مذاق اڑا رہے تھے، آج اسے روکنے کی خود بچکانہ حرکتیں کر رہے ہیں۔
آر ایس ایس اور مودی حکومت کی ایک سوچی سمجھی سیاست اور حکمت عملی کے تحت اس یاترا کو سیاسی نفع نقصان کے چشمے سے دیکھاجا رہا ہے۔ ناگپور سے ایک جملہ میڈیا کو بھیج دیا گیا کہ یہ یاترا کانگریس میں نئی جان ڈالنے اور راہل گاندھی کی نئی امیج بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے اور کبھی ایک ذمہ دار ہی نہیں معتبر سمجھے جانے والے صحافی اور اینکر راج دیپ سر دیسائی بھی راہل گاندھی سے ایسا ہی مضحکہ خیز اور شرارت آمیز سوال پوچھتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ راہل کی اس یاترا، اس تپسیا نے ملک میں تاریخ کی بدترین بے روزگاری،معاشی تباہی، سماجی بکھراؤ ،کارپوریٹ لوٹ، تباہ ہو رہے چھوٹے کاروبار، برباد ہو رہی کاشتکاری، بڑھتے قرض گھٹتی قوت خرید کے خلاف ایک ماحول بنا دیا۔ اس یاترا نے عوام کے ضمیر کے جھنجھوڑا ہے۔ بھلے ہی آندھ بھکتوں کی آنکھوں پر اب بھی پٹی چڑھی ہے، انہیں ایک اداکارہ کی ایک مخصوص رنگ کی بکنی تو دکھائی دے رہی ہے لیکن اپنا چھن گیا روزگار نہیں دکھائی دے رہا ہے۔مرکزی حکومت ایک حکمت عملی کے تحت ان ناعاقبت اندیشوں کو جذباتی، مذہبی معاملات میں الجھائے رکھ کر ملک کے قیمتی اثاثے اپنے دھنا سیٹھ آقاؤں کے ہاتھوں فروخت کرتی جا رہی ہے۔ اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بے پروا یہ عناصر حکومت کے ہاتھ کا کھلونہ بن کر اپنی ہی تباہی کا دستاویز لکھ رہے ہیں۔راہل گاندھی انہی سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے کے لیے یہ قربانی دے رہے ہیں۔
اس یاترا کو لے کر حکومت کو جو فیڈ بیک مل رہا ہے، اس سے اس کے ماتھے پر فکر کی لکیریں بالکل واضح دکھائی دے رہی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بھلے ہی اس نے گجرات میں نام نہاد شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور رام پور میں اعظم خان کے قلعہ کو مبینہ طور سے مسمار کر دیا ہے لیکن اس کامیابی کے پس پشت تلخ حقیقت کیا ہے، یہ مودی، امت شاہ، یوگی ، آر ایس ایس کی قیادت سمیت ملک کا ہر ذی شعور شخص جانتا ہے لیکن رام پور ہر جگہ، ہر وقت، ہر الیکشن میں نہیں دوہرایا جاسکتا اور صرف گجرات ہی ہندوستان نہیں ہے۔میڈیا مینجمنٹ کے ذریعہ ہماچل پردیش چھن جانے کا ذکر بھی منظرعام پر نہیں آنے دیا جاتا جہاں98فیصد آبادی ہندوؤں کی ہے اور نئے وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے ببانگ دہل کہا کہ 98فیصد ہندوؤں نے آر آر ایس برانڈ ہندوتو کو مسترد کر دیا ہے۔ اترپردیش میں وہ بھی مغربی اترپردیش کی کھتولی سیٹ اور مین پوری کی پارلیمانی سیٹ بھی ہاتھ سے نکل گئی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ یوگی حکومت فی الوقت بلدیاتی الیکشن نہیں کرانا چاہتی، معاملہ عدالت میں ہے، تادم تحریر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے ضمنی الیکشن میں بھی بی جے پی شکست سے دو چار ہوئی۔ بہار میں ایک باغی کی وجہ سے اسے کامیابی ضرور مل گئی لیکن عام انتخابات میں بہار میں کیا ہوگا، یہ بی جے پی اچھی طرح دیکھ رہی ہے۔لیکن بی جے پی کے ترکش میں ابھی کئی تیر ہیں۔ بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ ان تیروں کو آزمانے میں جی جان سے جٹے ہیں اور یوگی ہوں یا ہیمنت بسوا سرما، چاہے بومئی ہوں یا شیوراج چوہان، سب مسلم دشمنی میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ سب کے سروں پر الیکشن سوار ہے اور سب کو ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا بھوت بھی پریشان کیے ہوئے ہے۔ ادھر مودی-امت شاہ کی جوڑی کو علاقائی لیڈروں کا ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں شامل ہونا بھی خطرہ کی گھنٹی لگ رہا ہے۔بحیثیت مجموعی بی جے پی کے لیے آنے والے دنوں میں حالات سازگار نہیں دکھائی دے رہے ہیں لیکن اسے کمتر اور کمزور سمجھنا بھی عقل مندی نہیں ہوگی۔
آئندہ عام انتخابات ہندوستان کی آئینی جمہوریت کا مستقبل طے کریں گے جسے بچانے کی ذمہ داری اکیلے راہل گاندھی کی نہیں ہے، اکیلے کانگریس کی بھی نہیں ہے، سبھی پارٹیوں اور سبھی علاقائی لیڈروں اور خود ہندوستانی عوام کو اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔جنگ کی مثال سے اسے اور بہتر طریقہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آج کی جنگ میں پہلے فضائیہ دشمن کے علاقوں اور اس کے اسٹرٹیجک ٹھکانوں پر بمباری کر کے اسے مفلوج کرتی ہے اور تب زمینی فوج آگے بڑھ کر اس پر قبضہ کرتی ہے۔ راہل گاندھی نے فضائیہ کا کردار ادا کر دیا ہے، اب یہ کانگریس کی تنظیم کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی لیڈ روں کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھ کر قبضہ کریں۔کھڑگے جی کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کریں اور دیگر علاقائی لیڈروں کو جوڑیں۔ راہل نے اپنی تپسیا سے حالات سازگار کر دیے ہیں۔ایک بات عوام کو بھی یاد رکھنی ہوگی، نفرت اور عدم اعتماد کی سیاست نے اس ملک کو تقسیم کرا دیا تھا، اس منحوس سیاست کو گلے لگانے کا مطلب ملک کے اتحاد اور سالمیت سے خطرناک کھلواڑ ہوگا۔ خدارا نفرت اور عدم اعتماد سے اجتناب کریں۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]